صفحہ اول | خبریں | خبریں | امن اور دوبارہ بحالی کے پروگراموں پر ہلمند کے اہم ممبران اور افغان فوجیوں کی ملاقات
امن اور دوبارہ بحالی کے پروگراموں پر ہلمند کے اہم ممبران اور افغان فوجیوں کی ملاقات
منجانب Master Sgt. Grady Fontana, 1st Marine Division
120604_talk
میجر جنرل سید ملوک، 215 ویں کور کے کمانڈر، افغان نیشنل آرمی، 3 جون، 2012 کو افغان امن اور دوبارہ بحالی کے سیمینار کے موقعے پر افتتاحی تقیرب سے خطاب کرتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب سارجنٹ گرینڈی فونٹانا)

شوراباک، افغانستان (4 جون، 2012) – تقریباً 130 افغان شہری اور افغان نیشنل آرمی کے فوجی یہاں 3 جون،2012 کو افغان امن اور دوبارہ بحالی کے پروگرام کے بارے میں سیمینار میں شرکت کے لیۓ جمع ہوۓ تاکہ صوبہ ہلمند میں پروگرام کے اطلاق کے بارے میں گفتگو کی جا سکے جو کہ ایک حالیہ مینڈیٹ کا ایک حصہ ہے جس کے تحت  افغانستان میں تمام سرکاری اداروں کو اے پی آر پی کی حمایت کرنی ہے۔

اے-پی-آر-پی افغانستان کی زیر قیادت امن کا ایک پروگرام ہے جس کا مقصد باغیوں کو لڑائی سے باہر ہٹا کر انہیں ایک پرامن اور ترقی یافتہ زندگی گزارنے کے لئے عزت اور وقار کے ساتھ اپنی کمیونٹیز میں واپس لانا ہے۔ اس خاص پروگرام، جو29 جون2010  کو ایک صدارتی فرمان میں شائع ہوا، کے تحت افغانستان کی حکومت کی جانب سے حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔

اس سیمینار کی میزبانی اے-این-اے 215 ویں کور کے کمانڈر میجر جنرل سید ملوک کی جانب سے کی گئی تھی اور اس میں 215ویں کور کے عملے اور افسران، ہلمند صوبائی امن کمیٹی کے نمائندوں، صوبائی اور قومی سطح کے مشترکہ سیکرٹریٹ کی ٹیم کے نمائندوں اور صوبہ ہلمند اور کابل سے اہم حکام نے شرکت کی۔

ملوک نے کہا کہ آج کے سیمینار میں وفد کے ارکان بہت سے علاقوں سے آۓ تھے ۔ جو امن اور دوبارہ بحالی کے پروگرام کے مقاصد وہ اپنے ساتھ لاتے ہیں، جو ان کے خیالات تھے، انھیں ہمارے یونٹ کمانڈروں تک پہنچا دیا گیا تھا تاکہ وہ کمانڈر ان کو اپنے فوجیوں تک پہنچا دیں جو انھیں لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔

کابل اور ہلمند صوبے کے نمائندوں نے تقاریر پیش کیں جن میں اے-این-اے اور اے-پی-آر-پی کے طریقہ عمل کی اہمیت کا اظہار کیا گیا۔

ایک مترجم کے ذریعے، صوبہ ہلمند کے صوبائی امن کونسل کے سربراہ، شاہ ولی خان نے215 ویں کور کے افسران کے ایک ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغان نیشنل سکیورٹی فورسز ہمارے ملک کی بنیاد ہیں۔ ہم آپ کی حمایت کرتے ہیں، ہمیں آپ پر فخر ہے، اور ہم آپ کو مظبوط بناتے ہیں۔ آپ لوگ ہمارے بھائی ہیں۔

ملوک نے اس بات پر زور دیا کہ عوام اور اے-این-اے کا ایک مشترکہ مقصد ہے – امن۔  انہوں نے مزید کہا کہ اے-این- اے کے فوجی اور افغان عوام جنگ کے خطرے کا ہر روز سامنا کرتے ہیں۔

ملوک نے کہا کہ وہ جنگ سے تھکے ہوۓ ہیں ۔ وہ مایوس ہیں؛ وہ مزید اس جنگ کو اب لڑنا نہیں چاہتے۔ یہ جنگ اس ملک سے باہر دوسرے لوگوں کی وجہ سے ہم پر تھوپی گئی ہے؛ اور افغان باغی  جو اے- این- ایس-ایف  کے خلاف لڑ رہے ہیں، وہ خود اس جنگ کا شکار رہے ہیں۔ ان کی دوسرے لوگوں کی صرف سے حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔

اے- این- اے کے ارکان، قیادت کی سب سے نچلی سطح تک ، قریبی سے لے کر دور دراز تک کے گاؤں تک پہنچنے کے لیۓ پُرجوش رہے ہیں، شورے کا انعقاد کر رہے ہیں تاکہ پیغام اور اے-پی-آر-پی  میں شامل خیالات کو پھیلایا جاۓ۔ شورے ٹاؤن ہال کے اجلاسوں کی طرح ہے جہاں قبائلی عمائدین اور شہری گفت و شنید کر سکتے ہیں یا اپنی شکایات شورے میں موجود لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں، حل نکالنے میں مدد کرنے کے لیۓ۔

بریگیڈیئر جنرل غلام فاروق، نائب کمانڈر،215 ویں کور، نے مزید کہا کہ اے-پی-آر-پی کا عمل سب کے لئے ہے۔ یہ صرف فوجیوں یا عام شہریوں کے لئے نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہم نے اس ملک میں مسلسل جنگ دیکھی ہے، ہم جنگ سے تھکے ہوۓ ہیں اور ہم امن کی خواہش کرتے ہیں۔

نومبر 2009 میں اپنی افتتاحی تقریر کے دوران، صدر حامد کرزئی نے اعلان کیا تھا کہ  جی-ائی-آر-او-اے کی مرکزی ترجیح امن اور قومی مفاہمت تھیاے پی-آر-پی کی تشکیل جون 2010 میں 1600 سے زائد مشاورتی امن جرگے کے نمائندہ مندوبین کی سفارشات کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ کرزئی نے اعلان کیا تھا کہ جرگے کی سفارشات پر عمل درآمد کیا جاۓ گا۔

باغیوں کو جنگ کا ایک پُرامن متبادل فراہم کرنے کے علاوہ، اے پی آر پی باغیوں کے لئے اپنے ہتھیار رکھ دینے اور امن کے عمل میں شامل ہونے کے نتیجے میں ایک ماہانہ ترغیب فراہم کرتا ہے۔ دوبارہ بحال شدہ لوگوں کو تین ماہ کے لئے 240 ڈالر ماہانہ رقم مل سکتی ہے، جبکہ اہم رہنماؤں کو اس سے کئی گنا زیادہ رقم مل سکتی ہے۔ پروگرام میں داخل ہونے سے پہلے ہر شخص کی جانچ کی جاتی ہے اور پروگرام کے لئے اس کی اہلیت اور تعمیل کا حساب رکھا جاتا ہے۔

ملوک نے کہا کہ ہر کوئی امن کی خواہش رکھتا ہے، تعمیر اور ترقی چاہتا ہے، اور جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے ۔ تاکہ سب ایک پرامن زندگی گزار سکیں اور اس ملک کی تعمیر نو میں حصہ لے سکیں۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 25 times

فیس بُک پر دوست
33,184+