Combined Joint Interagency Task Force-435
| ڈی ایف آئی پی میں گورنروں کا دورہ، قید خانے کے طریقہ کار کا براہ راست مشاہدہ |
منجانب MCC (SW) Maria Yager, Combined Joint Interagency Task Force 435 شئیرمتعلقہ خبریں1 فروری، افغان نیشنل آرمی بریگیڈیئر جنرل سیف اللہ صفی، پروان و پُلِ چرخی ملٹری پولیس بریگیڈ کے کمانڈر افغان گورنروں کو پروان کے قید خانے کے دورے کے دوران فسیلیٹی کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ تصویر امریکی بحریہ چیف مواصلات کی سپیشلسٹ ایس ڈبلیوماریہ یگر۔
صوبہ زابل کے گورنر محمد ناصری کہتے ہیں کہ لوگ سمجھتے ہیں یہاں بہت مسائل ہوں گے لیکن اب ہم مقامی آبادیوں کو مثبت پیغام دے سکتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم ان لوگوں کو قائل کر سکتے ہیں اور اس قید خانے میں قیدیوں کو بہترین سہولتیں میسر ہیں۔ صوبے زابل، تخار، پکتیکا، اورزگان کے گورنروں اور صوبہ فراہ کے نائب گورنر نے فسیلیٹی کا دورہ کیا اور ان کا یہ دورہ مشترکہ انٹرایجنسی ٹاسک فورس 435 سے تعارفی عمل کا ایک حصہ تھا۔ اسی روز افغان قومی فوج کے میجر جنرل مرجان شجاع جو سی جے آئی اے ٹی ایف 435 کے افغان کمانڈر ہیں، اور افغان نیشنل آرمی کے لیفٹیننٹ کرنل محمد انور منیری، وزارتِ داخلہ کے بائیومیٹرکس شعبے کے ڈائریکٹر ہیں نے گورنروں کا تعارف افغان 1,000 سے کرایا۔ بے گناہ افغان شہریوں کی شناخت کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے افغان وزارتِ داخلہ نے مشترکہ انٹرایجنسی ٹاسک فورس 435 سے تعاون کیا جس نے پورے افغانستان میں بائیومیٹرکس انرولمنٹ صلاحیت کا اطلاق کیا ہے۔ افغان 1000 پروگرام پورے افغانستان سے بائیومیٹرکس جمع کرنے کے لیے انرولر کی خدمات حاصل کر رہا ہے۔ گورنروں کو دی جانے والی بریفنگ میں کراس میچ جمپ کِٹ کا مظاہرہ بھی کیا گیا جو بائیومیٹرکس جمع کرنے کے لیے افغان نظام ہے۔ گورنروں نے پروگرام اور اس سے بنائے جانے والے نئے الیکٹرانک تذکرہ کے بارے میں سوالات کیے۔ اسی روز بعد ازاں، گورنروں نے ڈی ایف آئی پی کا دورہ کیا۔ ڈیف ایف آئی پی کمانڈر امریکی فوج کی بریگیڈئیر جنرل مینڈی مرے اور ان کے افغان ہم منصب افغان نیشنل آرمی کے بریگیڈیئر جنرل سیف اللہ صفی جو پروان اور پُلِ چرخی ملٹری پولیس بریگیڈ کمانڈر بھی ہیں، نے دورہ کرایا اور عمارت کی مشروط منتقلی پر تبادلہ خیال کیا۔ سی جے آئی اے ٹی ایف۔435 کے ارکان قید خانے کے طریقہ کاروں میں مشیروں کی حیثیت سے کام کرتے ہیں اور افغان حکومت کے پارٹنر ہیں تاکہ آپریشنز کو امریکی اور افغان حکومت کے درمیان طے پانے والی یادداشت کے مطابق افغان کنٹرول میں دیا جائے۔ قید خانہ جدید ترین سہولیات سے لیس ہے جس میں اہل خانہ سے ملاقات کے لیے علاقہ، تفریحی جگہ، ووکیشنل تکنیکی تربیت اور درس و تدریس کے لیے کلاس رومز اور قانونی کارروائی کے لیے علیحدہ حصے شامل ہیں۔ سیف اللہ، جو 1800 سے زائد فوجیوں کی کمانڈ کرتے ہیں نے کہا کہ افغان قومی فوج کو افغان ہائوسنگ یونٹ پر مکمل کنٹرول ہے اور اس کے ساتھ ہم قیدیوں کے دوسرے ہائوسنگ یونٹس میں بھی کام کر رہے ہیں۔ اے این اے نے گزشتہ برس سے قیدیوں کی اصلاح اور انہیں سبنھالنے کے حوالے سے جوانوں کی تربیت کا آغاز کیا ہے۔ گزشتہ ماہ مئی میں بنیادی اصلاحی تربیت مکمل کرنے کے بعد اے این اے فوجی پولیس نے اے این اے لاجسٹکل سپورٹ ایکٹیویٹی پروان میں اگلے درجے کی تربیت مکمل کی تاکہ انہیں ڈی ایف آئی پی میں تعیناتی کے لیے تیار کیا جا سکے۔ اے این اے ملٹری پولیس کے پہلے دستے نے گزشتہ جولائی میں اپنے امریکی ہم منصبوں کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔ امریکی اور اے این اے کے جوان بین الاقومی معیار اور افغان قوانین کے مطابق قیدیوں کو سنبھالنے کے محفوظ اور انسانی طریقوں میں مہارت رکھتے ہیں۔ ڈی ایف آئی پی امریکی قانون اور جنیوا کنونشن کے کامن آرٹیکل III، قیدیوں سے سلوک، ایگزیکٹیو آرڈر جس پر 2009 میں دستخط کیے گئے، امریکی وزارتِ دفاع کے متعلقہ ڈائریکٹیوز اور امریکی آرمی فیلڈ مینوئل کے مطابق چلایا جاتا ہے۔ سی جے آئی اے ٹی ایف 435 دیگر اداروں جیسے کہ عالمی ریڈ کراس، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اتحادی ممالک کے ساتھ بھی رابطے میں رہتی ہیں۔ سی جے آئی اے ٹی ایف 435 افغانستان میں قید خانوں کا نظام چلاتی ہے جس میں قیدیوں کی دیکھ بھال اور حراست میں رکھنا، قیدیوں پر نظر ثانی کا طریقہ کار اور ووکیشنل اور تعلیمی پروگرام شامل ہیں تا کہ قیدیوں کو دوبارہ سماج کا مفید حصہ بنایا جا سکے۔ سی جے آئی اے ٹی ایف 435 اپنے اے این اے پارٹنر کے لیے اصلاحی اور مجرموں کو قید رکھنے کے مشیر کے طور پر کام کرتی ہے اور قید خانے کے نظام کو مشروط طور پر افغان کنٹرول میں دینے پر کام کر رہی ہے تاکہ بعد ازاں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ |
Detention Facility in Parwan Province, Afghanistan
تصویریں
Podcasts
There are no podcasts available at this time.










