صفحہ اول | خبریں | خبریں | باغیوں کو افغانستان میں شدید دباؤ کا سامنا
باغیوں کو افغانستان میں شدید دباؤ کا سامنا
منجانب Army Sgt. 1st Class Tyrone C. Marshall Jr., American Forces Press Service

واشنگٹن[27 اکتوبر،2011] - آج ایک سینئر بین الاقوامی سیکورٹی امدادی فورس کے کمانڈر نے کہا کہ آیا افغان حکومت اور عوام کے خلاف لڑنے والے باغی اپنے  پر تشدد طریقوں کو ختم کر کے اپنے معاشرے میں دوبارہ  شامل ہونے کا فیصلہ کر سکتے ہیں یا پھر ان کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا ہو گا۔

فوجی لیفٹیننٹ جنرل کرٹس سکاپاروٹی جو کہ ایساف مشترکہ کمان کے کمانڈر ہیں نے آج  پنٹاگان کے رپورٹروں سے ایک ٹیلی کانفرنس کے دوران کہا کہ ہم اپنے افغان ساتھیوں کی مدد سے موسم بہار کی واپسی تک، باغیوں کے لیۓ ایک نا مناسب ماحول پیدا کرتے رہیں گے۔ 

سکاپاروٹی نے آنے والی عارضی تبدیلیوں کے منصوبے کو واضع کیا۔ تاریخی طور پر افغانستان میں باغیانہ سرگرمیاں موسم سرما میں آہستہ ہو جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے مقاصد اس موسم خزاں اور موسم سرما میں یہ ہوں گے کہ دشمن پر دباؤ برقرار رکھا جائے۔ ہم ہماری سیکورٹی کے نتائج میں توسیع کریں گے، جنوب میں اپنا قبضہ برقرار رکھیں گے اور دونوں قندھار اور مرکزی ہلمند کے دریا کی وادی بھی، [اور] مشرق میں زوردار حملوں کو برقرار رکھيں گے۔

سکاپاروٹی نے کہا کہ ہم افغان سیکورٹی فورسز کو موسم بہار کی لڑائی کے دوران قیادت سنبھالنے کے قابل بنا دیں گے اور آخر میں ہم افغانستان بھر میں تمام سطحوں پر سب کی دوبارہ کوششوں کو جاری رکھیں گے۔

جنرل نے گزشتہ عشرے کے دوران اور خاص طور پر 2009 اور 2010 کے دوران کے فوجی دستوں کی تعداد میں اضافے کے بعد سے افغانستان میں اہم پیش رفت کا حوالہ دیا۔

سکاپاروٹی نےکہا کہ 2002 سے لے کر افغان مجموعی ملکی پیداوار میں اوسط سالانہ 12 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔  سکولوں میں بچوں کی تعداد پانچ گنا بڑھ گئی ہے اور حالانکہ ابھی بھی طبی امداد کی سہولیات کو بہتر بنانے کی گنجائیش ہے اس تک رسائی میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ آج افغانوں کی تقریباً 85 فی صد تعداد کو اپنی رہائیش سے ایک گھنٹے کے اندر اندر کے فاصلے پر بنیادی صحت کی سہولیات میسر ہیں۔

سکاپاروٹی نے 2009  سے لے کراب تک افغان حکومت کی کامیابیوں کی تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک بھر میں 300،000 کے قریب افغان قومی سیکورٹی فورسز ہیں۔  انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر وہ افغانستان بھر میں آپریشن کر رہے ہیں. تمام اتحادی آپریشن زیادہ تر افغان سیکورٹی فورسز کے ساتھ شراکت داری میں کیۓ جاتے ہیں اور افغانوں کی قیادت اس میں مستقل طور پر بڑھتی جا رہی ہے۔

سکاپاروٹی نے کہا کہ ایساف اور اس کے افغان شراکت داروں نے گزشتہ موسم سرما میں اپنے ہی تخمینوں کو وقت سے پہلے مکمل کر لیا ہے۔ باغیوں کی کمان اور کنٹرول اور امدادی اڈوں اور ملک میں گھس آنے کے راستے کمتر ہونے کی وجہ سے ان کی صلاحیتوں میں نمایاں طور پر کمی آئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صحیح نتیجے کی خاطر ہم موسم گرما میں لڑائی میں کامیابی کے لئے درست حالات پیدا کر رہے ہیں اور تبدیلی کے عمل میں مدد دے رہے ہیں۔

سکاپاروٹی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ اس بات کو جانتے ہیں کہ افغانستان میں منتقلی صرف فوجی آپریشن کے بارے میں نہیں ہے.

انھوں نے کہا کہ یہ ایسا کیا جا رہا ہے کہ افغان حکومت اور حالات کی تشکیل کے لئے درست مواقع اور افغانستان عوام کی کامیابی کے ساتھ زندگی گُزارنےکے زرائعے فراہم کیے جا سکیں۔  افغانستان میں انتخابات اور سرکاری افسران کی بھرتی حکومت کی ترقی اور ترقیاتی مواقع کا ثبوت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج بہت سے افغان مقامی انتخابات میں ووٹ ڈاتے ہیں اور مقامی حکومتوں کی تقریبوں میں شرکت کرتے ہیں۔ جنوبی اور جنوب مغرب میں علاقوں کی علاقائی کمان میں تمام ڈپٹی صوبائی گورنروں میں سے 50 فیصد سے زیادہ کومیرٹ کی بنیاد پر بھرتی کیا گیا ہے۔

اس مہینے کے شروع میں،57 نئے ججوں نے افغان سپریم کورٹ کی طرف سے حلف اٹھایا۔ یہ جج ان اضلاع میں کام کریں گے جن کو افغان حکومت آبادی میں رسمی انتظامیہ کی پہنچ میں اہم اضافے کی ممکنات ہیں۔

سکاپاروٹی نے تعلیم کے شعبے میں بھی "شاندار ترقی" کا ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ آج، 13،000 سے زائد اسکول موجود ہیں، 170،000 اساتذہ اور تقریبا 80 لاکھ طالب علم جن میں تقریبا" 32 لاکھ لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ 2001  میںیہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ افغانستان میں 1،000 سے بھی کم اسکول اور ملک بھر میں 10 لاکھ کے قریب طالب علم تھے، اور ان طالب علموں میں کچھ ہی لڑکیاں تھیں۔

سکاپاروٹی نے کہا اگرچہ کافی ترقی ہوئی ہے، افغان اور اتحادیوں کو آئیندہ بہت سی مشکلات کا سامنا ہو گا اور وہ کچھ سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ تمام  وقت، ہم اپنی مضبوط شراکت پر توجہ مرکوز رکھیں گے جو کہ کھلی مواصلات، احترام اور وقار کی بنیاد پرمبنی ہے۔

سکاپاروٹی نے کہا کہ اتحاد متحد ہے اور مشن کی کامیابی کے لئے مصروف عمل ہے. ہماری حکمت عملی اب مرکوز ہے، اتحاد مضبوط ہے، ہمارے افغان شراکت دار مکمل طور پر مصروف ہیں اور ہم ایک رفتار سے جا رہے ہیں اور ہمارے پاس وسائل اور کامیاب حل موجود ہیں۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 23 times

فیس بُک پر دوست
33,171+