| افغانی اور برطانوی دستوں کی کارکردگی کے باعث ٹینگیی میں زندگی واپس لوٹ رہی ہے۔ |
منجانب , UK Ministry of Defence شئیرمتعلقہ خبریں
ٹینگیی، افغانستان (29 جون، 2010) - کاجاکی ڈیم کے دامن میں چھوٹا سا قصبہ ٹینگیی تقریباً پانچ سال سے ویران پڑا ہے، اس کے لوگوں کو طالبان نے باہر نکال دیا ہے۔ موٹرسائیکل اور کار کے پُرزے، ذاتی اشیاء اور گھریلو استعمال کی چیزیں، ٹوٹی پھوٹی دوکانوں کے اگلے حصّے کے سامنے جن کے شٹرخمیدہ اور مڑے ہوۓ ہیں، گلیوں میں بکھری پڑی ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ٹینگیی کے لوگ اس علاقے کو جلدی میں چھوڑ چلے گۓ تھے۔ برطانوی اور اب امریکی علاقے میں موجودہ فوجی اور ایک بہت مضبوط افغانی قومی پولیس کی موجودگی کے باعث لوگ آہستہ آہستہ ٹینگیی واپس آنا شروع ہو رہے ہیں۔ قصبے میں ایک بیکری پھر سے کھل گئ ہے۔ فی الحال صرف دو گھرانے اس کے گاہک ہیں مگر یہ افغانی قومی پولیس اور ایساف کے دستوں کو بھی چیزیں بیچ رہے ہیں۔ نانبائی محمد بلال لکڑی کے ایک ٹوٹے ہوۓ دروازے پر روٹی گوندھتے ہوۓ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ سے کہا کہ اسوقت تو سب ٹھیک لگ رہا ہے اور ہمیں کوئی تنگ نہیں کرتا لیکن ہم ایک سال تک دیکھیں گے کہ کیا صورت حال ہوتی ہے۔" نانبائی کی اس پرامیدی کی وجہ پولیس کے مقامی سربراہ حاجی فیض اللہ ہیں۔ ان کی 48 افسران پر مشتمل فورس سدا موجود طالبان کے خطرے سےقصبے کو محفوظ بنانے کے لیۓ بڑی غیر معمولی کوششیں کر رہی ہے۔ وہ پانچ اڈوں اور چیک پوائنٹس پر پھیلے ہوۓ ہیں اور نہ صرف ٹینگیی بلکہ دور دراز کے دیہات کا تحفظ کر رہے ہیں۔ فیض اللہ کہتے ہیں کہ ہم ہر رات صبح تک گشت کرتے ہیں جب کہ ایساف کے دستے پہاڑوں کی جانب نظر رکھتے ہیں۔ یہ دشمن کو دور رکھنے کے لیۓ کیا جاتا ہے۔ یہ علاقہ بہت سر سبز ہے جہاں بہت سارے درخت اور نیچےجھاڑیاں ہیں اس لیۓ جب ہم گشت نہیں کرتے تو یہ سرکتے ہوۓ نزدیک آ سکتے ہیں۔ فرار ہونے پر مجبور کر دیا گیا ایک آدمی جس کا نام خالد وال ہے ٹینگیی کو بچانے کی جنگ میں شامل ہونے کے لیۓ واپس آیا ہے۔ پانچ سال پہلے تک اس کی بازار میں ایک درزی کی دوکان تھی جب اسے اور اس کے گھر والوں کو فرار ہونے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ وال نے کہا کہ میں تین سال کے لیۓ بطور پولیس کا سپاہی بھرتی ہو گیا ہوں۔ اگر بازار دوبارہ کھل جاتے ہیں اور دوسرے کاروباری لوگ واپس آ جاتے ہیں تو پھر میں اپنی دوکان کھول لوں گا۔ عصمت اللہ اپنے خاندان کو ٹینگیی واپس لے آیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ طالبان گذشتہ سال اس کے کھیت میں آۓ اور اس کو کوئی وجہ بتاۓ بغیر اس کی ساری فصل جلا کر چلے گئے۔ سالوں کے ڈرانے دھمکانے کو برداشت کرنے کے بعد وہ اپنے گھر والے 13 افراد کے ساتھ اپنے سابقہ گھر واپس آ گۓ۔ عصمت اللہ کہتے ہیں کہ ہم رات کے وقت خاموشی سے لوٹ آۓ۔ طالبان کو نہیں معلوم تھا کہ ہم سب کُچھ چھوڑ چھاڑ کر یہاں سے نکل رہے ہیں۔ ہم یہاں بہت محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ اب وہ لشکر گاہ میں پولیس کے تربیتی کالج جہاں وہ افغانی قومی پولیس (اے این پی) میں سرکاری اندراج کرانے کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔ لوگ ہر طرف سے آ رہے ہیں گذشتہ دو ہفتوں میں عبدالستار نے بھی اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ ٹینگییی میں پناہ لی ہے۔ وہ بھی لشکر گاہ تربیت حاصل کرنے جائیں گے، اسی طرح پولیس چیف کی فہرست پر ایک اور نام کا اضافہ ہو جاۓ گا۔ پولیس کے سپاہی مرجان کہتے ہیں کہ ہم اپنے آپ کو اپنے ملک کے لیۓ، اپنے خاندان والوں کے لیۓ، اپنی جگہ کے لیۓ خطرے میں ڈالتے ہیں۔ اس کے ساتھی پولیس کے سپاہی عبد الرشید نے اضافہ کرتے ہوۓ کہا کہ طالبان بہت ظالم لوگ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے خاندان کی اعانت کرنے کے لیۓ اپنی زندگی خطرے میں ڈالی ہے۔ پولیس کے سربراہ فیض اللہ اس قصبہ میں پید ا ہوۓ اور یہیں پلے بڑھے اور انہوں نے اپنی ساری ملازمت ٹینگیی میں گزاری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ طالبان کے آنے سے پہلے بازار کھلے تھے اور 200 دوکانوں کے ساتھ کاروبار پھل پھول رہے تھے۔ یہاں مویشیوں کی ایک منڈی تھی اور چاروں طرف سے لوگ یہاں آیا کرتے تھے۔ میری خواہش یہ ہے کہ ادھر دوبارہ ویسا ہی ہو جاۓ لیکن اگر ہمیں طالبان کو ہمیشہ کے لیۓ باہر نکالنے کے قابل ہونا ہے تو ہمیں حکومت کے وسائل کی ضرروت پڑے گی۔ قصبوں میں باقاعدگی سے گشت ٹینگیی میں اے این پی کے اتنے مضبوط ہونے کی بہت سی وجوہات میں سے ایک سکاٹس گارڈز کے سارجنٹ میجر جان براؤن ہیں۔ وہ فروری سے 40 کمانڈو کے ساتھ بحیثیت پولیس کے ایک صلاح کار منسلک ہیں۔ وہ ٹینگیی میں پولیس کے سپاہیوں کے ساتھ گشت میں شامل ہوتے ہیں اور ان کو طبی ہنر اور خود ساختہ بموں کے انسداد کے طریقے سکھاتے ہیں۔ وہ جن لوگوں کو اپنا دوست گردانتے ہیں اُنہیں دوسری جگہوں پر اور افسروں کو تربیت دینے کے لیۓ چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے ہیں، لیکن وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان لوگوں کو اب ان کی [جان براؤن کی] ضرورت کم ہو گئی ہے۔ یہ اپنے پیشے میں بہت ماہر اور بڑھ چڑھ کر عمل کرنے والے لوگ ہیں۔ اکثر اوقات یہ ایساف سے مدد نہیں مانگتے، بس یہ اپنے طور پر باقاعدگی کے ساتھ صبح سویرے قصبوں کی گشت پر نکل جاتے ہیں۔ ان کو یہ بتایا نہیں جاتا کہ یہ بس کر دیتے ہیں۔ پولیس کے سربراہ عملاً ان کو جتنی دور محفوظ طریقے سے بھیج سکتے ہیں بھیج دیتے ہیں۔ یہ یہاں پر موجود مقامی لوگوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اگلی نسل کو ایک قابل عمل مستقبل فراہم کیجیۓ ایساف کے دستے اب ٹینگیی کی گلیوں میں بلا خوف وخطر چل پھر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہاں پر موجود اے این پی نے بھی پہاڑوں کے دامن میں واقع اپنے گشت کے اڈوں کےارد گرد میلوں تک کے علاقے پر نظر رکھی ہوئی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں برطانوی اور امریکی میرینز شانہ بہ شانہ علاقے کی ذمہ داری منتقل کرنے کی تیاری کررہے ہیں تا کہ برطانوی [میرینز] سینگن میں دستوں کو کمک پہنچا سکیں۔ اگرچہ ڈیم کو بچانا بہت ضروری ہے کیونکہ یہ ہلمند اور قندھار کے صوبوں کے بڑے علاقے کو بجلی فراہم کرتا ہے، ٹینگیی کی آہستہ آہستہ واپس آتی ہوئی آبادی اور اس کے ارد گرد کے دیہات کی حفاظت ہماری پہلی ترجیح ہے۔ اگر ان کو اگلی نسل کے لیۓ ایک قابل عمل مستقبل فراہم کرنا ہے تو ان کو معاملات کو درست کے لیۓ مدد اور تعمیر نو کے منصوبوں کی ضرورت ہوگی۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















