صفحہ اول | خبریں | ایک ترجمان کے تاریک ترین پل اس کی زندگی میں اس کی رہنمائی کرتا ہے
ایک ترجمان کے تاریک ترین پل اس کی زندگی میں اس کی رہنمائی کرتا ہے
منجانب Sgt. Bobby Yarbrough, Regional Command Southwest
021913_USMC_Linguist
دینار احسان جنگ کے دوران بڑے ہوۓ اور افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں سے آگا ہیں ۔ (فوٹو منجانب سارجنٹ بابی جے۔ یاربروہ)

کیمپ ڈؤئر، افغانستان- دینار احسان کی عمر صرف 18 سال تھی جب طالبان کے فوجیوں نے ان کے والد کو مار ڈالا، ان کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کرتے ہوۓ۔

ان کے والد، عبدل، مائیکروسافٹ کے لئے ایک کمپیوٹر انجینئر، کابل میں ایک پرواز سے اتر ے اور ایک بس پر چڑھے جب طالبان کے فوجیوں نے اس بس کو روک لیا ۔ عبدل پانچ سال پہلے جرمنی فرار ہو گئے تھے ان کی حکومت کے پرتشدد دور سے بچنے کے لئے۔ طالبان نے اس کے جسم میں 30 گولیاں اتار دیں۔

دینار کی ماں کو اس کی زندگی کا خوف تھا، تو اس نے اسے مٹھی بھر رقم دی اور اس سے کہا کہ وہ افغانستان سے فرار ہو جاۓ۔ دینار ایک بس میں سوار ہوا اور پاکستان کی طرف چل پڑا۔ افغانستان سے نکلتے ہوۓ راستے میں دینار نے طالبان کے ہاتھوں لوگوں پر ہر طرح کے تشدد دیکھے۔

دینار نے کہا کہ "اس دن جب میں پاکستان کے راستے پر تھا تو مجھے اب بھی خون سے لت پت لاشیں یاد آئیں ۔ مجھے ابھی بھی افغانستان بھر میں سڑکوں کے ساتھ ساتھ بکھری مردوں، عورتوں، اور بچوں کی لاشیں یاد.ہیں۔ میں بہت الجھن میں تھا۔"

وہ کراچی، پاکستان میں ایک بہت بڑے افغان پناہ گزین کیمپ پہنچ گيا۔ دینار جس کی مادری زبان دری اور پشتو ہے، نے کیمپ کے اندر کام ڈھونڈنا شروع کر دیا۔ کابل میں ہائی اسکول کے دوران، اسے انگریزی میں روانی حاصل ہو گئی تھی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ دیگر افغانوں کو زبان کی مہارت سکھانا چاہتا تھا۔

دینار نے پاکستان امریکی ثقافت سینٹر میں شمولیت اختیار کر لی اور زبان دان بن گیا۔ اس نے کیمپ کے اندر موجود افغانیوں جن میں زیادہ تر ہزارہ اور شیعہ تھے، کو انگریزی اور کمپیوٹر کی صلاحیتیں سکھانی شروع کر دیں۔ 10 سال تک، اس نے تقریبا 60،000 پناہ گزینوں کو انگریزی اور کمپیوٹر کلاسیں پڑھائیں۔

"وہ لوگ جنہوں نے میری کلاس میں شرکت کی ان میں سے بہت کم کو رسمی تعلیم حاصل تھی ۔ زیادہ تر مشکل سے پشتو یا دری لکھنا پڑھنا جانتے تھے، اور اس سے بھی بہت کم انگریزی جانتے تھے۔ میری کلاس کے اختتام پر، بہت سے طالب علم ان تینوں زبانوں میں ماہر تھے۔"

2007 ء میں القاعدہ نے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو قتل کر دیا اور پاکستان میں استحکام بگڑنا شروع ہو گیا۔ فرقہ وارانہ جھڑپیں ملک بھر میں بڑے پیمانے پر شروع ہو گئیں اور بہت سے علاقوں رہنے کے لئے خطرناک ہو گئے۔

