صفحہ اول | خبریں | گیٹس: عراق میں جنگ ختم، امریکہ پہلے والی ذمہ داریاں عراقی فورسز کو منتقل کر رہا ہے
گیٹس: عراق میں جنگ ختم، امریکہ پہلے والی ذمہ داریاں عراقی فورسز کو منتقل کر رہا ہے
منجانب , American Forces Press Service

رمادی، عراق، 1 ستمبر، 2010 –  وزیرِ دفاع رابرٹ ایم گیٹس نے آج یہاں کہا کہ عراق میں جنگ ختم ہوگئی ہے اور امریکہ عراق میں امریکی مشن کے آخری مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ 

وزیر نے کہا کہ امریکی جنگی کاوائیاں روک دی گیٔ ہیں۔ امریکی فورسز اس وقت بھی عراقیوں کے ساتھ مل کر انسدادِ بغاوت کی کاروائیوں میں حصّہ لے رہی ہیں اور وہ عراقی فورسز کے لیے تربیتی، مشاورتی اور امدادی خدمات انجام دے رہی ہیں مگر امریکہ عراق میں حالتِ جنگ میں نہیں ہے۔ 

گیٹس نے کہا کہ دسمبر 2006 میں ان کے فرائض سنبھالنے کے بعد سے عراق میں بہت سی تبدیلیاں آئیں ہیں۔ اُس وقت عراق شدید مشکل میں گرفتار تھا۔ نسلی تشدد کی وجہ سے، جس کو عراق میں القاعدہ ہوا دے رہا تھا اِس سے ملک کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا خطرہ تھا۔ سُنّی اور شیعہ عرب ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان تھے اور دونوں ہی کردوں پر بھروسہ نہیں کرتے تھے۔ باغی سڑک کے کنارے بم نصب کر رہے تھے اور عراقی اور اتحادی فورسز کے خلاف کار بم استعمال کر رہے تھے۔  

ان تاریک دنوں میں عراقی سکیورٹی فورسز کے امریکی دستوں کی جگہ سنبھالنے کے قابل ہونے تک علاقے پر قبضہ کرنے اور اس کو برقرار رکھنے کے لیے ملک میں مزید 30,000 امریکی دستوں کے اضافے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

یہ کامیاب تو رہا مگر امریکی فوجیوں نے اس کی بہت بھاری قیمت ادا کی۔ 2003 میں لشکر کشی کے بعد سے عراق میں امریکی فوج کے کل 4,427 ارکان ہلاک ہوۓ ۔ تقریباً 34,268 زخمی ہوۓ ۔ لاکھوں نے بار بار عراق میں خدمات انجام دیں۔

نامہ نگاروں نے گیٹس سے پوچھا کہ آیا اِس قربانی کی ضرورت تھی۔ اگر عراق ایک  ایسا جمہوری ملک بن جاتا ہے جو  بین الاقومی معاملات میں تعمیری کردار ادا کر سکے ۔ ۔ ۔ تو میرا خیال ہے کہ ماضی کو دیکھتے ہوۓ علاقے میں قابلِ ذکر بنیادی تبدیلی کی امکان کے لیے ایک جمہوری ریاست کے قیام کی قدر و قیمت کو کم نہیں سمجھنا چاہیۓ۔  ہمارے فوجی مرد اور خواتین کو یقین ہے کہ جو کارنامہ ہم نے انجام دیا ہے وہ اس قربانی اور خون ریزی کا زیاں نہیں ہے۔ ہمارے مرد اور خواتین نے صحیح معنوں میں غیر معمولی کارنامہ انجام دیا ہے۔

وزیر ملک کے مستقبل کے بارے میں پر امید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں سیاست پھوٹ پڑی ہے اور مخالف فریق ایک دوسرے پر گولیاں چلانے کی بجائے حکومت کی تشکیل کے بارے میں بات چیت کر رہے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ جو نسلی تشدد ہم نے 2006 اور 2007 میں دیکھا تھا، اُس کو دوبارہ چنگاری دکھانے کی القاعدہ کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں۔ میں پر امید ہوں کہ یہ لوگ ایک مخلوط حکومت بنا لیں گے اور پیش رفت جاری رکھیں گے۔ یہ کام ایک طویل مدت تک جاری رہے گا۔ یہ عراق کی کئی ہزار سالہ تاریخ میں ایک نئیچیز ہے اور دنیا کے اس خِطّے میں بھی یہ خاصی نئِ چیز پائی جاتی ہے۔  

محض آج صبح یہاں آنے کے بعد سے گیٹس نے جو تبدیلیاں دیکھیں انہوں نے اس کی دو مثالیں دیں۔ پہلی یہ کہ جب وہ یہاں اترے تو الاسد ائر بیس کس قدر خالی لگ رہا تھا۔ ایک وقت وہ تھا کہ بیس میں 22,000 میرین اور فوجی  سپاہی مقیم تھے۔

دوسری مثال کہ عکاسی چوتھے بریگیڈ کی لڑاکا ٹیم کی تیسری پیادہ ڈیویژن کے سپاہیوں کے سوالوں سے ہوتی ہے۔ گیٹس نے یہاں سپاہیوں سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ  سوال اور جواب کی ایک  نشست کی۔  گیٹس نے کہا کہ مشاورت اور امداد کے بریگیڈ کے سپاہیوں نے سلامتی اور عراق  کے  مسائل کے بارے میں اتنے سوالات نہیں پوچھے جتنے ان کی اپنی صورتِ حال اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں تھے۔

50,000 امریکی فوجی جو عراقی سکیورٹی فورسز کو مشاورت اور امداد فراہم کرنے کے لیے پیچھے رہ گۓ ہیں اُن کو بدستور سخت حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے سپاہیوں کو بتایا کہ مثال کے طور پر وہ ان کی اس خصوصی تنخواہ کو ختم کرنے کی حمایت نہیں کریں گے جو ان کو اُنکی خدمات کے عوض یہاں ملتی ہیں۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
120511-N-NN926-057

120511-N-NN926-057
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
17,356+