| گیٹس، کرزئی کی افغانستان کے مستقبل پر بات چیت |
منجانب , American Forces Press Service شئیرمتعلقہ خبریں
امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس کابل، افغانستان کے صدارتی محل میں 2 ستمبر کو صدر حامد کرزئی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران پریس سے گفتگو کر رہے ہیں۔
کابل، افغانستان (2 ستمبر، 2010) – یہاں آج افغانی صدر حامد کرزائی کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران وزیرِ دفاع رابرٹ ایم گیٹس نے کہا کہ افغانستان میں "واضح اور پائیدار نتائج" حاصل کرنے کے لیے اب کافی وسائل موجود ہیں۔ اس سے پہلے دونوں رہنماؤں نے دن کے آغاز میں افغانستان کی حکومت میں بدعنوانی کے خلاف جنگ، عام شہریوں کی ہلاکتوں اور جولائی 2011 کے آغاز میں سلامتی کی ذمہ داریوں کی امریکی فوج سے افغانی فورسز کو بتدریج منتقلی جیسے مسائل کے بارے میں بات چیت کرنے کے لیے ملاقات کی تھی۔ کرزئی نے نامہ نگاروں کو گیٹس کے ساتھ بات چیت میں ہم نے ابھی تک جو پیش رفت کی ہے اور جو کچھ کرنا باقی ہے کی تفصیل" کے بارے میں بتایا۔ گیٹس نے کہا کہ صدر اُبامہ نے دسمبر 2009 میں جن 30,000 امریکی فوجیوں کو افغانستان میں متعین کرنے کا حکم دیا تھا وہ تقریباً سارے پہنچ چکے ہیں. امریکی فورسز 7,000 اضافی نیٹو اور غیر نیٹو حلیف فوجیوں کے ساتھ مل کر کاروائیاں کر رہی ہے. امریکہ نے افغانستان میں شہری افراد کی تعداد تین گنا کر دی ہے اور افغانی سکیورٹی فورسز کے لیے مزید بہت سے تربیت دینے والے فراہم کیے ہیں- لیکن افغانستان کی مہم کے لیے اضافی وسائل صرف بین الاقوامی فورسز تک محدود نہیں ہیں۔ گیٹس نے کہا کہ افغانی سکیورٹی فورسز کا سائز اور صلاحیتں تعداد اور معیار میں بہتر ہوتے جا رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پچھلے نو مہینوں میں افغانی فورسز کی تعداد میں 60,000 سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے سالانہ بھرتی کا ہدف تین مہینے پہلے ہی حاصل کر لیا ہے۔ گیٹس نے کہا کہ افغانی دستے بین الاقوامی امدادی سکیورٹی فورس کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، جن میں تقریباً 85 فیصد افغانی کندک یا بٹالین ایساف یونٹس کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ وزیر نے کہا کہ افغانی اور ایساف کی فورسز مل کر تربیت حاصل کر رہی ہیں، مل کر منصوبہ بندی کر رہی ہیں اور مل کر لڑ رہی ہیں جس میں افغانی فورسز اب بڑھتی ہوئی تعداد میں قیادت کر رہی ہیں. اس دوران طالبان حقانی نیٹ ورک اور ان کے القاعدہ کے حلیفوں نے مزاحمت کی ہے۔ امریکی اتحادی اور افغانی فورسز کو توقع تھی کہ دیہات اور شہروں پر قبضہ کرنے اور اس قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے جوں جوں وہ ان کو پیچھے دکھیلیں گے جنگ میں شدت آتی جائے گی۔ وزیرِ دفاع نے کہا کہ اگرچہ اتحادیوں کے زخمی اور ہلاک ہونے والوں کے تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ہمارے دشمن اس کی بہت زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں اور پہلے کی نسبت بہت زیاہ دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔ جوں جوں اُن علاقوں اور لوگوں کو سکیورٹی فراپم کرنے کے لیے جنہیں طالبان نے دہشت زدہ کر رکھا تھا افغانی اور اتحادی کاروائیوں میں توسیع ہوتی ہے اس میں شدت آتی جاۓ گی۔ گیٹس نے کہا کہ اس دباؤ کا نتیجہ مفاہمت اور افغانستان میں دوبارہ شمولیت میں نکلنا چاہیۓ اور اس وقت بھی ایسے چھوٹے چھوٹے گروہ موجود ہیں جو افغانی اور اتحادی فورسز سے لڑنے کی بجاےئے اپنے ہتھیار ڈال رہے ہیں۔ گیٹس نے کہا کہ اس دوران فوجی آپریشنز میں اضافے کے باوجود، اتحادی اور افغانی کاروائیوں کی وجہ سے عام شہریوں کے غیر ارادی ہلاک اور زخمی ہونے کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی تمام فوجی کاروائیوں میں معصوم شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے پوری کوشش جاری رکھیں گے، تاہم، اس دوران طالبان قیادت نے افغانی شہریوں کے خلاف ایک وحشیانہ مہم اور افغانی اہلکاروں کو قتل کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ وزیرِ دفاع نے اعلان کیا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ بدعنوانی کو مزید ہوا نہ ملے امریکہ ٹھیکے دینے اور بیرونی امداد فراہم کرنے کے قواعد و ضوابط کو دوبارہ لکھ رہا ہے۔ اِس کو یقینی بنانے کے لیے امریکی سفارت خانہ اور افغانستان میں امریکی فورسز مل کر نۓ قواعد و ضوابط کی تشکیل کر رہے ہیں۔ گیٹس نے کہا کہ ہم افغانی حکومت کی اُن کی بدعنونی کو ختم کرنے کوششوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ افغانی صدر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان کی حکومت بدعنوانی سے جنگ کرے گی، مگر اس کو افغانی قانون کے مطابق ہونا چاہیۓ۔ کرزئی نے کہا کہ ہمیں بدعنوانی سے جنگ کرنی چاہیۓ، مگر بدعنوانی سے قانونی طور پر اور صحیح طریقے سے لڑنا چاہیۓ، بدمعاشوں کے طرح یا لوگوں کے حقوق کی خلاف ورزی کر کے نہیں۔ گیٹس نے جولائی 2011 – اُبامہ کی مقرر کردہ تاریخ جب حالات کے مطابق سکیورٹی کی ذمہ داریاں افغانوں کو منتقل ہونا شروع ہو جائینگی، کے بعد فوج کے کردار کے بارے میں دوبارہ یقین دہانی کرائی ۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ اتحادی فوج کا کردار بدلتا جاۓ گا، لیکن ایک چیز جو مستقل رہے گی وہ امریکہ کا افغانی عوام کے ساتھ طویل مدت کے لیے ذمہ داری نبھانے کا عہد ہے۔ وزیرِ دفاع نے کہا کہ صدر کرزئی اور میں نے امریکہ– افغان مضبوط سٹرٹیجک شراکت کے اعلان کی اہمیت پر بات چیت کی ہے جس کو ہماری دونوں حکومتیں تیار کر رہی ہیں۔ گیٹس نے کہا کہ امریکی فوج جولائی 2011 میں پلک جھپکتے ہی چھوڑ کر نہیں جا رہی۔ اگر طالبان یہ سمجھتے ہیں کہ اگلی گرمیوں میں امریکی بڑی تعداد میں نکلنا شروع کر دیں گے تو اُن کو بڑی مایوسی ہو گی اور وہ ہم کو جنگ میں مصروف دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ امریکہ اور افغانستان طویل المدت فوجی، سیاسی اور معاشی شراکت کو جاری رکھیں گے وزیرِ دفاع نے کہا کہ امریکہ2011 کے بعد یھی افغانستان میں فورسز رکھے گا۔ ہم نے 1989 میں افغانستان کا ساتھ چھوڑنے پر سبق سیکھ لیا ہے اور ہمارا دوبارہ ایسا کرنے کا بلکل بھی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان، پاکستان اور دوسرے علاقوں میں جہاں طالبان اکٹھا ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں، امریکہ ان کو منتشر کرنے پاش پاش کرنے اور شکست دینے کا عمل جاری رکھے گا۔ گیٹس نے کہا کہ ہماری کامیابی افغانستان کے لوگوں کے مستقبل، خطے کے استحکام اور امریکی عوام اور ہمارے حلیفوں کی سلامتی کے طویل المدت مفادات کے لیے بہت اہم ہو گی۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