افغانستان واپسی

2009 میں، دینار نے پاکستان فرار ہونے کے لیۓ کابل واپس آ گیا۔ اس نےجو کچھ دیکھا اس پر یقین نہیں آیا۔ جب وہ یہاں سے چھوڑ کر گيا تھا، کابل کا بنیادی ڈھانچے بہت پسماندہ تھا اور طالبان کی جابرانہ حکومت کے تحت اس کے بہت سے لوگوں کو غربت میں دھکیل دیا گیا تھا۔ لیکن اب، پورا شہر مختلف دیکھتا تھا۔

"میں نے بہت سی نئی عمارتیں، بہت سی نئی گاڑیاں، اور لوگوں کو سڑکوں پر آزادانہ طور پر چلتے پھرتے دیکھا،" دینار نے کہا۔ "میں نے سوچا، یہ وہ جگہ نہیں ہو سکتی۔ یہ کابل نہیں ہو سکتا۔ میں نے جب ان چیزوں کو دیکھا، تو میں جان گیا تھا کہ طالبان کا وقت ختم ہو گیا تھا۔"

دینار نے افغانستان میں اتحادی افواج کے اثرات کو دیکھا اور فیصلہ کیا وہ ان کے لئے ایک زبان دان بننا چاہتا تھا۔ اس نے اپنا پیکج پیش کیا، لسانیات کا امتحان دیا، اور وہ صوبہ ہلمند کو تفویض ہو گیا۔

2010 میں، دینار کو افغان نیشنل آرمی کے کندک مشاورتی ٹیم کے ایک حصے کے کے طور پر سیکینڈ بٹالین، سیکینڈ میرینز کو تفویض کیا گیا تھا۔ یونٹ نے صوبہ ہلمند جانے سے پہلے کابل میں ایک ماہ کے لئے تربیت حاصل کی۔ دینار اور میرینز نے اپنے سفر کے دوران بھاری حملوں، چھ خود ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) اور 17 گھات لگا کر کیۓ گۓ حملوں کا سامنا کیا۔ مرینز اور اے-این-اے نے ان رکاوٹوں کو پرے دھکیلتے ہوۓ مرجہ میں واقع کندک تک پہنچے۔

دینار اس وقت سے ہلمند میں میرینز کے ساتھ خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے میرین کور کو کامیاب دیکھنے کے لیۓ اپنی زندگی اور اعضاء کو خطرے میں ڈالا ہے۔ 2011 میں، وہ بارودی سرنگ سے محفوط مزاحم گھات گاڑی کے اندر تھے جب اس کی ٹکر200 پاؤنڈ کی آئی-ای-ڈیسے ہوئی۔ گاڑی کے اندر کوئي ہلاک نہیں ہوا، تاہم دینار کو بہت چوٹیں آئیں جن میں ایک ٹوٹا ہوا جبڑا اور ٹوٹے ہوۓ دانت بھی شامل تھے۔

مستقبل

دینار اس وقت اتحادی افواج کی مشاورتی ٹیم کے ایک رکن کے طور پراے-این-اے فرسٹ بریگیڈ، 215 ویں کور کے ساتھ کام کرتا ہے۔ وہ کمانڈنگ افسر کے رہنما مترجم کے طور پر کام کرتا ہے. ۔اے این اے کے ساتھ کام کرتے ہوۓ دینار نے افغانستان میں تبدیلی دیکھی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے مستقبل میں پرامید ہے۔

دینار نے کہا کہ "میں جنگ کے دوران پیدا ہونے والا بچہ تھا، روسی حملہ اور پھر طالبان کی حکومت کے ساتھ" ۔ "لیکن میں نے ایک عظیم تبدیلی دیکھی ہے۔ اس ملک کے بچوں کے پاس بالاخر مستقبل ہے۔ لوگوں کی اکثریت نے ایک معمول کی زندگی گزارنے کی ایک وجہ حاصل کر لی ہے۔

دینار کا کہنا ہے کہ ذاتی طور پر وہ امید کرتا ہے کہ ایک دن وہ ویزا حاصل کر کے امریکہ کا سفر کرے گا۔ وہ کالج جانا چاہتا ہے اور تدریس کی تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے، تاکہ ایک دن وہ افغانستان واپس آ کر وہ بنے جس نے پہلے ہی سے اس کی زندگی کو معنی بخشا ہے—ایک استاد۔

دینار نے کہا کہ "تعلیم ہی صرف وہ ایک طاقت ہے جس کے ساتھ آپ لڑ سکتے ہیں" ۔

 

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 19 times

فیس بُک پر دوست
33,142+