صفحہ اول | خبریں | خبریں | جنگ کے پوشیدہ زخم
جنگ کے پوشیدہ زخم
منجانب Sgt. Uriah Walker, 3rd Infantry Division Public Affairs

قنداھار ہوائی اڈا، افغانستان -- افغانستان میں سات فوجی اور دو مرینز جنگی کاروائیوں کے دوران کئی مقامات پر سفر کے دوران زخمی ہوۓ، اس میں قندھار ہوائی اڈا اور کیمپ ناتھن سمتھ کی طرف سفر بھی شامل تھا، وہ اس ملک میں اس ترقی کو دیکھنے کے لیۓ جا رہے تھے جس نے ان میں سے بہت سوں کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا۔

مصنوعی اعضا اور زخموں کے نشان ان قربانیوں کی یاد دہانی کرتی ہیں جو ان فوجیوں نے تقریباً ہر روز جاری بیرون ملک مقیم ہنگامی آپریشن میں دیں ہیں۔ جو نہیں دیکھا جا سکتا، وہ لڑائی کے سفاکانہ اسباق کی وجہ سے برداشت کیۓ گۓ ذہنی اور جذباتی زخم ہیں جو اُتنے ہی ناقابل برداشت ہو سکتے ہیں جتناکہ کوئی اعضاء گنوانا کر ہوتا ہے۔

آپریشن مناسب اخراج کے ذریعے،جو فیہرٹی فوج فرسٹ فاؤنڈیشن کی ایک پیش قدمی ہے، جس میں ان زخمی فوجیوں کو جو زخمی ہوۓ اور تھیٹر سے طبی طور پر باہر لاۓ گۓ زخمیوں کے لئے مدد فراہم کرتا ہے، وہ فوجی جو واپس آنے کے قابل ہیں ان کو براہ راست ترقی دیکھنے اور اپنے طور پر ملک سے باہر نکلنے کا موقع دیا جاتا۔

او-پی-ای II کے دورے پر آئے ہوئے نو فوجیوں میں سے مرین کور کے سٹاف سارجنٹ گلین سلوا وہ واحد ہیں جو اپنی تنظیم کے ساتھ دوسری مرتبہ دورے پر ہیں۔ 12 اکتوبر، 2010 کو سلوا کو کئی دیگر زخموں کے ساتھ ساتھ اپنی بائیں ٹانگ کو گھٹنے کے اوپر تک کھونا پڑا، جب انہوں نے صوبہ ہلمند، افغانستان میں ایک خود ساختہ دھماکہ خیز آلے پر قدم رکھ دیا تھا۔

سلوا اس موقعے کو مایوس کن بیان کرتا ہے، "میں نے اٹُھنے کی کوشش کرتے ہوۓ اپنے جوانوں کو احاطہ قائم کرنے کو کہا۔ مجھے یاد ہے کہ مجھے اپنے آپ پر غصہ آ رہا تھا کیونکہ میں اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہو سک رہا تھا اور مجھے معلوم نہیں تھا کہ کیوں۔"

یہ وہ وقت تھا جب اس کے مرینز میں سے ایک نے اس کے اوپر چھلانگ لگائی اسے ہلنے سے روکنے کے لیۓ، اور اسے اس واقعے کی حقیقت کا ادراک ہونا شروع ہوا۔

انہوں نے کہا کہ"میں اپنے آپ کی طرف توجہ دینا شروع کیا اور جب میں نے ارد گرد دیکھا تو میں اپنی ٹانگ کو تقریباً 20 فٹ کے فاصلے پر پڑی دیکھ سکتا تھا" ۔ "میں نے ایک لمحے کے لئے اپنی آنکھوں کو بند کیا اور خود کو پرسکون رہنے کو کہا میں نے اپنی آنکھیں کھول دیں اور سکون سے اپنے مرین کو خون روکنے کے طریقوں کا اطلاق شروع کرنے کو کہا۔"

نیشنل ملٹری میڈیکل سینٹر میں سلوا کی بحالی شروع میں يقينی نہیں تھی۔ ایک موقعے پر اس کا دل رک گيا، اور وہ اس واقعے کو ان الفاظ میں یاد کرتے ہیں "مجھے مار ڈالو یا مجھے زندہ رہنے دو، میں اپنی بیٹی کو یہ سب برداشت کرتا ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا۔"

اس کی بیٹھی نے اس کے دل و دماغ کو زندہ رہنے کے لیئے تیار کیا۔

متعدد سرجریوں، جسمانی ورزشیں، اور ایک مصنوعی ٹانگ کو نصب کرنے کے بعد، سلوا زندگی کا زیادہ سے زیادہ لطف اٹھانے کے لئے وہ سب کچھ کر رہا ہے جو وہ کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ"میں زندگی کا پوری طرح لطف اٹھاتا ہوں اور میں جو کچھ بھی میرے پاس ہے اس کا پورا فائدہ اٹھاتا ہوں" ۔ "میں ابھی بھی اپنی ہارلی موٹر سائکل چلاتا ہوں اور ابھی بھی ہوائی جہاز سے چھلانگ لگاتا ہوں۔ ہر دن ایک نیا چیلنج ہے اور میں ہر دن سے لطف اٹھتا ہوں۔"

ریٹائرڈ آرمی سارجنٹ برائن فلیمنگ، قندھار ہوائی اڈے سے صرف 7 کلومیٹر دور تھے جہاں ان سے تین فٹ دور کھڑی ایک گاڑی میں نصب خود ساختہ دھماکہ خیز مواد دھماکے سے اڑ گیا۔

