صفحہ اول | خبریں | چَرس کے بغیر کمائی: افغان کسان قانونی طور پر جائز فصلوں کو اگانے کے قابل ہوگئے
چَرس کے بغیر کمائی: افغان کسان قانونی طور پر جائز فصلوں کو اگانے کے قابل ہوگئے
منجانب Sgt. Brendan Mackie, Army News Service
120801_cashcrops
سٹیو ٹویلا امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کے ساتھ ایک فیلڈ پروگرام افسر، 22 جولائی، 2012 کو حاجی نکال، افغانستان کے گاؤں کھیرے کے کھیت میں داد اللہ سے گفتگو کرتے ہوۓ۔ یو ایس ایڈ اور آرمی سول معاملات کی ٹیمیں مقامی کسانوں کے ساتھ اکثر بغیر تیاری کے اجلاسوں کرتی ہیں تاکہ زراعی اعتبار سے فصلوں کو بہتر بنانے کے طریقوں کو سمجھا جا سکے۔ (فوٹو منجانب سٹاف سارجنٹ برینڈن میکی)

فارورڈ آپریٹنگ بیس سپن بولدک، افغانستان (31 جولائی، 2012) –، امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی اور امریکی سول امور کی مدد کے ساتھ، افغانستان میں کسان بھارت اور دبئی کی مارکیٹوں میں غیر قانونی فصلیں بیچنے کے مقابلے اب زیادہ قیمتوں کی قانونی فصلیں مثلاً خربوزے فروخت کرنے کے لیۓ تاجروں کے ساتھ رابطہ کیۓ ہوۓ ہیں۔

منشیات اور جرائم پر اقوام متحدہ کے دفتر کی طرف سے ایک رپورٹ کے مطابق منشیات افغانستان میں سب سے زیادہ منافع بخش نقد فصل ہے، کسان 9،000 ڈالر سے زیادہ کی سالانہ آمدنی پیدا کرتے ہیں ۔ گزشتہ سال، روبات کے علاقے میں ایک کسان نے  منافع بخش فصل اگا کر اپنی آمدنی دگنی کر دی اور یہ میٹھے خربوزوں کی فصل قانونی بھی تھی ۔

سٹیوو ٹویلا، امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کے لئے ایک فیلڈ پروگرام، جو یو-ایس ایڈ کے طور پر جانا جاتا ہے،  کے ایک افسر  ہیں نے کہا کہ "پیداوار مثلاً انار، خوبانیاں، بادام، انجیر، خربوزے، انگور اور پستے ان نئے بازاروں میں تیزی سے مہنگے دام وصول کر رہی ہیں " ۔ "امن و استحکام میں اضافہ کسانوں کو اپنے ملک میں جنگ کی تباہ کاریوں کے خوف کے بغیر اپنے کاروبار میں زیادہ وقت اور پیسے لگانے کے قابل بناتی ہے۔"

افغان کسانوں کوجائز قانونی فصلیں اگانے کے لیۓ پانی کی قابل اعتماد رسائی کی ضرورت ہے جو کہ قندھار صوبے خشک سالی، جو 1990 کی دھائی میں شروع ہوئی، کی وجہ سے مہنگا ہے۔ ٹویلا نے کہا کہ ہمسایہ پاکستان کے تاجر انھیں اکثر افغان مصنوعات پر کم شرح کے بدلے میں پانی کے اخراجات میں مالی قرضوں کی مدد فراہم کرتے ہیں۔

کیپٹن پین لورینٹ، سول امور کی ٹیم 613 کے ساتھ ٹیم کے سربراہ نے کہا کہ "ان [افغان] لوگوں کی ایک بڑی تعداد صرف گزارہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، ایسا دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگ پاکستان کی طرف سے قرض سے کبھی بھی چٹکارہ حاصل نہیں کر پاتے" ۔  وہ، کم و بیش مشکل سے گزارہ کر رہے ہیں۔"

یہ وہ موقع ہے جہاں یو-ایس ایڈ کام آتی ہے۔ یہ تنظیم مقامی کسانوں کو مختلف ذرائع سے قرض حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے جو پاکستان کے 'مڈل مین' پر انحصار منقطع کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے ایسا انھیں بہت منافع بخش مارکیٹوں میں موجود مختلف تاجروں، جو ان کی پیداوار کو خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، کے ساتھ رابطہ کروانے کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

یو-ایس-ایڈ ان کسانوں کو قرضوں اور نیٹ ورکنگ میں مدد کے علاوہ تربیت بھی فراہم کرتی ہے۔

