صفحہ اول | خبریں | خبریں | جنرل نے کہا کہ عراقی فوجی صلاحیتیں بڑھا رہی ہیں
جنرل نے کہا کہ عراقی فوجی صلاحیتیں بڑھا رہی ہیں
منجانب Jim Garamone, American Forces Press Service

واشنگٹن 15 اگست، 2011 - عراق میں امریکی فوج کے ایک ترجمان نے آج یہاں کہا کہ عراق کے پاس مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں انسدادِ بغاوت کے لئے سب سے زیادہ  باصلاحیت فورس موجود ہے، مگر اس کی فوج کو اب بھی عراقی عوام کا دفاع کرنے کے لئے ایک طویل راستہ طے کرنا ہے۔

فوجی میجر جنرل جیفری بکانن نے پینٹاگون چینل اور امریکی افواج کی پریس سروس کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ عراق کے پاس ایک بہت قابل فوج اور فضائیہ اور بحریہ کی  بڑھتی ہوئی صلاحیتیں موجود ہیں۔

2003 میں وہاں کوئی عراقی سیکورٹی فورسز نہیں تھیں۔ اب ان کا سائز صفر سے بڑھ کر 650,000 ہو گیا ہے۔ بکانن نے کہا کہ وہ بہت جدید آلات کے ساتھ لیس ہیں اور وہ اپنی تربیت خود کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عراقیوں کو ملک بھر کی سیکورٹی کاروائیوں میں قیادت حاصل ہے اور وہ کسی بھی پیمانے سے، اپنا کام معیار کے مطابق انجام دے رہے ہیں۔ جب سے عراقیوں نے نظام سنبھالا ہے، ایک دن میں حملوں  اور جانی نقصان کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فورسز اس وقت بھی چند صلاحیتیں فراہم کر رہی ہیں، جیسے کہ خفیہ معلومات، نگرانی اور فوجی اہمیت کے ٹھکانوں کا کھوج لینے کے لئے ساز وسامان اور وہ رسد اور فضائی اعانت فراہم کر کے بھی مدد کرتے ہیں۔ تاہم عراقی بھی ان صلاحیتوں کو ترقی دے رہے ہیں۔

بکانن نے کہا کہ گزشتہ آٹھ سال میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ تیز رفتار کاروائیوں کے ساتھ یہ سب سے زیادہ  تیزی سے بڑھتی ہوئی فوج ہے۔ اپنی ضرورت کی وجہ سے، انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ، باغیوں کے خلاف جنگ اور اپنی توجہ تقربیاً مکمل طور پر اندرونی خطرات پر مرکوز رکھی ہے۔

بکانن نے توجہ دلائی کہ لیکن سیکورٹی فورس کو اندرونی خطروں کے خلاف دفاع سے بڑھ کر اور بھی بہت کچھ کرنا ہوتا ہے ۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ یہ بیرونی دشمنوں سے ملک کا دفاع اور قومی خود مختاری کا تحظ کرے۔ انہوں نے کہا کہ صرف گزشتہ دو سالوں میں عراقی فورسز نے خارجی خطرات پر توجہ دی ہے۔  ایران کے ساتھ عراق کی ایک طویل سرحد ہے اور شام عدم استحکام کا ایک اور مرکز ہے۔

عراقی فوج قوم کے دفاع کے لئے ایک فورس تیار کر رہی ہے۔ عراق کے پاس اب 140 میں سے 135 ایم-1 ٹینک موجود ہیں۔ بکانن کے کہا کہ یہ ٹینک عراق میں دستیاب ہیں، عملے کی تربیت ہو رہی ہے اور وہ کچھ صلاحیتیں حاصل کر رہے ہیں۔ عراقی فوج کے پاس اب 24 خودکار 155 ملی میٹر ہووٹزرز howitzers اور 80 ، 155 ملی میٹر کھینچ کر لے جانے والی ہووٹزرز towed howitzers ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لیکن توپ خانے، بکتربند گاڑیوں، پیدل فوج کے ساتھ فضائی قوت کے اثرات کو ایک روایتی طاقت کے خلاف ملا کر ہم آہنگی کے ساتھ استعمال کرنا حقیقت میں ابھی ابتائی مراحل میں ہے۔ اس کی تیاری میں انکو کچھ سال لگیں گے۔

جنرل نے کہا کہ دوسرے پہلوؤں پر مزید کچھ وقت لگے گا۔ نئی عراقی فوج کے پاس ایک پیشہ ور نان کمیشنڈ افسر کور کو تیار کرنے کے لئے سات سال تھے۔ اُن کے پاس چند بہترین جونیئر این سی اوز ہیں۔ پھربھی انہوں نے مزید کہا کہ اُن ممتاز نوجوان این سی اوز کو جنگ میں آزمودہ  سینئر این سی او قائد بننے میں مزید کچھ وقت لگے گا۔

