| اپریشن مشترک کے حاصل شدہ اہم ابتدائی اہداف |
منجانب , UK Ministry of Defence شئیرمتعلقہ خبریں
میجر جنرل میسنجر نے کہا، کہ "ابھی شروع کے دن ہیں لیکن کاروائی کے کمانڈر آج صبح کاروائی کی شروعات سے اب تک کی پیش قدمی سے خوش ہیں۔" "ہمیں کچھ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا مگر یہ سرسری رہی اور طالبان کو آپریشن کے وقت اور جگہ کے بارے میں حیران کرنے کا ہدف کامیاب رہا۔" میجر جنرل میسنجر نے کہا کہ اس مرحلے کا اہم ہدف فوجوں کا اُس جگہ اکھٹے ہونا تھا جہاں دوسرے فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اتارے جایئں اور زمینی فوج ان فوجیوں کے ساتھ منصوبے کے مطابق مل سکیں۔ رائل ویلش بیٹل گروپ 1، کولڈ سٹریم گارڈ بیٹل گروپ (برطانیہ) اور گرینیڈئیر گروپ (برطانیہ) افغان فوج کے ساتھی اور ایسٹونیا کے فوجی چاہے انجیر اور باباجی کے مغربی علاقے کو محفوظ کرنے میں شامل تھے۔ اس دوران اس سے بھی بڑے علاقے مرجاہ میں جہاں پہ طالبان کی صفائی کا آپریشن ابھی جاری ہے، امریکی اور افغان فوجیوں نے فضائی اور زمینی حملوں میں رہنمائی کی۔ میجر جنرل میسنجر نے کہا کہ جس علاقے میں برطانیہ کاروائی کر رہی ہے علاقے کو طالبان سے محفوظ کرنے کے ابتدائی مرحلے ختم ہو گۓ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کچھ لڑائی ہوئی مگر یہ صرف کبھی کبھار ہورہی تھی۔"طالبان کوئی مظبوط جواب نہیں دے سکے۔ وہ بدحواس اور چکراۓ ہوۓ لگتے ہیں۔ علاقے سے طالبان کی صفائی کے مرحلے کی رفتار نے افغان نیشنل فوج کی رہبری میںمقامی لوگوں کے ساتھ شوری (جرگہ) کے واقع ہونے کو ممکن بنایا۔ یہ بہت کامیاب رہا، مقامی لوگ جانتے ہیں کہ ایساف اور افغان فوجیں آ رہی ہیں اور انھوں نے ان کی پذیرائی کی ہے، میجر جنرل میسنجر نے کہا۔ بزرگوں کو اس بات کا یقین دلایا گیا ہے کہ ایساف یہاں مدد کرنے کے لیۓ موجود ہیں اور ابتدائی علامات یہ ہیں کہ مقامی لوگ اس میں حصہ لینے کے لیۓ جوشیلے ہیں۔ یہ کاروائی کی کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیۓ بہت اہم تھا۔ میجر جنرل میسنجر نے یہ راۓ دی کہ طالبان یا توعام لوگوں میں مل گئے ہیں، یاکہ شاید کسی اور دن لڑنے کے خیال سے علاقہ چھوڑ چُکے ہیں۔ تاہم افغان حکومت کے اثر رسوخ کو مظبوط بنانے کی حکمت عملی اور افغان اور ایساف کی مستقل بنیادوں پر افغانیوں کی حفاظت کے لیۓ موجودگی علاقے میں باغیوں کے دوبارہ قبضے کی اہلیت کو کم کر دے گی۔ میجر جنرل میسنجر نے کہا کہ بہت روڈسایڈ بم ملیں ہیں اور بہت سے موقعوں پر مقامی لوگوں نے بموں کی نشاندہی کی ہے اور ایک ایسے موقعے پر ایک کھیت میں سے گزرتی ہوئی ایک بموں کی لائن کی نشاندہی بھی کی گئی تھی۔ابھی تک اس آپریشن کی کامیابی کے لیۓ، انھوں نے مزید کہا، ایساف کے فضائی عناصر بشمول ہر طرح کی آئی ایس ٹی اے آر اور فکسڈ ونگ سپورٹ ہے۔ انھوں نے فضائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں سخت تاکید کی، کہ ان کا استعمال کم سے کم کیا جاۓ۔جہاں عسکریت پسندوں کی بہت کم ہلاکتیں ہوئی ہیں، میجر جنرل میسنجر نے کہا کہ ان کو کسی بھی شہری کی ہلاکت کی خبر نہیں ملی۔موجودہ حالات میں افغان فوجیں ایساف کے دوسرے فوجیوں کے ساتھ زیادہ تر مقامی لوگوں کے سرگرمیوں میں حصہ لینے اور باہر کی جانب تحفظ فراہم کرنے کے لیے آبادی کے مرکز میں بات چیت کر رہے ہیں۔ میجر جنرل میسنجر نے کہا کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کا موضوع پختگی ہو گی، فوجیوں کو زمینی سطح سے جہاں وہ کام کر رہے ہیں آگاہ ہونا اور اس بات کا یقین دلانہ کہ مقامی لوگ یہ جان جائیں کہ وہ یہاں ان کی حفاظت کے لیے آئے ہیں۔ اس کےفورا بعد توازن کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جاۓ گا جو کہ افغان فوجوں، نیٹو اور افغان قومی پولیس کے ساتھ مل کر دیرپا حفاظتی اقدامات اور ان کی موجودگی کا مقامی لوگوں کو احساس دلانا ہو گا۔ کاروائی کے شروع ہونے سے پہلے گورنروں اور گاؤں کے بزرگوں کی راۓ لی گئی تھی اور یہ سیکیوریٹی کے منصوبوں کا اہم حصہ ہوں گے۔ابھی تک کی کاروائی کا خلاصہ بیان کرتے ہوۓ میجر جنرل میسنجر نے کہا کہ"ایسا لگتا ہے کہ طالبان کو دھچکا لگاہے اور وہ بیٹھ گئے ہیں، تاہم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کو آنے والے چند دنوں میں سانس لینے کا موقع مل جاۓ اور وہ دوبارہ اُٹھ کھڑے ہوں، اور بچے کچے روڈسایڈ بم کا خطرہ ابھی بھی موجود ہے۔""یہ کوئی نہیں کہہ رہا کہ علاقہ محفوظ ہو گیا ہے یا ہمارا کام ختم ہو گیا ہے تاہم اس بات کا احساس ہو رہا ہے کہ پچھلی رات کے واقعات اتنی اچھی طرح پیش آے جتنی اچھی طرح وہ پیش آ سکتے تھے۔ ابھی تک سب اچھا جا رہا ہے۔" "ہم نے تدبیر سے طالبان کو حیرت میں ڈال دیا ہے اور وقت سے پہلے کا انتباہ بھی اچھا رہا اور مثبت مقامی حرکت ایک بہت اچھی علامت ہے۔ لیکن ابھی بہت لمبا راستہ طے کرنا ہے اور اس کا تمام انحصار مقامی لمگوں کی وفاداریاں حاصل کرنے پر ہے اور یہ ہم راتوں رات میں نہیں کر سکتے۔" اس بات پر زور دیتے ہوۓ کہ طالبان سے رابطہ جوڑنا کبھی بھی اس کا مقصد نہیں تھا، میجر جنرل میسنجر نے کہا کہ"یہ نہ تو ہم اور اُن کے خلاف کی مہم تھی اور نہ ہی ایسی مہم بنائی جا سکتی ہے۔ یہ کاروائی طالبان لوگوں کے درمیان مستعمل ہونے کی اہلیت کو ہٹانے اور پھر افغان لوگوں کی مشکلات سے نبٹنے کی اہلیت قائم کرنے کے ليۓ کی تھی۔"میجر جنرل میسنجر نے کہا کہ افغانستان کی مجموعی مہم کے لیۓ یہ آپریشن بہت اہمیت کا حامل ہے، کہا کہ یہ علاقے برے علاقوں کے نام سے جانے جاتے ہیں اور جب تک ہم اپنی دیرپا موجودگی وہاں نہ ظاہر کریں ہم اس مہم کے اگلے مرحلے میں نہیں جا سکتے۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 