ٹویلا نے کہا کہ "ہم نے انھیں ایک مضبوط کیڑے مار نظام، کیڑے مار دواؤں کا مناسب استعمال، ذاتی تحفظ، اور ان کیمیائی مواد کا مناسب طریقے سے ذخیرہ کرنے میں تربیت فراہم کی ہے" ۔ "جیسا کہ ہم نے نئی منڈیوں کو کھولنے میں مدد کی ہے، ہم نے انھیں چھانٹی، گریڈنگ اور ان مارکیٹوں کے لیے پیداوار کی پیکنگ میں بھی تربیت فراہم کی ہے۔"

سپین بولدک میں بھی یو-ایس ایڈ اور سول امور ساتھ مل کر کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ کسان اب اپنے تعاون کنندہ کَمیٹی بنا رہے ہیں جہاں وہ اپنی طاقت کو اپنی تعداد بڑھانے کے ذریعے  اپنے کاروبار میں ملکیت اور اقتدار حاصل کرسکتے ہیں۔

پچھلے سال سے لے کر اب تک تفریباً 200 کسانوں نے ضلع سپین بولدک ،روبات کے علاقے میں اس تعاون کنندہ گروہ میں شمولیت حاصل کر لی ہے۔

ٹویلا نے کہا کہ تعاون کنندہ کَمیٹی وسائل کی فراہمی کی یقین دہانی فراہم کرتے ہیں۔ اگر ایک کسان کی فصل ناکام رہتی ہے تو وہاں فراہمی کے دیگر ذرائع موجود ہیں" ۔ "فراہمی کی خرید ، فروخت اور سامان کو لانے، لے جانے اور فروخت کے اخراجات کو اکٹھا کرنے کی وجہ سے کسانوں کو ایسا انفرادی طور پر کرنے کی بہ نسبت، تعاون کنندہ کَمیٹی زیادہ مؤثر طریقے سے فی یونٹ کم قیمت پر کام کر سکتی ہے۔"

یہ تمام فعال اقدامات کسانوں کو قانونی فصلیں اگانے کے لئے ترغیبات ہیں۔ یہ اقدامات کسانوں کو مالی استحکام برقرار رکھنے کے لئے قانونی متبادل بھی فراہم کرتے ہیں۔

کسانوں کو ان کی غیر قانونی فصلیں اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت کی طرف سے تباہ ہونے کے خطرے کا سامنا ہے۔  ملک کے کچھ اضلاع میں پہلے ہی اس عمل کو شروع کیا جا چکا ہے، اور اس کے نتیجے کے طور پر کسانوں کے کاروبار کو نقصان پہنچا اور ان کے خاندانوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

ٹویلا نے کہا کہ "جیسے جیسے اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت کا یہ قدم غالب آتا ہے، کسانوں کو اپنی فصلوں، اور اہم آمدنی کُھونے کے خطرات بڑھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں" ۔ "اگر ایک کسان نے منشیات فروشوں سے قرض لیا ہے تو لوٹانے میں ناکام ہونے کے نتائج میں کسان اور اس کے خاندان کی حفاظت کے لیئے خطرے کا سبب بن سکتا ہے۔"

اگرچہ بہت سے کسانوں نے قانونی پیداوار کو بیچ کر فائدہ حاصل کیا ہے، ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کسانوں کی اکثریت کو غیر قانونی فصلوں سے حاصل شدہ قیمت یا اس سے بھی زیادہ حاصل کرنے میں کتنا وقت لگے گا۔

لورینٹ نے کہا کہ "اس بات کا تعین کرنے میں کئی سال لگیں گے ۔ کسانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ غیر قانونی فصلیں فروخت کرنا ان کی قوم کی ترقی میں مدد نہیں کر رہا ہے ۔"

شاد اللہ خان، افغان زیر قیادت روبات تعاون کنندہ کمیٹی کے نائب صدر نے کہا کہ ان کے کسان شکر گزار ہیں، اور انھوں نے تمام تربیت اور ان کی زندگی کے طریقہ کو بہتر بنانے کے لئے مدد کی پیشکش سے فائدہ اٹھایا ہے۔

خان نے کہا کہ "میرا خواب بنیادی طور پر دیگر بین الاقوامی مارکیٹ میں تجارت کرنے کا ہے" ۔ "تاکہ ان غیر قانونی فصلوں سے چھٹکارا حاصل کریں اور افغانستان کے لئے ایک بہتر نام پیدا کرپائیں۔"

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
33,148+