وزیر دفاع رابرٹ ایم۔ گیٹس، بائیں طرف، ہفتے کے روز انقرہ، ترکی میں ایک ملاقات کے بعد ترکی کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل الکر باس بگ کے ساتھ۔
انقرہ، ترکی (فروری 6، 2010) - وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے ہفتے کو کہا کہایران کے نیوکلیر پروگرام کوروکنے کے دباؤ کے باوجود یہ مشرق وسطی کے لیۓ متواترخطرے کا باعث بن رہا ہے ۔
گیٹس نے روانڈ ٹیبل پر ترکی اور امریکی صحافیوں کو سفر کے دوران کہاکہ " ایران ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے، اور میرے خیال میں سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ اگر ایران۔۔۔۔۔اس پروگرام کو بغیر کسی پابندیوں کے جاری رکھتا ہےتو اس سے علاقے میں ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا خطرہ حقیقی طور پر بڑھ جاتا ہے جو کہ یہاں پر ہر کسی کو غیر مستحکم اور غیر محفوظ کر دے گا۔"
وزیِر دفاع ترکی میں کل دوسرے دفاعی وزیروں سے ملنے کے بعد واپس آئے تھے۔ ان کا تبصرہ یو ایس نیشنل سیکیوریٹی ایڈوائزر جیمز ایل۔ جونز کی میونخ کی کانفرنس کے اس انتباہ کے عین بعد میں آیا، جس میں انھوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو دنیا کے لیۓ خطرہ قرار دیا تھا۔
وزیر دفاع نے صدر براک اوباما کی ایران کے بارے میں سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوۓ کہا کہ کسی بھی انتظامیہ نے ہاتھ بڑھانے کی اتنی اصولی اور جامع کوشش نہیں کی جتنی صدر نے کی ہے۔ تاہم، گیٹس نے کہا "اس کا جواب بہت مایوس کن رہا ہے"گیٹس نے کہا کہ امریکہ کو ایران کے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت حاصل کردہ ایٹمی پروگرام پرکوئ اعتراض نہیں، گرچہ یہ یقین ہے کہ ایران اس پروگرام کو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیۓ استعمال کر رہا ہے۔
"انھوں نے ابھی تک بین الاقوامی کمیونیٹی کو یہ یقین دلانے کے لیۓ ایسا کچھ نہیں کیا جس سے معلوم کیا جا سکے کہ وہ این پی ٹی پر عمل کے لیۓ تیار ہیں، یاایٹمی ہتھیار بنانے کی ترقی روکنے پر آمادہ ہیں،" گیٹس نے کہا"اس لیۓ میرے خیال میں وقت آگیا ہے کہ مختلف قوموں کو کسی دوسرے طریقے کے بارے میں سوچنا چاہیے،"
انٹرنیشنل ایٹمی انرجی ایجنسی نے ایران کے کم گریڈ کے یورینیم کے بدلے بہتر گریڈ کا یورینیم دینے کی پیشکش کی ہے جو کہ طبی مقاصد کے لیۓ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں ایران کو اپنا 1،200 کلو کم افزودہ یورینیم ان کے حوالے کرنا ہو گا۔ پھرروس اور فرانس، ایران کو یورینیم افزودہ کر کے اس کے تہران کے طبی ریسرچ ری ایکٹر کے لیۓ دیں گے۔
گیٹس نے کہاکہ ایرانی افسروں کے ان دعوں کے باوجود کہ معاملہ تقریبا طے پانے والا ہے، ایران نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔
"ہم یہ امید کر رہے تھے کہ تہران کے طبی ریسرچ ری ایکٹر کی پیشکش ان حالات سے نکلنے کا تمامفرقوں کو اطمینان بخش راستہ فراہم کردے گی۔
گیٹس نے ایران کو مذاکرات کے لیٔے دوبارہ لانے کی کوشش کرتے ہوۓ کہا کہ اگر وہ معاہدے کی شرائط کو پورا نہیں کرپاتا تو سخت پابندیاں اس پر مزید عائد کی جائیں۔
"ایران اس علاقے کا وہ واحد ملک ہے جس نے دوسرے ملک کو تباہ کرنے کی نیت کا کھلے عام اظہار کیا ہے۔ یہ کم از کم اس ملک کے لیۓ جس کے پاس ایٹمی ہتھیارہوں، کے لیٔے زیادہ حوصلہ افزاء نہیں ہے" انھوںنے کہا۔ "تو وسیع بین الاقوامی رضامندی کا پروگرام میرے خیال میں ایران کے اس پروگرام کو رکوا سکتا ہے۔"
ترکی ایران کیمغربی سرحدوں پر ہے اور یہ اس کو ایران پر اپنا اثر رسوخ استعمال کرنے کا ایک نادر موقع فراہم کرتا ہے، گیٹس نے کہا
اس ایک دن کے دورے کے دوران، گیٹس نے ترکی کے وزیر دفاع وجدی گونل سے افغانستان کی جنگ، نیٹو کے میزائل دفاعی سسٹم کے منصوبے اور یو ایس – ترکی ملٹری تعلقات پر گفتگو کے لیۓ ملاقات کی۔ گیٹس نے کہا کہ انھوںنے ترکی کے حکام پر افغان جنگ میں اور فوجی بھیجنے کے لیۓ دباؤ نہیں ڈالا۔ وزیر دفاع نے کہاکہ وہ ابھی تک ترکی کی مدد سے متاثرہوئے ہیں۔ اس ملک کی دو تعمیر نو کی ٹیمیں اور بہت سی مشاورت کی ٹیمیوں سمیت 1700 فوجی افغانستان میں موجود ہیں۔