بکانن نے کہا کہ امریکہ اس سال کے آخر تک عراق سے نکلنے کی تیاریاں کر رہا ہے ۔ عراق اور امریکہ نے 2008 میں دو طرفہ سیکورٹی  معاہدے پر دستخط کئے اور اس معاہدے کی ایک شق کے رو سے موجود امریکیوں سے کہا گیا ہے کہ 2011 کے اختتام تک شہری قیادت کے تحت ایک اتھارٹی کومنتقلی مکمل ہو جانی چاہیۓ۔ جنرل نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ ہمارے دستے مکمل طور پر واپس چلے جائیں گے اور یو ایس ایف آئی اپنا پرچم سمیٹ لے گی۔

اس کے ساتھ ہی، ریاست ہاۓ متحدہ امریکہ اور عراق نے سیکورٹی فریم ورک کے ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں، جو دونوں ملکوں کے درمیان ایک طویل مدتی اور پائیدار شراکت داری کی تفصیل فراہم کرتا ہے۔  یہ تعلیم سے لے کر ہر چیز، سائنس اور ٹیکنالوجی، ثقافتی تبادلوں، دفاع اور سیکورٹی تعاون کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ سب کچھ عراق میں امریکی سفیر کے کنٹرول کے تحت ہو گا۔

عراق نے دسمبر 31 کی واپسی کی تاریخ کے بعد بھی ملک میں کچھ امریکی فورس رکھنے پر بات چیت کرنے کے ارادے کا اشارہ دیا ہے۔  عراقی فوجی رہنما اپنی کمزوریوں پر بات چیت کر رہے ہیں اور یہ کہ کمی کو پورا کرنے کے لئے انہیں کن چیزوں کی ضرورت ہوگی۔

عراقی قومی رہنماؤں نے امریکی مدد کی درخواست کرنے کے عمل کے بارے میں بات چیت شروع کرنے کا عہد کیا ہے۔

بکانن نے کہا کہ فوجی معاملات میں ہم مرتبے کے مطابق آپشنز فراہم کرتے ہیں تا کہ ہمارے سولین رہنما فیصلے کر سکیں۔ عراقی حکومت کا انکی اپنی خامیوں کے بارے میں تخمینہ بالکل ہمارے تخمینے کے مطابق ہے۔

اِن خامیوں میں روائتی خطرات یا خارجی خطرات کے خلاف مختلف ہتھیاروں کو ملا کر استعمال کرنے کی محدود صلاحیت، عراقی فضائی حدود  کے دفاع کی محدود قابلیت اور سمندری سیکورٹی میں نقائص شامل ہیں۔

بکانن نے کہا کہ امریکہ ان صلاحیتوں میں سے کچھ فراہم کر سکتا ہے، لیکن عراقی حکومت کو درخواست کرنی پڑے گی۔ انہوں نے توجہ دلاتے ہوۓ کہا کہ اس میں جتنی دیر ہو گی یہ اُتنا ہی زیادہ مہنگا اور کرنے میں مشکل ہو گا۔

ستمبر 2010 میں جب سے آپریشن نئی صبح شروع ہوا ہے، امریکی مشن میں تبدیلی نہیں آئی ہے اورعراقی فورسز کومشورہ دینا، اُن کی تربیت اور اعانت کرنا، ساتھیوں کے ساتھ انسدادِ بغاوت کی کاروائیاں کرنا اور عراق میں امریکی مشن کے عام شہری ارکان کی مدد اور ان کی حفاظت کرنا جب کہ وہ سارے ملک میں سول صلاحیت کی تعمیر کرنا شامل ہیں۔

آپریشن نئِ صبح میں محض چار سے کچھ زیادہ مہینے باقی رہ گئے ہیں اور امریکہ کی زیادہ کوشش اڈوں کی منتقلی، ساز و سامان کی دویارہ تعیناتی اور عملے کو دوبارہ ترتیب دینے پر مرکوز ہوگی۔ کُچھ عرصے سے پیش رفت جاری ہے۔ 2008 میں امریکہ کے عراق میں 505 اڈے تھے اور آپریشن نیو ڈان کے آغاز میں یہ تعداد کم ہو کر 92 رہ گئی تھی۔ آج کل ان کی تعداد 47 ہے۔

بکانن نے کہا کہ جو کچھ بھی کرنے کی ضرورت ہے عراق میں امریکی فورسز وہ کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوشش قابل قدر رہی ہے۔  عراقی عوام نے گزشتہ سالوں میں کافی قربانیاں دی ہیں۔ وہ ایسی اقدار کی تعمیر کر رہے ہیں جو وہاں پہلے موجود نہیں تھیں۔ جوں جوں عراق کی حکومت کی نشو نما ہو گی اور وہ بلوغت کو پہنچے گی، وہ یہ چیزیں بہتر طریقے سے کرنے کے قابل ہو گی جن کی لوگوں کو ضرورت ہے – ایک ملک جو کہ مستحکم ہو، جو خود مختار ہو اور جو اپنے وسائل پر انحصار کر سکے۔

یہ عراق کے لوگوں کے لئے اچھا ہے، یہ خطے کے لئے اچھا ہے اور یہ ریاست ہاۓ متحدہ امریکہ کے لئے بھی اچھا ہو گا۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
33,166+