| نظامیہ کاعراق سے نکلنے کا عمل یکسانی کے ساتھ بڑھ رہا ہے |
منجانب , American Forces Press Service شئیرمتعلقہ خبریںواشنگٹن [14 نومبر، 2011] - جیسے ہی وہ اور ان کے فوجی اس ہفتے کے آخر میں گھر واپسی کے لئے تیاری کر رہے تھے، یونٹ کے کمانڈر جو کہ مشن کی نگرانی کرتے ہیں نے جنوری کے بعد رپورٹ میں کہا کہ عراق میں رسد کی واپسی کے عمل کی ترقی اچھی جا رہی ہے اور دسمبر 31 کی ڈیڈ لائن پوری وقت کے مطابق پوری ہو گی۔ فالکن نے کیمپ ورجینیا ، کویت سے امریکی افواج اخبار نویس سروس کو بتایا کہ انھوں اور ان کے فوجیوں نے اپنی مشترکہ مک گوائیرڈکس لیک ہرسٹ بیس، نیو جرسی کا انتظار کرتے ہوۓ کہا کہ یہ ایک بڑا متوازن عمل رہا ہے اور یہ ایک ایسی چیز تھی جس پر ہمیں ہر روز توجہ مرکوز کرنی تھی تاکہ [زمین پر فوج] کو ان کی ضروریات کے مطابق لیکن بہت زیادہ بھی نہیں فراہمی کی جا سکے۔
تو جب فوجی قافلے عراق بھر میں خوراک، پانی، ایندھن، گولہ بارود اور دوسری اہم ضروریات کی فراہمی کے لیۓ اڈوں پر پہنچے، فالکن اور ان کے فوجیوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ ان آلات کو پوری طرح بھرے ہوۓ چھوڑ کر جا رہے تھے جن کو بعد میں کویت اور بالآخر ریاستہاۓ متحدہ جانا تھا۔ جب ریاستہائے متحدہ امریکہ نے عراقی افواج اور دیگر امریکی تنظیموں کو آپریشن سونپے کا عمل شروع کیا تو 77ویں سسٹینمنٹ بریگیڈ عراق بھیجی جانی والی آخری یونٹوں میں سے ایک تھی. اس کے 300 فوجی جنوری میں یہاں پہنچے اور ایک اضافی 3،500 فوجی اور ایئرمین صدر دفتر کے عنصر کے طور تفویض کیۓ گۓ تاکہ وہ رسد کے منصوبے کو عملی جامہ پہنا سکیں۔ فالکن کی رپورٹ کے مطابق ان کی تعیناتی کے دوران ، انہوں نے 1،700 سے زیادہ کانواۓ چلاۓ، 4.2 ملین میل دور سے زیادہ کا سفر کیا، 120 ملین سے زائد گیلن کا ایندھن جاری کیا، 2،700 ٹن گولہ بارود باہر منتقل کیا اور 20 ملین پاؤنڈ کی آنے والی اور باہر جانے والے ڈاک کی نقل و حمل کی۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ گوداموں کو بند کر دیا اور سپورٹ آپریشن میں کمی کر دی گئی، انھوں نے 238 ملین ڈالر کا سامان، مرمت کے لیۓ پرزے اور دیگر سامان کی فراہمی محکمہ دفاع کی انوینٹری کو منتقل کر دیۓ۔ فالکن نے کہا کہ اچھی منصوبہ بندی، محنت اور سازگار موسم اڈوں کے کنٹرول کی عراقی حکومت کو منتقلی کو شیڈول کے مطابق یا اس سے بھی پہلے کرنے میں کام آیا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑے تین اڈوں کی منصوبے سے پہلے منتقلی، جن میں حال ہی میں مشترکہ بیس بلاد شامل ہے کو عراقیوں کو شیڈول سے تین ہفتے پہلے کو منتقل کیا گیا۔ فالکن نے کہا کہ اس سال کے آخر میں اس عمل کو مکمل کرنے کے شیڈول میں کچھ سکھ کا سانس لینے کے لیۓ ہم نے ان اڈوں منظم اور ذمہ دار طریقے سے بڑھتے ہوۓ منتقل کیا ہے۔ فالکن نے کہا کہ رسد کی واپسی کا کام چاہے جتنا بھی مشکل ہو، یہ حقیقت ہے کہ امریکہ کی کاروائی نئی صبح کی مدت تک کے لیے زمین پر موجودگي کا مطلب باقی فورسز کے لیۓ خوراک، گولہ بارود اور دیگر لوازمات کی فراہمی نے اس کو اور بھی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ فالکن نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ ہر روز خیموں میں رہیں اور بنے بناۓ کھانے کھائیں اور انھوں نےواپسی کے شیڈول سے پیوستہ رہتے ہوۓ ان کو جتنا عرصہ بھی ممکن ہو سکے بہترین معیار زندگی فراہم کرنے کے لئے کوشش کی۔ اب جب اڈے بند ہونے کے لیے تیار ہیں اور جو ٹھیکیدار وہاں کام کر رہے تھے گھروں کو واپس آ گۓ ہیں، فوجی ارکان نے جو کام ٹھیکیداروں نے کیا تھا اس کو سنبھال لیا ہے۔ انہوں نے کھانے کی سہولیات کی فراہمی، لانڈری اور دیگر خدمات کا ذمہ اٹھا لیا ہے۔ کچھ موقعوں پر، انھوں نے دیگر ملازمتوں کی بھی تربیت حاصل کی تاکہ اہم خدمات کا سلسلہ جاری رہے۔ مثال کے طور پر فالکن کے پانی صاف کرنے کے ماہرین نے ایندھن سنبھالنے والوں کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ دیگر سروس کے ارکان نے رضاکارانہ طور پر کرین آپریٹرز بننے کی حامی بھری، ان کاموں جن کے لیۓ ٹھیکیداروں کو لگایا گیا تھا. فالکن نے کہا کہ اچھی بات یہ ہے کہ انھوں نے کام کے لیۓ قدم آگے بڑھایا اور بہترین کام کیا۔ ہمیں بالکل بھی کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔ فالکن نے عراق میں ہونے والے ارتقاء کو شروع کے دنوں میں ہونے والے کاروائی عراقی آزادی، یا او آئی ایف کا الٹ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم سب سے پہلے 2003 میں عراق میں گۓ تھے، یہ ایک سنجیدہ ماحول کی طرح تھا اور اب جیسا کہ ہم ان کواڈوں کی منتقلی کر رہے ہیں، ہم فوجیوں کو اس سنجیدہ ماحول میں واپس بھیج رہے ہیں۔ فالکن نے اعتراف کیا کہ 31 دسمبر تک کے ہفتوں میں حالات مذید سنجیدہ ہو جائیں گے ان کی کارروائیوں کے نتیجے میں جو عراق میں موجود امریکی فوجیوں کے نکل جانے کے لیۓ کی جائیں گی۔ 77ویں سسٹینمنٹ بریگیڈ اب دوبارہ تعینات ہو رہی ہے، جو کہ فورٹ ہڈ ٹیکساس کی چوتھی سسٹینمنٹ بریگیڈ کا فعال جزو ہے اور مشن کی تکمیل کی نگرانی کریں گی۔ 77ویں بریگیڈ کے بہت سے فوجیوں نے اپنی تعیناتی میں توسیع کروا لی ہے تاکہ وہ چوتھی بریگیڈ کے ساتھ مل کر مشن کی تکمیل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ساتھ مل کر وہ اس کو صحیح طریقے سے کریں گے وہ اس کو وقت پر ختم کریں گے اور ذیادہ تر امکان اس بات کا ہے کہ وہ وقت سے پہلے ہی ختم کر لیں گے اور پھر وہ گھر چلے جائیں گے۔ فالکن نے کہا کہ عراق میں گزشتہ چکر کے برعکس، کوئی متبادل یونٹ ان کی جگہ لینے کے لیۓ نہیں آ ۓ گی۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کوئی یونٹ ہمارے بعد نہیں آ رہی ہے۔ تو جب ہم جائیں گے تو ہم سے جس کام کے لیۓ کہا گیا تھا وہ ختم ہو چکا ہو گا اور یہ کسی اور کو ختم کرنے کے لئے نہیں چھوڑا جاۓ گا۔ فالکن نے کہا کہ ان کے فوجی عراق میں تاریخی واپسی کے مشن میں اپنے کردار کے بارے میں پرجوش ہیں۔ انہوں نے ایک عام کارکن کا کام کیا ہے، دوسری عالمی جنگ سے لے کر اب تک کی سب سے بڑی واپسی کے آپریشن کے لیۓ ایک دن میں گھنٹوں کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں ان سے کہتا ہوں کہ جب وہ گھر جائیں تو ان کو اس کام پر فخرکرنا چاہیے جو انہوں نے اپنے سینے تان کر اور سروں کو بلند کر کے یہاں کیا ہے۔ جب وہ امریکہ کی سڑکوں پر چلیں تو يہ علم ميں رہے کہ انھوں نے اس آپریشن کو ایسے ختم کیا ہے جس طرح سے اسے ختم کیا جانا چاہئے تھا۔ انھوں نے شاندار کام انجام دیا ہے اور انھوں نے وہ سب کچھ کیا جس کا ملک نے ان سے تقاضا کیا تھا۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















