| امریکی کمانڈر نے کہا کہ عراق میں بہتری سے عراقی مزید آزادی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں |
منجانب Karen Parrish, American Forces Press Service شئیرمتعلقہ خبریںواشنگٹن (29 ستمبر، 2011) – ایک اعلی' امریکی کمانڈر نے آج کہا کہ امریکی فورسز کی کوششوں نے ایک جمہوری معاشرے کے فائدوں سے لطف اندوز ہونے کے موقعے کی صورت میں عراق کے لوگوں کو بہت بڑا تحفہ دیا ہے۔ فوجی میجر جنرل ڈیوڈ پرکنز جو کہ امریکی ڈویژن شمال اور امریکی فوج کی چوتھی پیادہ ڈویژن کے کمانڈر ہیں نے پنٹاگان رپورٹر کو ایک وڈیو ٹیلی کانفرنس کے ذریعے تکریت کے صدر دفتر سے بتایا کہ ان کو وہ آزادی دی ہے جس کا ان کو پہلے علم نہیں تھا اور ہم نے ان کو دنیا کے اس حصے میں جمہوریت کی ممکنات مہیا کی ہیں، جہاں پر یہ بہت ہی انوکھا ادارہ ہے ۔ جنرل نے کہا کہ امریکی فوجی فورسز کا عراق سے نکلنے کا شیڈول اس سال کے آخر تک کا ہے۔ عراق میں بہت اہم ترقیاں ہوئی ہیں، تاہم ابھی بھی کچھ مشکلات کا حل نکالنا ہے۔ کاروائی عراقی آزادی جو کہ 2003 کے مارچ میں شروع ہوئی تھی نے عراق کے ظالم ڈکٹیٹر صدام حسین کی حاکمیت کا خاتمہ کیا تھا۔ عراقی فریڈم اس کے بعد ستمبر 2010 میں آپریشن نئی صبح میں بدل گئی، جنگ کی کاروائیوں کو تربیتی میں بدلتے ہوۓ اس نے عراقی فورسز کو ہتھیاروں سے لیس کیا اور ان کی کی مدد کی۔ پرکنز کے ڈویژن نے پچھلے اکتوبر سے ننینوا، کرکوک اور دیالیا کےشمالی صوبوں میں ان کوششوں کی قیادت کی ہے۔ یہ بات ذھن میں رکھتے ہوۓ کہ ہر تعیناتی کے انوکھے پہلو رہے ہیں چوتھی ڈویژن عراق میں پہلی ٹروپ روٹیشن میں شامل تھی اور اب یہ اپنی چوتھی تعیناتی پوری کر رہی ہے ۔ پرکنز نے کہا کہ مشاورت، تربیت اور مدد کے اس مشن میں تبدیلی کی کاروائیاں، آپریٹنگ کے علاقے اور عراقی فوجوں کی بیس بھی شامل ہیں۔ انھوں نے توجہ دلائی کہ وہ فوجیں اب اپنے اندرونی سیکیوریٹی کو خود سنبھالتی ہیں اور اب اپنی ذیادہ تر تربیت ملٹری کے روایتی مشن پر مرکوز کر رہی ہیں جو کہ ملک کو بیرونی خطرات سے بچانے کا ہے۔ پرکنز نے کہا کہ عراقی اور کرد فوجیں اب شمالی عراق کی متنازعہ سرحد کے ساتھ ساتھ 22 سابقہ سہ رخی چیک پوائنٹ ذمہ داری باہمی طور پر سنبھالتی ہیں، جیسے جیسے امریکی فوجیں پیچھے ہٹ کر نظر رکھنے کے کردار کو اپنا رہی ہیں۔ جنرل نے یہ بات یاد دلاتے ہوۓ کہا کہ جھگڑوں کے حل کے لیۓ ثالثی کا نظام موجود ہے اور جب سے امریکہ نے وہاں سے اپنی روزانہ کی موجودگی کو ختم کیا ہے ان چیک پوائنٹ پر کوئی پر تشدد واقعہ نہیں ہوا۔ پرکنز نے کہا کہ اس نظام کے اعلی درجے پر، ہم سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے لوگوں کو رکھیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ آفس آف سیکیوریٹی کواپریشن-عراق کے لوگوں کو بھی، لیکن اس کے مقابلے میں جب میں یہاں آیا تھا تو لوگوں کی تعداد کے حساب سے یہ تناسب کافی کم تھا۔ عراقی فوجیں شمال میں القاعدہ کے خلاف کاروائیوں کی بھی قیادت کرتی ہیں جو کہ اس گروہ کے لیۓ بہت عرصے سے کاروائی کی آماجگاہ اور نقد اکٹھے کرنے کا علاقہ بنا ہوا ہے اس کے ساتھ ساتھ غیر ملکی جنگجو کے لیۓ ملک میں داخل ہونے کا بنیادی راستہ ہے۔ ہم نے غیر ملکی جنگجوں کےعراق میں داخلے کے بہاؤ میں ڈرامائی کمی دیکھی ہے اور غیر ملکی امداد کی بڑی مقدار میں آنے کی بجاۓ وہ اب جس کو میں جبران وصولی کہوں گا ، بلیک مارکیٹنگ ، جیولری سٹوروں پر ڈاکے اور اس قسم کی چیزوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم اب القاعدہ کی تنظیم میں اندرونی طور پر روپے پیسے کی تقسیم پر لڑائی جھگڑے دیکھ رہے ہیں۔ پرکنز نے القاعدہ کی عراق میں تنزلی کا سہرا ملک کے فوجیوں اور پولیس کے سر باندھا۔ پرکنز نے عراق کی سیکیوریٹی فورسز کی دہشپ گردی کے خلاف کوششوں کا ذکر کرتے ہوۓ کہا کہ یہ عام طور پر ان لوگوں کا پیچھا کرنے میں نیزے کی نوک کی مانند ہیں، اور وہ جب ایسا کرتے ہیں تو وہ عراق کی اندرونی انٹیلیجنس میں بہت ہوتے جا رہے ہیں اور پھر وہ واپس مڑ کر ان نیٹ ورکوں کے پیچھے جاتے ہیں۔ جنرل نے کہا کہ شمالی عراق میں القاعدہ یک نیٹ ورک غیرموثر نہیں ہے لیکن یہ بہت حد تک کم ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب ہم بہت سی دھماکہ خیز مواد سے لدی گاڑیاں کھڑی اور دھماکے سے اڑتی دیکھتے ہیں بہ نسبت چلتی ہوئے گاڑیوں کے دھماکہ خیز مواد سے اڑنے کے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو ان لوگوں جو کہ درحقیقت اتنے ایمان والے ہوں کہ خود کشی کر سکیں کو آمادہ کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ پرکنز نے کہا کہ شمال میں عراقی سیکیوریٹی فورسز کے دباؤ کی وجہ سے ایران کی پشت پناہی کی بنا پرکیۓ گۓ حملوں میں بھی کمی آ گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ لیکن میں پھر بھی یہ کہوں گا کہ ہم ان میں صلاحیت موجود ہے اس لیۓ ہمیں ان نیٹ ورکوں پر یہ دباؤ برقرارا رکھنا ہے، مزید یہ کہ تاریخی طور پر، ذیادہ تر ایرانی پشت پناہی کی بنا پر کیۓ گۓ حملے بغداد اور عراق کے جنوبی حصے میں ہوۓ۔ پرکنز نے توجہ دلائی کہ عراقی فورسز کو جرائم پیشہ اور دہشت گرد نیٹ ورکوں پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیۓ امریکی ملٹری کی مدد کے بغیر لازما" خود انحصار ہونا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ پہلے دن سے، ہماری نیت یہ تھی کہ ایسی صلاحیت تیار کی جاۓ جو کہ آحری دن جب ہم چلے جائیں تو وہ اس سے اگلے دن تک برقرار رہے اور چلتی جاۓ۔ انھوں نے مزید کہا کہ تربیت کے دوران عراقی فوجی اب انٹیلیجنس فیوژن اور لاجسکٹس پر توجہ مرکوز کیۓ ہوۓ ہیں۔ جنرل نے کہا کہ ہم نے لاجسٹک سسٹم کی ترقی پر خاص توجہ دی ہے، ایک سپلائی سسٹم اور ان میں ان میں انٹیلیجنس کے تبادلے کی صلاحیت نہ صرف ان کی آرمی کے درمیان بلکہ ان کی پولیس اور سرحدی تنظیموں کے درمیان بھی، کیونکہ، میں پھر کہوں گا کہ انٹیلیجنس کا تبادلہ ان کو اندرونی اور بیرونی دونوں طرح کے خطرات کے پیچھے جانے کی اجازت دیتا ہے۔ پرکنز نے کہا کہ ان کے فوجیوں نے ضوابط اور ہدائتی کتابچے ترتیب دینے اور ان کا عربی میں ترجمہ کروانے پر کافی وقت صرف کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے یہاں سے چلے جانے کے بعد، میں پھر کہوں گا، ان کے پاس کچھ ایسا ہو گا جس کے استعمال سے وہ کچھ بنا سکتے ہیں۔ ہم نے وڈیو بنائی ہیں اور ریکارڈنگ کی ہیں، انفنٹری کی حرکات کی، تمام بنیادی قسم کی چیزیں تاکہ وہ ایک نا تربیت یافتہ فورس کو بھرتی کر سکیں اور اور ان کو دکھا سکیں کہ درست طریقہ کیا ہے اور اس کو آگے بڑھا سکیں۔ عراق کی دفاعی صلاحیتیں اس کی 18 ایف 16 جنگی طیاروں کی حالیہ خریداری سے بڑھ جاۓ گی۔ پرکنز نے کہا کہ میرے خیال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ انھوں نے 18 [جنگی طیاروں] کو خریدنے کا عہد کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس اب جدید ائیر فورس ہو گی۔ ان کو پائیلٹ کی تربیت دی جاۓ گی، ان کو ان طیاروں کی دیکھ بھال کے پروگرام کی ضرورت ہو گی اور اس کے بعد مزید طیاروں کا اضافہ کافی آسان ہو گا۔ اس طرح کی صلاحیتیں بڑھانے کا کام انٹیلیجنس اکٹھا کرنے والے گروہوں میں پہلے ہی ہو چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اپنے [انٹیلیجنس اور نگرانی] کے پلیٹ فارموں کا مطالبہ نہیں کر رہے تھے کیونکہ ان کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ ان کے پاس پہلے سے موجود تھے۔ اس لیۓ جب ہم نے ان کو بتیا کہ ان کے پاس وہ پہلے سے موجود تھے، جب ہم نے ان کو دکھایا کہ ان کا مطالبہ کیسے کرنا ہے، تو وہ خود انحصار ہو گۓ کیونکہ انھوں نے اس کے لیۓ مطالبے کا اشارہ مخصوص کیا اور جس کو ان کے اداروں نے پورا کرنا تھا۔ پچھلے سال امریکی فورسز نے شمالی عراق میں 38 بیس میں سے اپنی تعداد 10000 کم کردی ہے اور 14 جگہوں سے 5000 مزید کم کر دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے اس کو بہت حساب سے کیا ہے کہ ہر اس بات کا خیال کرتے ہوۓ کہ وہ اپنی سیکیوریٹی کو کیسے سر انجام دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ میرے خیال میں ان کی اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی صلاحیت اور نہ صرف بیس اور اس کے سامان کو کنٹرول کرنے بلکہ شمال میں سیکیوریٹی کو بھی قابو میں رکھنے پر ہم بہت خوش ہوۓ ہیں۔ ریاستہاۓ متحدہ امریکہ نے عراق میں "بہت سے انسانی اور مالی دونوں خزانے" خرچے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہر روز ہم مزید ذمہ داریاں عراقیوں کو سونپتے ہیں۔۔۔[اور] اور وہ ان کو اچھے طریقے سے سنبھال اور نبھا رہے ہیں۔ عراقی سربراہ اب اس بات کا تعین کریں گے کہ ان کا ملک کتنا کامیاب ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ اب [عراقی] سیاسی قیادت پر منحصر ہے کہ وہ اس کو چلائیں اور اس مشکل کام کو سرانجام دیں، مشیکل فیصلے کریں جو کہ ملک میں جمہوریت کے لیۓ فائدہ مند ہوں۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















