| لیتھرنیک کے رہنماوں نے مسلمان فوجی بھائیوں کے ساتھ رمضان المبارک کے مہینے میں ملاقات کی |
منجانب Sgt. James Mercure, Regional Command Southwest شئیرمتعلقہ خبریں
میجر جنرل چارلس گورگانس کیمپ لیتھر نیک پر افغان ثقافت مرکز میں 7 اگست کو مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان میں افطار، یا روزہ کھولتے وقت، ایک افغان بزرگ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب سارجنٹ جیمز مرکیور)
کیمپ لیتھرنیک، افغانستان (9 اگست، 2012) - اتحادی رہنماؤں، صوبائی گورنرز اور افغان عمائدین نے، 7 اگست کو رمضان کے بابرکت مہینے میں افغان ثقافتی مرکز کیمپ لیتھر نیک میں ملاقات کی۔ اس مہینے کے دوران، دنیا بھر کے مسلمان سورج طلوع ہونے کے بعد پورا دن روزہ رکھتے ہیں اور صرف سورج غروب ہونے کے بعد ہی کھانا کھاتے ہیں۔ روزہ کُھولنے کو افطار کے طور پر جانا جاتا ہے اور ثواب کی غرض سے دوسروں کے ساتھ مل کر کیا جا سکتا ہے، جو کہ اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے۔ عبد الکریم براہوئی، نمروز صوبائی گورنر نے کہا کہ "آج کی دعوت یہاں تمام افواج کے درمیان اتحاد کی علامت ہے" ۔ ہلمند کے صوبائی گورنر گلاب مینگل نے بھی کھانے میں شرکت کی۔ شام کے دوران شراکت داروں نے نماز پڑھی ، افغانی کھانا کھایا، اپنی کہانیاں سنائیں اور افغانستان کے مستقبل کے بارے میں بات کی اور ملک میں استحکام لانے کی کوشش میں ایک ساتھ مل کر خدمت کرتے ہوۓ ایک گہرا تعلق قائم کیا۔ میجر جنرل چارلس گورگانس، علاقائی کمان جنوب مغرب کے کمانڈنگ جنرل نے کہا کہ "تمام اتحادی افواج کی جانب سے، ہم آپ کے لیئے ایک پُرامن رمضان المبارک کی دعا کرتے ہیں، اور ہمیں اُمید ہے کہ اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر ہم امن حاصل کر لیں گے" ۔ تقریبات میں شرکت اور مقامی رسم و رواج کا احترام کرنے سے مرینز اور دیگر اتحادی افواج کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد ملتی ہے اور مختلف ثقافتوں کے درمیان اعتماد اور افہام و تفہیم پیدا ہوتی ہے۔ رمضان المبارک باقاعدہ طور پر تقریباً 30 کے لیئے ہوتی ہے اور یہ نہ صرف ایک بابرکت وقت ہے، بلکہ مہینے بھر خود پر قابو رکھنے اور نظم و ضبط سیکھنے پر زور دیتا ہے. |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















