صفحہ اول | خبریں | خبریں | جارجیا کے مرین کو افغانستان میں بہادری کے کارناموں پر سلور سٹار سے نوازا گیا
جارجیا کے مرین کو افغانستان میں بہادری کے کارناموں پر سلور سٹار سے نوازا گیا
منجانب Cpl. Jeff Drew, 2nd Marine Division
120711_shake
سرهنگ کنت ام دیکرکس، افسر فرمانده هنگ تفنگداران 8، لشکر تفنگداران 2، پس از آن که ستاره نقره ای، سومین جایزه بزرگ کشور برای شهامت را به سرجوخه جفری کول (راست) از اهالی ووداستاک جرجیا می دهد، با او دست می دهد. (عکس از سرجوخه جف درو)

مرین کور بیس لیجیون، نارتھ کیرولائینا (11 جولائی، 212) – اس نے اپنے ساتھ کھڑے پانچ مرینز کو گرتے دیکھا، جن کو باغیوں کی مشین گن کی گولیاں لگی تھیں۔ سیکنڈوں کے اندر اندر لانس کارپورل جیفری کول بھی اپنے بھائیوں کے ساتھ شامل ہو گئے جب تین راؤنڈ کے دھماکے نے اس کے دو سو پاؤنڈ کے جسم اور اسی پاؤنڈ سامان کو زمین سے اٹھا کر پانچ فٹ ہوا میں اچھالا اور پھر مٹی پر زور سے گرا دیا- سارا کچھ آدھے سیکنڈ سے کم کے عرصے میں پیش آیا۔

ووڈ سٹاک، جارجیا کے مقامی کو تین راؤنڈ کی گولیاں ان پلیٹوں میں لگیں جو اس نے چھوٹے ہتھیاروں سے بچنے کے لیۓ اپنے جسم کے گرد پہنی ہوئی تھیں۔ وہ گر گیا تھا مگر زخمی نہیں ہوا تھا۔ زخمی مرینز اس وقت ایک نہر تک پہنچنے کے قابل ہو گۓ جہاں وہ آڑ لے سکتے تھے، جہاں سے کول نے اپنی رائفل سے جوابی فائرنگ کی۔ گشت کے آدھے مرینز کے زخمی ہونے پر انھوں نے ریڈیو پر وہاں سے نکلنے کے لیئے امدادی درخواست کرنی چاہی لیکن کسی نے جواب نہ دیا۔ کسی بھی مدد کی امید کے بغیر اور تقریباً 20 باغی مورچے بانڈھے ان سے صرف 30 میٹر کی دوری سے اب ان کی طرف بڑھ رہے تھے اور ان کا خون بہ رہا تھا۔

17 اگست، 2012 کی صبح کول کے لیۓ بہت سویرے شروع ہوئی۔ وہ صبح کے چار بجے اٹھا تاکہ اپنی چار گھنٹے کی  گارڈ ڈیوٹی کر سکے۔ جب اس نے اپنی ڈیوٹی ختم کی، صبح کی گشتی ٹیم واپس آئی اور اس نے اپنی رائفل صاف کرنے اور پانی بھرنے سے پہلے ان کو کھانا پکانے میں مدد دی۔ اس نے انگوروں کی باغ میں سے ایک اور گشتی گروہ کو جلد ہی جانے کے لیۓ تیار سنا، وہ بھی ان کے ساتھ جانا چاہتا تھا۔ ان ساڑھے تین ہفتوں میں جب سے اس کی یونٹ، سیکینڈ بٹالین،  9ویں مرین رجیمنٹ، سیکینڈ مرین ڈویژن، گاؤں میں آئی ہے، کول ابھی سے 46 مشنوں پر جا چکا ہے، خوش قسمتی سے کسی حملے کا سامنا کئے بغیر۔

اس گشت، جس نے اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دی، میں اس کے سکواڈ سے چھ مرینز اور ایک نیوی فوجی اور پروفیشنل مینٹور ٹیم کے تین مرینز شامل تھے، یہ گروپ بنیادی طور پر افغان نیشنل آرمی سکیورٹی فورسز کی تربیت اور ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا ذمہ دار ہے۔ یہ نگرانی کا مشن تھا – تاکہ ارد گرد کی زمین اور لوگوں کی تصاویر لی جا سکیں اور علاقے کے بارے میں جتنا بھی ہو سکے سیکھا جا سکے۔ تقریباً دوپہر کے 1:30 پر وہ اس جگہ پہنچے جہاں وہ رات کو بھی موجود تھے۔ انھوں نے مقامی افغانوں سے بات چیت کی اور مٹی کی عمارتوں کی تلاشی لی۔ دوپہر کے تقریباً 3:30 پر وہ آخری عمارت سے نکلے؛ ایک گولی چلنے کی آواز فضا میں گونجی اور ان کو اپنے خود کی زندگیاں بچانے کی جنگ لڑنے کی صورتحال میں پایا۔ پہرہ دینے والا دستہ دشمن کی شدید گولہ باری کی وجہ سے اپنی جگہ سے ہل نہ سکا؛ پانچ مرینز زخمی تھے اور وہ کسی سے بھی ریڈیو پر رابطہ نہیں کر پا رہے تھے۔

کول نے اس دن کے کو یاد کرتے ہوۓ کہا کہ "لڑائی میں تیس منٹ کے بعد، میں نے ایک چیخ سنی کہ دشمن ہماری طرف بڑھ رہا تھا" ۔ "میں نے اپنے دوست، جو کہ زخمی تھا، سے مشین گن لی اور اس کو اپنی رائفل دی۔ میں نے مشین گن اپنے کندھے پر رکھی اور گولیاں چلانی شروع کر دیں۔ اور پھر میں کھڑا ہوا اور اپنی پچھلی جانب دائیں بائیں ہلتے ہوۓ گولیاں چلائیں۔ میں نے 150 راؤنڈ چلاۓ، اور جب میں نے ایسا کیا، مجھے تین بار گولیاں لگیں۔ ایک راؤنڈ میری پلیٹوں پر دوبارہ لگا اور دو راؤنڈ میرے بازؤں میں لگے۔"

