| پیرس میں گیٹس: ایٹمی ايران مشرق وسطیٰ کے لیے خطرے کا باعث ہے |
|
منجانب , American Forces Press Service
"ميرے خيال ميں سب کی بھلائی اس بات میں ہے کہ یہ مسلہ بغيرتنازعے کے حل ھو جاۓ۔" انھوں نے کہا کہ "يہ بات اور بھی اہم ہےکہ ہم اس حقیقت کا سامنہ کریں کہ اگر ايران اپنا ایٹمی پروگرام جاري رکھے اور ایٹمی ہتھیار بنائے تو یقیناً يہ اقدام مشرق وسطیٰ ميں ایٹمی ہتھیاروں کے پھيلاو کا پيشرو بنے گا۔ جو کھ ايک بہت بڑے خطرے کا باعث ہے۔"
گيٹس نے يہ بيان فرانس کے وزير دفاع حرو مورن کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ديا۔ گيٹس آج طیارے کے ذريے یہاں پہنچے۔ وہ وزير دفاع اور وزير خارجہ سے ملاقات کے علاوہ فرانس کے صدر نکولس سارکوزی سے پہلی بار ملاقات کررہے تھے۔ مورن نے گيٹس کے بيان سے اتفاق کرتےہوۓ کہا کہ فرانس ايران کے ایٹمی پروگرام کو بند کرنے کے ليے بین الاقوامی دباوٴڈالنے کے حق ميں ہے۔ امريکہ کے سٹيٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق 2006 سے فرانس نے متعدد بار ايران کے ایٹمی پروگرام کے خطرات پر کھلے عام توجہ دينے کا کہا اور اس بارے ميں امريکہ آور 1+5P گروپ چین، روس، بَرطانیہ اور جرمنی – کے ساتھ مشترکہ مطالبہ کیا ہے کہ ايران اپنا موجودہ ایٹمی پروگرام فوری طور پر بند کردے۔ گيٹس نے کہا کہ بین الاقوامی برادری ايک منصوبہ بندی پّراتفاق کرے تو اس پر پابندياں موثرہو سکتی ہيں۔ "اہم نکتہ يہ ہے کہ ايران کے افسران کو قائل کیا جائے کہ ان کا ديرپا مفاد اسی ميں ہے کہ ایٹمی ہتھیار نہ بناۓ جائیں اور نہ کےحاصل کيے جائيں"۔ گيٹس نے کہا کہ "انہيں اميد ہے کہ يہ تنازع سفارتی اور اقتصادی ذریۓسے حل کر ليا جائے گا"۔
انہوں نے مذيد کہا کہ "اہم نکتہ یہ ہے کہ ايران کو مذاکرات پر آمادہ کيا جاۓ اور تنازع کو اس طرح حل کيا جاۓ کہ ايران ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے باز رہے"۔
ايران کے علاوہ گيٹس نےفرانس کی افغانستان ميں فوجی امداد کے بارے ميں بھی گفتگو کی۔ سیکریٹری نے فرانس کو"قريبی سآتھي" قرار ديا۔ گيٹس نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں ميں فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات ميں "خاطرخواہ" اضافہ ہوا ہے۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 





















