صفحہ اول | خبریں | میرین دھماکے کی زد میں بغیر کسی ضرر کے اُٹھ کھڑا ہوا
میرین دھماکے کی زد میں بغیر کسی ضرر کے اُٹھ کھڑا ہوا
منجانب Sgt. Mark Fayloga, Regimental Combat Team 7
1000712unbreakable

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

جنوبی شورسوراک، افغانستان ( 12 جولائی، 2010) – کارپورل میٹ گارسٹ آسانی سے ہلاک ہو سکتے تھے۔

ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جو ایک خود ساختہ بم کے اوپر قدم رکھنے کے بعد زندہ بچ نکلتے ہیں اور ان میں سے بھی اور کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اس دھماکے سے براہ راست زور دار چوٹ کھا کر اُسی دن اپنے پا‌ؤں پر چل نکلتے ہیں اور گارسٹ ان شخصیات میں سے  ایک ایسے شخص ہیں۔

23 جون کو جنوبی شورسوراک، افغانستان میں تیسری میرین رجمنٹ، تیسری بٹالین میں سکواڈ کے قائد گارسٹ آپریشن نیا سویرا کی اعانت میں گاڑیوں کی ایک چیک پوائنٹ قائم کرنے کے لیۓ اپنے سکواڈ کی ایک گشت کی قیادت کر رہے تھے۔

یہ افراد لیما کمپنی کی نئ قائم کی گئ مشاہدے کی چوکی سے چار میل کے فاصلے پر تھے جب وہ ایک متروکہ احاطے کے قریب پہنچے جہاں ان کو اپنا چیک پوانئٹ قائم کرنے کی ضرورت تھی۔ یہ کاروائی کرنے کے لیۓ ایک اچھی جگہ رہے گی – ایک  ایسی جگہ جہاں اسکواڈ اپنا رسل و رسائل قائم اور میرینز کو باری باری متعین کرسکے گا، لیکن پہلے اس کو محفوظ بنانے کی ضرورت تھی۔

انہوں نے جب اس علاقے کا دھات کے سراغ لگانے والے آلے سے جائزہ لیا تو آلے نے آئی ای ڈی [خود ساختہ بم] کے لیۓ کوئی تنبیہہ نہیں کی۔ یہ بم بہت گہرائی میں دبایا گیا تھا اور اس کے دھاتی اثرات بہت کمزور تھے۔ دو افراد اس کے اوپر سے گزر گۓ اور یہ نہیں پھٹا۔

گارسٹ کا قد چھ فٹ دو انچ اور تمام ساز و سامان کے ساتھ وزن 260 پونڈ ہے۔ وہ اپنے اسکواڈ میں دوسرے افراد  سے 13 یا 18 کلو زیادہ وزن کے ساتھ باآسانی جسامت میں سب سے بڑے ہیں اور یہ اضافی وزن سخت زمین میں گہرائی میں دبے خود ساختہ بم کو تحریک دینے کے لیۓ کافی تھا۔

لانس کارپورل ایڈگر جونز کو اسکواڈ کے ساتھ ایک لڑاکا انجنینئر کو احاطے میں دباؤ ڈالنے والی ایک پلیٹ ملی اور انہوں نے گارسٹ کو یہ بتانے کے لیۓ کہ کیا کرنا چاہیۓ انہیں چلّا کر خبردار کیا۔ گارسٹ میرین کو جواب دینے کے لیۓ پیچھے مڑے اور ان کا پاؤں بم کے اوپر پڑ گیا۔

گارسٹ نے کہا کہ بس مجھے بمشکل ایک بلند آواز یاد ہے اور ایک تیز شور کا شروع ہونا یاد ہے اور پھر میں بیہوش ہو گیا۔

گارسٹ کے آئی ای ڈی  کے ساتھ ‏غیر متوقع حادثے کے بعد ان  کی کہانی باقی بٹالین میں پھیل گئ اور جیسا کہ اکثر لڑاکا یونٹس میں ہوتا ہے کہانی بدلتی جاتی ہے، کہانی زیادہ سے زیادہ غیر معمولی ہوتی گئی کہ اس کے بعد یہ ہوا اور وہ ہوا: اس پورے وقت انہوں نے اپنی رائفل کو پکڑے رکھا- حقیقت میں وہ اپنے پاؤں کے بل گرے، وہ ثابت قدم رہے، اس حادثے کے اثر کو اس طرح برداشت کیا جیسے وہ اپنے قدموں پر منجمد کھڑے ہوں۔

گارسٹ کو بھی سمجھ نہیں آئی کہ اصل میں کیا ہوا۔ جب ان کو مٹی کا ایک اٹھتا ہوا مکہ لگا تو بالکل اندھیرا چھا گیا۔ جب ان کو ہوش آیا تو وہ اپنے ہتھیار کو پکڑے اپنے پاؤں پر کھڑے تھے۔ وہ دھماکے کے باقی اثرات دیکھنے کے لیۓ مڑے اور حیران ہوئے کہ ان کے اسکواڈ کے چہروں پر ایسے تاثرات کیوں ہیں جیسے انہوں نے  کوئی بھوت دیکھا ہو۔