فلیمنگ اپنی ویب سائٹ پر کہتے ہیں کہ"جب میری آنکھ کُھلی تو میں قندھار، افغانستان کی سڑک کے کنارے پر ایک کھائی میں تھا -- جلا ہوا اور خون سے بھرا-- اور میں نے سوچا کہ وہ میری زندگی کا آخردن تھا، میں نے خود سے دو سوال پوچھے" ۔ "میں نے دوسروں کے لئے کیا کیا؟ کیا میری زندگی سے کچھ فرق پڑا؟"

انہوں نے جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "وہ خودکش حملہ آور میری زندگی کی بہترین بات ثابت ہوا۔"

دھماکے سے فلیمنگ کے ہاتھ، چہرہ اور گردن دوسری اور تیسری ڈگری تک جل گۓ۔ انھوں نے 14 ماہ سان انتونیو میں بروک آرمی میڈیکل سینٹر میں گزارے، اپنے جسمانی، جذباتی، اور ذہنی زخموں سے صحتیابی کے لیۓ۔ وہاں قیام کے دوران انھوں نے یہ دریافت کیا ہے ایک بڑے پیمانے پر تیار حل نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔

اس سے انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ "صدمے کے بعد کا قلق ایک انفرادی واقعہ ہے۔ اس کے ساتھ ہر کوئی مختلف طرح سے نمٹتا ہے۔ علم سے قناعت ملتی ہے۔ کبھی کبھار مدد اس جگہ لی جاتی ہے جہاں وہ سوالوں کے اپنے جواب تلاش کر سکتے ہیں۔"

یہ وہ بیان ہے جو فلیمنگ کو ہر روز دیگر زخمی فوجیوں کی مدد کے لئے لے جاتا ہے۔ وہ اپنی ویب سائٹ اور عوامی تقاریر کے ذریعے لوگوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ ان کی ویب سائٹ کے مطابق، اب تک، انھوں نے ذاتی طور پر عراق اور افغانستان میں جنگوں سے 1،000 سے زیادہ جنگ کی سابقہ فوجیوں کو کاروبار،، شادی اور خاندان، اور یہ کہ کس طرح مؤثر طریقے سے صدمے کے بعد کا قلق، ایمان اور طبیعت میں لچک کے بارے میں مشاورت دی ہے۔

اس دورے میں تمام نو زخمی فوجیوں کے درمیان طبیعت میں لچک کی قدر مشترک تھی۔ ان کی جسمانی چوٹوں کی شدت کے قطع نظر، ہر ایک نے بار بار اس بات کو دہرایا کہ ان کے لیۓ ایک دوسرے سے منسلک رہنا اور مثبت رہنا ہمیشہ آگے بڑھتے ہوۓ، کتنا اہم تھا۔

میڈل آف آنر کے وصول کنندہ سارجنٹ فرسٹ کلاس پیٹری لیروۓ نے اپنے زخموں کے بارے میں بات کی؛ جسمانی، جذباتی اور ذہنی۔

پیٹری نے کہا کہ"ہر کسی کو میرا مصنوعی ہاتھ نظر آتا ہے، لیکن زیادہ تر کو یہ معلوم نہیں ہے کہ مجھے ٹانگ میں بھی گولی لگی تھی" ۔ "میری ٹانگ مجھے میرے ہاتھ سے زیادہ پریشانی دیتی ہے۔ یہاں واپس آنے نے واقعی میں میری مدد کی ہے۔ اس کی دو تہیں ہیں... یہ میری مدد کرتی ہے اور جو میں نے دیکھا اور جس چیز کا تجربہ کیا اسے اپنے ساتھ واپس لے جا سکتا ہوں اور اس کا اشتراک کر سکتا ہوں۔"

زخمی فوجیوں کی ذہنی بحالی کے بارے میں سلوا کے ساتھ گفتگو کے دوران، انہوں نے کہا کہ رابطہ رکھنے اور اپنی شناخت کے احساس کو نہ کھونا بحالی میں کامیابی کے ساتھ آگے بڑھنے میں دو سب سے بڑی عوامل ہیں۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اس عمل میں سب سے مشکل چیز اپنی شناخت نہ ہونے کا احساس ہے۔

سلوا نے کہا کہ"کھانے کے میز پر آپ کی جگہ لے لی گئی ہے" ۔ "آپ سے مرین، سپاہی، یا فوجی کی بجاۓ ایک مریض کے طور پر سلوک کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر مجھے 'مسٹر سلوا' کہہ کر پکارتے ہیں۔ ایک دن میں نے ان میں سے ایک کی طرف دیکھ دیکھا اور اس سے کہا، 'میرا نام سٹاف سارجنٹ سلوا ہے۔"

انہوں نے ان لوگوں کے لیئے، جو زخمی فوجیوں کے ساتھ کام کر رہے ہوں، کے لیۓ دو مشورے دیۓ۔

انہوں نے کہا کہ"یونٹ کی حمایت بہت ضروری ہے، وہ آپ کا خاندان ہیں" ۔ "ایک زخمی فوجی سے بات کرنے سے خوفزدہ مت ہوں۔ وہ اسی طرح سیکھتے ہیں (اپنے زخموں سے نمٹنے کے لئے) اور ان سے ایک مریض کا سا سلوک نہ کریں۔"

 

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 19 times

فیس بُک پر دوست
33,142+