| انفنٹری میں ہو کر بہت خوش |
منجانب Sgt. Marc Loi, 319th Mobile Public Affairs Detachment
پرائیویٹ آسٹن شواب، بی ٹروپ کے ایک انفنٹری مین ، 5ویں بٹالئن، 20ویں انفنٹری رجیمنٹ، فورٹ لوئیس واشنگٹن کے ساتھ، 13 اپریل کو دیدار، جنوبی افغانستان میں ایک کامبیٹ مشن میں سکیوریٹی ڈیوٹی سر انجام دینے کے دوران ہدایات کے لیۓ پیچھے دیکھتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب سارجنٹ مارک لوئی)
کامبیٹ آؤٹ پوسٹ کولک، افغانستان (24 اپریل، 2012) – پرائیویٹ فرسٹ کلاس آسٹن شواب ٹھنڈ سے اٹھے۔ انہوں نے اپنی پچھلے چند دنوں میں سے زیادہ تردن جنوبی افغانستان کے کے گھنی دلدلوں میں سے گزرتے ہوۓ گزاری۔ بعد میں اس رات جب پلاٹون، جس میں وہ کام کرتے ہیں، نے ایک کمپاؤنڈ پر قبضہ کر لیا ، شواب نے وہ رات زمین پرسو کر گزاری، ان کی رائفل ان کے برابر میں تھی۔ افغانستان کے صبح جلدی نکلنے والے سورج نے انھیں اٹھا دیا۔ فوجی نے چند ہی لمحوں میں فوری طور پر اپنا حفاظتی لباس اور آلات اٹھایا اور احاطے کی چھت کی طرف ایک سیڑھی پر چڑھ گیا تاکہ سکیورٹی کی نگرانی کر سے، وہ صرف 20 سال کا ہے۔ جبکہ اس کے دوست خود کو افغانستان، کے بارے میں سیاسی اور بین الاقوامی نظریات کے ساتھ کالج میں مصروف کر رہے ہیں، راک آئی لینڈ، ایلینوۓ کا یہ مقامی وہاں زندگی گزار رہا ہے۔ جبکہ دوسرے آپریشن اینڈیورنگ فریڈم کے بارے میں شام کی خبروں میں معلومات کے چھوٹے موٹے ٹکرے سن لیتے ہیں، شواب ان کو اپنی دو آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ "میں ہمیشہ ملٹری میں جانا چاہتا تھا۔" شواب نے کہا، جو پرائمری اسکول میں تھا جب افغانستان میں باغیوں پر بم گراۓ گۓ تھے۔ میں 18 سال کی عمر میں جانا چاہتا تھا، لیکن میں نوکری کر رہا تھا اور جا نہ سکا جب تک کہ میں 20 سال کا ہو گیا۔ جنگ ایک 20 سالہ کی نظر سے مختلف دکھتی ہے اور خاص طور پر ایک انفنٹری مین کے طور پر، شواب اس کی عظیم مثال ہے۔ جبکہ دوسرے جنگ اور زندگی کے معانی کے بارے میں فلسفیانہ سوالات کے ساتھ مصروف ہیں، شواب نے کہا کہ وہ صرف انفنٹری میں بہت خوش ہیں اور اس سے بھی زیادہ، ان کے تجربات، جو دوسروں کےتجربات کے مقابلے میں سخت ہے، نے اسے زیادہ نظم و ضبط کا پابند کیا ہے اور اسے جنگ سے دور بھاگنے کی بجائے، اس کے تجربوں کو گلے لگانے کا موقع دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ یہاں موجود ہونا کیسا ہے اور میں ان سے کہتا ہوں کہ اس کو بیان کرنے کے لیئے کوئی الفاظ نہیں ہیں ۔ یہ گھر ہونے کے مقابلے بے جد شدید ہے– جنگی میدان میں ہونا امریکہ میں گھر ہونے کی نسبت بہت مختلف ہے۔ شواب نے کہا کہ، ان اختلافات میں سے ایک آزادی اور خود مختاری ہے گھر میں آپ جو کچھ بھی کرنا چاہیں کرسکتے ہیں۔ ان کی ایک چھوٹی جنگی آپریٹنگ چوکی پر تعیناتی کے دوران اندرونی پلمنگ کے بغیر، گرم پانی میں نہانا فوجیوں کے لئے ایک لگژری بن گیا۔ ان اختلافات کی ایک، شواب نے کہا کہ، آزادی اور خود مختاری کر وہ جو کچھ بھی پسند کروں گا. جب ان ڈور پلمبنگ کے طور پر اتنا بغیر ایک چھوٹے جنگی آپریٹنگ چوکی پر تعینات، گرم بارش فوجیوں کے لئے ایک لگژری بن. انہوں نے کہا کہ حفظان صحت کی – جب چاہو نہانے کے قابل نہ ہونا، ہماری مشکلات میں سے ایک ہے۔ اپنے خاندان سے جب چاہو بات کر نے کے قابل ناہونا۔ آپ ایم-ڈبلیو آر جا سکتے ہیں یہ معلوم کرنے کے لیۓ کہ انٹرنیٹ نہیں چل رہا یا کچھ اور۔ پھر بھی، انٹرنیٹ سروس اور نہانے کے لیۓ گرم پانی کی کمی کی وجہ سے ان کی معمولی ترین پریشانیوں میں سے ہیں۔ ایک انفنٹری کے طور پر، شواب نے افغانستان کے سب سے زیادہ "متحرک" علاقوں میں سے ایک میں تعینات کیا ہے -- ایک اصطلاح جو فوجی اکثر جسمانی خطرات، جن کا ان کو سامنا کرنا پڑتا ہے، کی وضاحت کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی خاص دن پر، چاہے وہ جنگی گاڑیوں میں ہوں یا پیدل دیہات میں گشت کریں، یہ غیر معمولی ہے کہ شواب اور ان کی ٹیم میں فوجی باغیوں کا سامنا نہ کریں۔ بہت سی دیگر چیزوں میں پہلی بار کی طرح، شواب کو اب بھی یاد ہے جب پہلی بار ان کے اسکواڈ پر گولیاں چلی تھیں۔ وہ ابھی چوکی سے نکلے تھے، مغرب کی طرف جاتے ہوۓ، جب گولیاں ان کی طرف تیزی سے آئیں اور ارد گرد کی مٹی میں لگیں۔ انہوں نے اس موقعے کو یاد کرتے ہوۓ کہا کہ ہم نے صرف دھول کے بادل کو دیکھا اور گولیوں کی ترتڑاہٹ سنی، یہ اس دن ہمارا ان سے پہلا اور اکلوتا رابطہ تھا، لیکن مجھے یہ یاد ہے۔ پھر، ایسا بھی وقت تھا جب وہ ایک گزلیوں کی لڑائی ، جو تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی، میں شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت شدید تھی ۔ یہ ہماری پہلی بڑی گولیوں کی لڑائی تھی - میں نے صرف اپنی تربیت ختم کی تھی، اپنے علاقے کا جائیزہ لیا اور جب انھوں نے مجھ سے گولی چلانے کو کہا تو میں نے اچھی طرح جگہوں کا نشانہ لیا۔ جنگ میں سوچنے کا وقت نہیں ہوتا، اور یہ شواب کے لئے کوئی مختلف نہیں ہے۔ شواب نے کہا کہ گولیوں کی لڑائی، مثال کے طور پر، انھوں نے صرف اپنی حسیات کی بنیاد پر لڑی، صرف اس کے بعد، جب وہ واپس چھوٹی چوکی کی حدود میں محفوظ تھے، اس نے اپنے اعمال کا خطرے کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے صرف اپنی تربیت پر عمل کیا تھا۔ یہ صرف گولیوں کی لڑائی کے بعد یہی تھا کہ میں نے اس کے بارے میں سوچا۔ انہوں نے جاری رکھتے ہوۓ کہا کہ میرا خاندان، میرے لئے خوف زدہ ہے۔ لیکن وہ جانتے ہیں کہ میں وہ کر رہا ہوں جس سے میں محبت کرتا ہوں اور انہیں لگتا ہے کہ یہ میرے لئے بہت اچھا ہے۔ شواب نے کہا کہ وہ کچھ کرنے کے قابل ہونا جس سے وہ محبت کرتا ہے اور اس کو ذریعہ معاش بنانے کے قابل ہونا انفنٹری کے لیۓ اس کے جزبے کو بلند رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیسہ اچھا ہے، لیکن میں اس سے صرف لطف اندوز ہو رہا ہوں ۔ انفنٹری فوج میں سخت کام کے مواقع میں سے ایک ہے اور جب میں نے شمولیت اختیار کی، میں نے خود سے کہا تھا کہ میں اپنے آپ کو حد سے تجاوز کرنے کے لئے مجبور کرنا چاہتا تھا۔ میں واپس جانے کے بعد رینجرز میں جانے کا منصوبہ رکھتا ہوں۔ شواب نے کہا کہ انفنٹری کا مزید فائدہ، وہ بھائی چارا ہے جس کا انھوں نے تجربہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چیزیں جو میں نے یہاں سیکھی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہر کوئی اتار چڑھاؤ کا شکار ہوتا ہے۔ لیکن ایک گولیوں کی لڑائی کے وسط میں، ہو کوئی ایک دوسرے کو تحفظ دیتا ہے – یہ بھائی چارے کی ایک مختلف شکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں انفنٹری میں ہونے کو بہت پسند کرتا ہوں۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا میں نے سوچا تھا ۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















