| عراقی فضائیہ رہنماوں کی جانب سے امریکی مشیروں کا شکریہ، عراقی فوج اپنی 80 ویں سالانہ تقریبات منانے میں مصروف |
منجانب Tech. Sgt. Jason Lake, 321st Air Expeditionary Wing شئیرمتعلقہ خبریں
لیفٹننٹ جنرل انور احمد، 21 اپریل عراقی فضائی کمان ، ملک کی 80ویں سالگرہ کی تقریبات میں کوششوں پر عراقی تربیت اور مشاورتی مشن ۔ ایئر ایڈوائررز کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔ امریکی فضائیہ اور فوج کے درجنوں نے مشیران نے تقریب میں شرکت کی۔ تصویر منجانب یو ایس ایئر فورس، ٹیک سارجنٹ جیسن لیک۔ بغداد 27 اپریل 2011 - امریکی فضائیہ فورس اور عراقی حکام نے فضائی کاروائیوں کے لیے جدید ترین مرکز کا افتتاح کر دیا ہے جبکہ عراقی فورسز 21 اپریل کو اپنے قیام کی 80ویں سالگرہ منا رہی ہیں۔ 9 ملین ڈالر لاگت سے تیار ہونے والے اے او سی کے افتتاح کے ساتھ ہی عراقی فضائیہ فورس کے قیام کی سالانہ تقریبات کا آغآز ہو گیا جو 22 اپریل 1931 کو قائم کی گئیں۔ اے او سی کے افتتاح کے کچھ ہی دیر بعد عراقی فضائیہ کے حکام نے امریکی فضائیہ کے حکام کے مشیروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے نئی المثنیٰ ایئر بیس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی جس میں ان کے علاوہ سینکڑوں عراقی اور امریکی ایئر مین، دیگر شعبوں کے اہلکار اور اہم شخصیات شامل تھیں جن میں عراق کی پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے سکیورٹی و دفاع کے چیئرمین حسن السنید بھی شامل تھے۔ عراق تربیتی اور مشاورتی مشن ۔ فضائیہ ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل انتھونی راک نے ہاک بیس، بغداد میں فیتا کاٹنے کی تقریب کے فوری بعد کہا کہ آج ایک خاص دن ہے۔ آج ہم عراقی ایئر فورس کی 80ویں سالگرہ منا رہے ہیں٫ مجھے عراقی فضائی کاروائی کے مرکزی کی اس افتتاحی تقریب میں شرکت کر کے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ یہ مرکز عراقی ایئر فورس کی ترقی و مضبوطی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ مرکز وہ جگہ اور ٹیکنالوجی فراہم کرے گا جو پورے ملک میں ایک مستحکم فضائیہ کے قیام کے لیے ضروری ہو گی۔ جس سے نہ صرف فضائیہ اور فوجی ایوی ایشن کمانڈ کو سپورٹ ملے گا بلکہ آرمی، بحری بلکہ پولیس کو بھی عراق محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔ آئی ٹیم، اے او سی میں فضائیہ کے سرکردہ مشیر، میجر کرسٹوفر ڈورو کے مطابق عراقی ایئرمین نئے اے او سی کے ذریعے براہ راست انٹیلی جنس، امداد اور نگرانی کر سکیں گے جو پرانے ٹریلروں سے چار گنا بڑا ہے۔ جنرل راک نے مزید بتایا کہ اے او سی میں دی گئی اضافی جگہ عراقی ایئر فورس کو مستقبل میں اپنی صلاحیتیں بڑھانے کا موقعہ فراہم کرے گی۔ جنرل، جو اپنے ملک میں داخلی سکیورٹی قائم رکھنے اور اسے بیرونی خطرات سے بچانے کے لیے اپنی صلاحیتیں بڑھانے میں مصروف عراقی فضائیہ کو تربیت، مشاورت فراہم کرنے والے 1,000 ایئرمین کی قیادت کر رہے تھے، نے مزید کہا کہ یہ مستقبل بعید کی بات نہیں جب ایک پائلٹ معلومات حاصل کر کے اسے بیک وقت کئی جگہوں پر فراہم کر سکے گا۔ یہاں یہ صلاحیت موجود ہے کہ تصاویر براہ راست ایک سے زیادہ C2 (کمانڈ اینڈ کنٹرول) کو فراہم کی جا سکیں جس سے کہیں بھی موجود کسی بھی خطرے سے بیک وقت نپٹا جا سکے گا۔ اے او سی کے افتتاح کے بعد آئی ٹیم ایئر ایڈوائزر نے اپنے عراقی ساتھیوں کے ساتھ مل کر نئی المثنیٰ ایئربیس کے ایک ایئر کرافٹ ہینگر میں ان کی فضائیہ کی 80ویں سالگرہ منائی۔ ملک بھر کی چھ بڑی آپریٹنگ لوکیشنز سے آئے ہوئے آئی ٹیم ایئر ایڈوائزر نہ صرف اس خوشی کے موقعے پر لطف اٹھانے کے لیے جمع ہوئے بلکہ انہوں نے ایک درجن سے زائد فارغ التحصیل ہونے والے عراقی آرمی ایوی ایشن کمانڈ کی روٹری ونگ پائلٹوں کو بھی مبارکباد دی جن کو عراق کے مشترکہ فورسز کے چیف جنرل بابکر زبیری نے ان کے پائلٹ ونگز پر نشان لگائے۔ ٹی 6 کے انسٹرکٹر پائلٹ جنہوں نے تقریب کے علاوہ ٹی 6 ٹیکسن II سٹیٹک ڈسپلے میں 5دوسری مہماتی فلائنگ ٹریننگ سکوارڈن کی نمائندگی کی کا کہنا تھا کہ میں عراق میں اس تربیتی کوششوں کا حصہ بن کر بہت فخر محسوس کر رہا ہوں۔ بعض اوقات میں بھول جاتا ہوں کہ میں اپنے وطن میں انڈرگریجویٹ پائلٹ تربیتی سکول (ٹیکساس کی شیپرڈ ایئر فورس بیس) میں تربیت نہیں دے رہا۔ پھر میں کچھ دیر رک کر عراق کے حالات کا جائزہ لیتا ہوں۔ ایک ایسے ملک میں جو اب بھی دہشگردوں کے حملوں اور بعض صورتوں میں مزاحمت کاروں کے ہاتھوں قتل سے عبارت ہے کے بارے میں کیپٹن سٹرنگر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے عراقی ساتھیوں کی بہادری کی داد دیتے ہیں جو محض کام پر آ کر ہی اپنی جان خطرے میں ڈال لیتے ہیں۔ کیپٹن سٹرنگر، جو لیبووک، ٹیکساس کو اپنا آبائی علاقہ کہتے ہیں مزید بتاتے ہیں کہ ان چیزوں کو اڑانا میرے کیرئیر کا بہترین تجربہ رہا ہے۔ ان عراقی ایئرمین کو اپنی روزمرہ زندگی میں جن معاملات سے گزرنا پڑے گا وہ ہمارے حالات سے بہت مختلف ہے۔ گزشتہ ماہ لیفٹننٹ حامد حسین، عراقی ایئر فورس سکوارڈن 203 کے کمانڈ اور 5دوسری ای ایف ٹی ایس انسٹرکٹر پائلٹ ٹریننگ پروگرام کے پہلے گریجویٹ نے پہلے درجن بھر عراقی ٹی 6 تربیت کار پائلٹوں کی تربیت شروع کی جو امریکی فوج کے ملک چھوڑ جانے کے بعد پروگرام کی قیادت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیفٹننٹ جنرل مائیکل فریٹر، امریکی فضائی فورس۔عراق کے کمانڈنگ جنرل برائے مشاورتی اور تربیتی ہیں اور جنہوں نے عراقی ایئر فورس کی تقریبات میں بھی شرکت کی نے کہا کہ یہ تقریب دو ملکوں کی فضائیہ کے درمیان شراکت و تعلق کی اہمیت واضح کرتی ہے۔ جنرل کا کہنا تھا کہ عراقی فضائیہ کا اہلکار اور امریکی فضائیہ کا اہلکار کہلانے کے لیے یہ بہت بڑا دن تھا۔ عراقی فضائیہ کی 80ویں سالگرہ امریکی فضائیہ کے ساتھ اس کی شراکت کی آئینہ دار ہے اور ان صلاحیتوں کی جو ہم عراقیوں کو دے رہے ہیں۔ ہماری پیشرفت بہت اچھی ہے اور مجھے جنرل راک کی سربراہی میں اپنے ایئرمین کی کارکردگی پر فخر ہے۔
|
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