لیما کمپنی کے میرینز کا خیال ہے کہ بٹالین میں گارسٹ سب سے خوش قسمت شخص ہیں اور جبکہ یہ ایک معقول راۓ ہے یہ دشمن کا گھٹیا کام تھا جس کی وجہ سے گارسٹ اپنی جگہ کھڑے رہے۔  گھریلو ساخت کا تین لٹر دھماکہ خیز مواد صرف جزوی طور پر پھٹا تھا۔

جن میرینز نے یہ واقعہ احاطے کے اندر سے دیکھا ان کو عمارت کی آٹھ فٹ بلند دیوار کے دوسری طرف  صرف گارسٹ کے پاؤں کے فضا میں لہرانے کی جھلکیاں نظر آئیں۔  دھماکہ نے ان کو کم از کم پندرہ فٹ دور اچھال دیا جہاں وہ  اپنے  ڈھیلے بے جان سر اور کندھوں کے بل گرے اور پھر فوراً ہی واپس اٹھ کھڑے ہوۓ۔

گارسٹ کو پوری طرح ادارک نہیں تھا کہ ابھی ابھی کیا ہوا تھا، وہ دھماکے کی طرف مڑے جہاں اب سواۓ سورج کی طرف اٹھتے ہوۓ گرد وغبار اور دھویں کے کچھ نہیں تھا ۔

انہوں نے کہا کہ میرا پہلا خیال تھا کہ میں ابھی ابھی  ایک آئی ای ڈی سے  ٹکرا گیا ہوں۔  پھر میں نے سوچا کہ خیرمیں اپنے پاوں پرکھڑا تو ہوں تو یہ تو اچھی بات ہے۔

گارسٹ کا اسکواڈ ان کو غیر یقینی کیفیت میں گھور رہا تھا۔ چوڑے جبڑے والے یہ میرین ‏غصّے میں جلدی آ جاتے ہیں اور اس خیال سے کہ اس دھماکے کا مقصد ان  کو مارنا  تھا ان کا خون کھول اٹھا اور وہ غصّے میں آ گۓ۔

انہوں نے کہا کہ اس نے مجھے ‏غصّہ دلا دیا۔

انہوں نے اپنے آدمیوں کو حفاظتی احاطہ بنانے کی ہدایات دیں اور ان کو اپنے طریقے سے سمجھایا کہ وہ بلکل ٹھیک تھے۔

انہوں نے کہا کہ اوے تم کیوں اس طرح گھور گھور کر دیکھ رہے ہو؟  چلو گھیرا مکمل کرؤ!

گارسٹ نے جلد ہی چھاونی کو ایک دھماکہ خیز مواد سے نپٹنے کی ٹیم [ای او ڈی] اور ایک فوری رد عمل کی فورس بھیجنے کے لیۓ  ریڈیو پر پیغام بھیجا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ان سے رابطہ کیا اور کہا کہ ارے  میرے پر ابھی ابھی ایک دھماکہ ہوا ہے، چلو تیار ہو جاؤ۔  پہلے تو اس نے سوچا کہ میں مذاق کر رہا ہوں اور کہا کہ تم ابھی ایک دھماکے سے نکلے ہو تو مجھ سے رابطہ  کیسے کر رہے ہو، چلو، بھاگو یہاں سے۔'

جب ای او ڈی نے علاقے کو صاف کر دیا، گارسٹ اپنے اسکواڈ کو چھ کلو میٹر اپنے مشاہدہ کرنے کی چوکی پر واپس لے گۓ اور یہ  آئی ای ڈی کے دھماکے کے محض چار گھنٹے بعد ہوا جس نے ان  کو چیتھڑے کی ایک گڑیا کی طرح اچھال دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ میرے لیۓ وہاں پر موجود تھے میں کسی اور کو اپنے اسکواڈ کو واپس لے جانے کی اجازت نہیں دے سکتا تھا۔ یہ میرا کام تھا۔

اگلے دن جب گارسٹ سو کر اٹھے ان کے سر میں شدید درد ہو رہا تھا اور وہ اس قدر تکلیف میں تھے جو اس سے پہلے انہوں نے زندگی بھر محسوس  نہیں کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ سونے کی کوشش سے محض اٹھنا ہی بہت تکلیف دہ تھا۔

لیکن ان کی نظر میں یہ تکلیف ان کی رفتار کم کرنے کی وجہ نہیں بن سکتی تھی۔ انہوں نے کچھ اسپرین کی گولیان نگلیں اور ایک دن کے آرام کے بعد اپنی گشت پر واپس چلے گۓ۔ انہوں نے میرینز اور دشمنوں کو دکھا دیا کہ اپنے عزم کی طرح وہ خود بھی ناقابل شکست ہیں۔  

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 25 times

فیس بُک پر دوست
33,182+