| آخری امریکی جنگجو بریگیڈ کی عراق سے روانگی |
منجانب Sgt. Kimberly Johnson, 196th Mobile Public Affairs Detachment شئیرمتعلقہ خبریں
بغداد (18 اگست، 2010) –جبکہ آخری جنگجو بریگیڈ عراق سے روانہ ہو رہا ہے عراق سے فوجی دستوں کے ذمہ دارانہ انخلا کے حصے کے طور پر امریکی ڈویژن 13 اگست کو سینٹر کے دوسرے انفنٹری ڈویژن کی چوتھی اسٹرائیکر بریگیڈ کی جنگجو ٹیم کے سپاہیوں کی پہلی لہر بغداد سے روانہ ہو گئی۔ امریکی ڈویژن - سینٹر کی دوسری پیادہ ڈویژن کی چوتھی اسٹرائیکر بریگیڈ کی جنگجو ٹیم کی 702 ویں بریگیڈ سپورٹ بٹالین کے سپاہیوں نے بغداد اور اسکے گرد و نواح کے علاقے میں عراقی حفاظتی افواج کی مدد، تربیت اور مشاورت کیلیے اپنی سال بھر کی تعیناتی کے بعد گھر جانے کی تیاری کرلی۔ 2003 میں ابتدائی حملے کے دوران اور 2007 میں امریکی افواج میں اضافے کے دوارن تعینات ہونے والے 702 ویں بریگیڈ سپورٹ بٹالین کی کمپنی بی کے پلاٹون سارجنٹ اور سالم، مسوری کے رہنے والے اسٹاف سارجنٹ میتھیو پینکی اب 2010 میں ایک تاریخی جنگجو دورے کا اختتام کررہے ہیں۔ پینکی نے کہا کہ عراق میں اس تاریخی آخری بریگیڈ جنگجو ٹیم کا حصہ ہونا بند کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ میں سب سے پہلے آنے والوں میں ایک اور اب (عراق سے) سب سے آخر میں جانے والوں میں سے ایک ہوں۔ یہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ 31 اگست تک عراق میں تمام امریکی جنگی مہمیں ختم ہوجائینگی اور صرف 50,000 امریکی افواج ایک مضبوط عراق کی تعمیر میں عراقی حفاظتی افواج کےاستحکام کی کارروائیاں، مشاورت، تربیت اور مدد کی طرف بڑھنے میں مدد کیلیے ملک میں رہ جائینگے۔ واپسی کیلیے منتقلی کے حصے کے طور پر اپنے ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کی طرف امریکی سپاہیوں نے عراقیوں کو مضبوط حفاظتی فوج کی چھوٹی تفصیلات سکھانے کیلیے بہت قریب سے کام کیا ہے۔ اسکی باریک تفصیلات کی وضاحت کرتے ہوئے بی کے فرسٹ سارجنٹ، فرسٹ سارجنٹ مائیکل سینڈرز نے کہا کہ فوج پوری طرح سے آئی اے پیادہ مہارات کی تعمیر میں مصروف تھی مگر ہم حقیقتاً اس مرحلے سے ابھی گُزرے نہیں تھے۔ میرا یونٹ اس سال باریک تفصیلات سکھانے کا حصہ تھا اور میرے خیال میں درحقیقت میں عراقیوں کی مدد بہت اہم چیز تھی جس کی وجہ سے اب وہ اپنے آپکو سنبھال رہے ہیں۔ پینکی نے کہا کہ دیکھ بھال کرنے والی کمپنی نے آئی اے کے دیکھ بھال والے افراد کی تربیت میں ملکر کام کیا ہے۔ انکے پہلے دو دوروں میں اگرچیکہ امریکی اور عراقی افواج نے ساتھ کام کرنے کی کوشش کی مگر حقیقتاً یہ رشتہ کبھی قائم نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال، عراقیوں کے ساتھ کام کرنا ایک ایسی بات ہے جسکا میں نے کبھی تصور نہیں کیا تھا۔ اس نے درحقیقت انکی تہذیب، انکے زندگی گزارنے کے طریقے اور سوچ کی طرف میری آنکھیں کھول دی ہیں۔ اس سے مجھے سمجھ میں آیا کہ ہمیں پہلے مشکلات کیوں پیش آئیں تھیں۔ اب عراقی بھی ہمارے نظریات کو سمجھتے ہیں تو میرا خیال ہے کہ یہ ایک تھوڑی بہت ہم آہنگی ہے جسکی تعمیر ہوئی تھی۔ جبکہ امریکی جنجگو سپاہی عراق سے جارہے ہیں عراقیوں کی تربیت، مشاورت اور مدد جاری ہے۔ سینڈرز نے کہا کہ عراقی بھی وہی نتیجہ چاہتے ہیں جو ہم چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ پھر سے اپنے آپکو سنبھالنے اور اپنی معیشت کو چلانے اور اسکی تعمیر کے قابل ہوں۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















