| ایک عورت افغانستان میں تبدیلی لا رہی ہے |
منجانب , USAID/Afghanistan شئیرمتعلقہ خبریں
کابل۔ افغانستان (13 جون 2010 ) – 24 سالہ واحدہ نے اس وقت اچھی تعلیم حاصل کی جب وہ پشاور پاکستان میں ایک پناہ گزین کی حیثیت سے رہ رہی تھیں۔ بہرحال جب وہ افغانستان میں اپنے گاؤں واپس لوٹی تو انہیں نئی مشکلات اور چند مواقع دیکھ کر حیرت ہوئی۔ غربت کی وجہ سے اسکے بھائی کو مجبوراً اسکول چھوڑ کر خاندان کی مدد کیلیے کام کرنا پڑا۔ واحدہ ایک لڑکیوں کے نزدیکی ہائی اسکول میں استاد بنکر مدد کرنا چاہتی تھیں مگر انکے بھائی نے اعتراض کیا۔ اُس نے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ تم گھر سے باہر جاؤ، کیا تم نہیں جانتیں کہ اس گاؤں کی لڑکیاں صرف گھر کا کام کاج کرتی ہیں اور اسکے علاوہ کچھ اور نہیں۔ واحدہ کیلیے موقعہ اس وقت سامنے آیا جب گاؤں کا ملک (بڑا) امریکی امداد کے عورتوں کیلیے مہارت، تجارت اور خواندگی میں مدد کے منصوبے پر بات کرنے اسکے گھر آیا۔ یہ جان کر کہ واحدہ تعلیم یافتہ ہیں اس نے چاہا کہ وہ گاؤں کے ایک تعلیمی مرکز کے قیام میں شمولیت لے کر مدد کریں۔ عورتوں کیلیے مہارت، تجارت اور خواندگی میں مدد کا منصوبہ مشرقی افغانستان میں 630 غیر محفوظ عورتوں اور لڑکیوں کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کیلیے کام کرتا ہے۔ تربیتی کارخانے عورتوں کی سلائی کڑھائی قالین بننے غذا کی تیاری اور بنائی کی مہارت کو بہتر بناتے ہیں تاکہ وہ عمدہ مال تیار کرکے انہیں فروخت کرسکیں اور ایک آمدنی کما سکیں۔ اسکے علاوہ واحدہ کی طرح کی خواتین ،عورتوں اور لڑکیوں کیلیے تعلیم اور تربیت کے مرکز کے تعاون سے پورے مشرقی افغانستان میں 25 مراکز میں تعلیمی جماعتوں میں پڑھاتی ہیں۔ ملک اسکے بھائی کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے کہ موقعہ محفوظ ہے اور اس سے واحدہ اور دوسری خواتین کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے توضیح کی کہ ہمارے گاؤں میں لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ تعلیم کیلیے عورتوں اور مردوں کا حق برابر ہے۔ یہ میرے اور تمہارے جیسے لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم قدم اٹھائیں اور لڑکیوں کیلیے تعلیم مہیا کریں اور جہالت مٹائیں۔ واحدہ آجکل ایک تعلیمی استاد کی حیثیت سے کام کررہی ہیں اور انکی کلاس میں 25 خواتین داخل ہیں۔ تدریس کے علاوہ وہ باقاعدگی کے ساتھ خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت پر زور دیتی رہتی ہیں۔ انکے شاگرد وہی پیغام اپنے خاندان والوں تک پھیلاتے رہتے ہیں۔ جوان لڑکیاں جو اپنے دن گھر کے کام کاج کرکے بتاتی تھیں اب اسکول جارہی ہیں۔ واحدہ نے اس بات کو جان لیا ہے کہ ایک شخص دوسروں کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لیکر آسکتا ہے۔ خاروتائی گاؤں کی خواتین مہارت اور تعلیم کے کورس لینے کے مواقعے ملنے پر خوش ہیں۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