"اس بار ایسا لگا جیسا کہ میں دھوپ میں جل گیا تھا،" کول نے ان احساسات کو یاد کرتے ہوۓ کہا جب راؤنڈ اس کے بازؤں میں لگے تھے۔ "میری ہڈی جھنجھنا اٹھی اور ٹوٹ گئی اور اس سے میرے بازو کا اندر کا حصہ اڑ گیا، میں کچھ بھی محسوس نہیں کر سکا۔ اس نے مجھے گھما کر کھائی میں پھینک دیا۔"

فوری طور پر مرینز نے خون روکنے کی کوشش میں زخمی کول کو پٹی بانھ دی۔ اس چھٹے  زخمی کے ساتھ، مرینز کو معلوم تھا کہ انھیں وہاں سے نکلنا تھا – جلد ہی۔

وہ ایک قریبی احاطے میں پہنچنے کے قابل ہوۓ دشمن کی گولیاں مٹی کی دیواروں میں کھودتی ہوئی۔  دشمن پیش قدمی کر رہا تھا اور کول جو سن سکتا تھا وہ صرف ریڈیو پر کی گئی کالیں تھیں۔

"تمام چینلز، کہیں بھی ہمارے آس پاس جو ہمیں سن سکے- ہمیں مدد چاہیۓ!"

ایک اور پٹی اس کے بازو پر باندھی گئی، لیکن اس کا خون پھر بھی ضائع ہو رہا تھا - وقت ختم ہو رہا تھا۔ اپنے شدید زخموں کے باوجود، کول نے گشت پر مرینز ڈھال مہیا کرنے ، محفوظ بنانے اور دشمن کو دور رکھنے کے لیۓ درست نشانے پر گولیاں برسانی جاری رکھیں۔

معجزانہ طور پر، حملہ آور ہیلی کاپٹر کی آواز نے گولیوں کے بادل کو توڑا۔ مرینز جن کے پاس گولہ بارود ختم ہو رہا تھا اور جو زخمی تھے، انھوں نے دشمن پر جوابی گولیاں جاری رکھیں جب کہ ان کی فضائی مدد نے طبی انخلا کا تحفظ فراہم کیا۔ ایک برطانوی سی ایچ -46 سی کنگ ہیلی کاپٹر قریبی باغیوں کی بھاری فائرنگ میں نیچے اترا۔ مرینز ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہوۓ آہستہ آہستہ ریسکیو ہیلی کاپٹر کی طرف بڑھے اور دشمن کی فائرنگ کے دوران ہیلی کاپٹر پر چڑھے۔

کول کو کمپ بیشن بھیجا گيا جہاں اسے فوری طور پر سرجری کے لیے لے جایا گیا۔  تقریباً 18 گھنٹوں کے بعد وہ بہتر حالت میں تھا۔ اس کے خاندان کو مطلع کیا گیا کہ وہ زخمی ہو گیا تھا اور اس کا بھائی شکر گزار تھا کہ اس کا بڑا بھائی بہت زیادہ شدید زخمی نہین ہوا تھا۔

بیس سالہ پیریز کول نے کہا  کہ "میری والدہ نے مجھے کام پر فون کیا اور کہا کہ مجھے گھر جانا چاہیے" ۔ "سب سے پہلا سوال جو میں نے کیا وہ یہ تھا، 'کیا وہ زندہ ہے؟' انھوں نے کہا، ہاں،" اور پھر ہمیں چھ سات دن اس کا واپس امریکہ آنے کا انتظار کرنا پڑا۔ ہم بہت بے صبر تھے، انتظار میں تھے۔ میں ڈرا ہوا تھا، لیکن میں خوش تھا کہ وہ زندہ تھا۔"

بتھیسڈا، میری لینڈ کے والٹر ریڈ نیشنل ملٹری میڈیکل سنٹر میں تھوڑا عرصہ رہنے کے بعد، کول زخمی جنگجو بٹالین میں شامل ہوگيا – کیمپ لیہیون کے مشرق میں اور اپنی بحالی کا سفر شروع کیا۔

کول کو 10 جولائی کو اس دن کے نتیجے میں سلور سٹار سے نوازا گیا، قوم کا تیسرا سب سے بڑا بہادری کا اعزاز۔ وہ اس بات پر بضد ہے کہ وہ کوئی ہیرو نہیں ہے اور جب اس نے اس سڑک پر کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا تو وہ صرف اپنی ذمہ داری پوری کر رہا تھا۔

کول نے ذکر کیا کہ "میرا نہیں خیال کہ میں اس کا مستحق ہوں" ۔ "جو بھی میں نے کیا وہ ان مرینز جن کے ساتھ میں تھا کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ وہ اس کھائی میں پھنسے ہوۓ تھے، زخمی تھے، اور انھون نے اس دشمن کے خلاف ایک گھنٹے تک لڑائی لڑی جو 30 میٹر دور تھا۔ وہ ایک بار بھی پیچھے نہین ہٹے۔ یہ ایوارڈ میرا ایوارڈ نہیں ہے۔ یہ ان کا ایوارڈ ہے اور ان تمام جوانوں کا جن کو ہم نے کھو دیا اور جو یہ نہیں پہن سکتے، میں ان کی طرف سے پہنوں گا کیونکہ وہ ایسا نہین کر سکتے۔"

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
33,148+