| ویت نام سے او-ای-ایف تک: ایک پائلٹ کی اپنے کیرئیر کی آخری پرواز |
منجانب Staff Sgt. David Salanitri, U.S. Air Forces Central Command Public Affairs شئیرمتعلقہ خبریں
یو-ایس فضائیہ فوج کے لیفٹیننٹ کرنل جیمز روٹ، جو 550ویں سپیشل آپریشنز سکواڈرن کے ساتھ ایچ-سی-130 پی-کنگ پائلٹ ہیں، 9 اپریل، 2012 کو دو زخمی مقامی افغانوں کو قندھار ائیر فیلڈ، افغانستان علاج کے لیۓ پہنچانے کے بعد ، نکلنے کی اجازت کا انتظار کرتے ہوۓ۔ ( فوٹو منجانب سٹاف سارجنٹ گریگ بیونڈو)
کیمپ بئسٹیون، افغانستان (13 اپریل، 2012) – 12 اپریل، 2012 کو یو-ایس فضائیہ فوج لیفٹننٹ کرنل جیمز روٹ، ایک پائلٹ، جو 71ویں ایکسپڈیشنری ریسکیو سکواڈرن سے یہاں تعینات ہیں، نے اپنے 33 سالہ فوجی پیشے کے آخری جنگی فضائیہ مشن افغانستان کی فضا میں پرواز کی۔ تقریباً ہر پائلٹ اپنے ریٹائر ہونے سے پہلے ایک حتمی مشن میں پرواز کرتا ہے، مظاہرے اور خداحافظ کہنے کے لیۓ۔ لیکن روٹ کے لئے، ان کے منفرد کیریئر کی کہانی ان کی آخری پرواز کو یادگار بناتا ہے۔ اپنے کیریئر کے دوران روٹ جو کہ سپوکین، واشنگٹن کے مقامی ہیں، نے کئی آپریشن دیکھے ہیں - ویت نام سے لے کر افغانستان میں آپریشن اینڈیورنگ فریڈم تک - تاریخ جس کا روٹ حصہ رہے ہیں ایک ہائی اسکول کے طالب علم کی تاریخ کی نصف نصابی کتاب کو بھر سکتی ہے۔ 1996 ء میں فضائیہ فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد بھی، روٹ نے فضائیہ فوج کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا۔ 2002 ء میں، 11 ستمبر، 2001 کو دہشت گرد حملوں کے جواب میں فضائیہ فوج نے ریٹائرڈ ایویئٹر ریکال پروگرام شروع کیا۔ وہ تقریباً 200 تجربہ کار افسران میں سے ایک تھے جن کو ضرورت پوری کرنے کے لئے واپس فعال ڈیوٹی پر آنے کے لیۓ منتخب کیا گیا تھا۔ اس پروگرام میں ان افسران کو لیا گیا جو لیفٹیننٹ کرنل یا اس سے نیچے کے درجے پر ریٹائر ہوۓ تھے، جو 60 سال سے کم عور کے ہیں، اور جو پائلٹوں، نیوی گیٹر، ائیر بیٹل مینیجرز، انٹیلی جنس، نگرانی، تحقیقی اور دیگر اضافی عملے کی پوزیشنوں کو بھر سکتے تھے۔ روٹ نے کہا کہ مجھے بنیادی طور پر 550ویں سپیشل آپریشنز سکواڈرن (کرٹ لینڈ فضآئیہ فوجی بیس، نیو میکسکو) کی طرف سے ایم-سی -130پی ہرکیولس اور ایچ-سی-130پی / این-کنگ تربیتی پروگراموں کی مدد کرنے کے لئے بھرتی کیا گیا تھا۔ میرا مرکزی کام نوجوان انسٹرکٹروں کی تربیت اور سرپرستی تھا اور میرا ہوا بازی کا تجربہ اسکول کی سطح تک لانے کا تھا۔ روٹ کو کیمپ بئسٹیون، جنوبی افغانستان، میں اپنے سکواڈرن کے ساتھی فضائی عملے کے ارکان کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے دیکھنا مسلسل سر پرستی کا احساس دلاتا ہے ... یہ "ہال آف فیم" کے ممتاز بیس بال کھلاڑی کا دوسرے نوجوان میجر لیگ کے کھلاڑیوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے مانند تھا۔ ان فضائی عملے کے ارکان کی اوسط عمریں 26 سال ہیں – روٹ نے صرف ایک طیارا کمانڈر کے طور پر فضائیہ فوج میں 29 سال گزارے ہیں۔ سکواڈرن جو کہ ایم-سی- 130پی اور ایچ- سی- 130این کو تربیت دیتا ہے، روٹ نے اس سکواڈرن میں تقریباً تمام پائلٹوں کے ساتھ کام کیا ہے جس میں سکواڈرن کمانڈر بھی شامل ہیں۔ لیفٹیننٹ کرنل ٹوڈ باربر، 71ویں ای آر ایس کے کمانڈر نے کہا کہ کرنل روٹ وہ ہیں جنہوں نے مجھے میری پہلی سواری دی تھی ۔ ہمارے سکواڈرن میں اتنا تجربہ موجود ہونا بہت اچھا ہے۔ وہ یہاں کئی ایئرمین کی سرپرستی کرنے کے قابل ہیں۔ اگرچہ روٹ کا فلائنگ کیریئر مارچ 1971 کو کریگ ایئر فورس بیس، سیلما، الیباما میں شروع ہوا تھا، ان کی پرواز کئی دہائیاں پہلے شروع ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ میں فضائیہ فوج میں آیا کیونکہ میں پرواز کرنا چاہتا تھا ۔ بچپن سے ہی میں صرف ایک ایئر فورس کا پائلٹ بننا چاہتا تھا۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ میرا خواب ایک ایسا کیریئر بن جاۓ گا جو اتنے طویل عرصے تک جاری رہے گا۔ روٹ کے کیریئر کے دوران انہوں نے نہ صرف فضاِئیہ فوج میں، بلکہ مجموعی طور پر بھی فوجی زندگی میں تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ اوریگن ریاست سے گریجویشن کرنے کے بعد، روٹ نے افسر تربیتی سکول میں شرکت کی اور جلد ہی ابتدائی ' 70 کی دہائی میں بی -52 سٹریٹو فورٹریس کی کمیونٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ روٹ نے کہا کہ جب میں آپریشن لائن بیکر II میں مدد کے بعد واپس آیا تو ہمیں ہوائی اڈے پر وردی میں دیکھنے والے لوگوں نے سخت غیردوستانہ الفاظ کے ساتھ خوش آمدید کہا۔ روٹ اس وقت بی -52 کے مشن پلانر تھے۔ یہ حیرت انگیز ہے کہ چیزیں کتنی تبدیل ہو گئی ہیں۔ آج کل لوگ مجھے کافی خریدکر دینے کی پیشکش کرتے ہیں اور مجھ سے مصافحہ کرنا چاہتے ہیں، صرف اس وجہ سے میں یہ وردی پہنتا ہوں۔ ویت نام جنگ کے زمانے کے لوگوں کا ظنز ہی صرف ایک مشکل ن جس کا روٹ نے سامنا کیا ہے۔ روٹ نے کہا کہ اکتوبر 2009 میں، میری بیوی کا کینسر سے انتقال ہوگیا۔ اس وقت ہمارا ایک بیٹا ابھی بھی ہائی اسکول میں تھا۔ اس کی گریجویشن اور کالج کی تعلیم کے آغاز کے بعد، میں نے ایک بار پھر استفسار کیا کہ اگر ایے-او-ایف (خصوصی آپریشن فورسز) یا نجاتی سکواڈرن کے ساتھ تعینات کرنے کا کوئی موقع تھا۔ 71ویں نے مجھے موقع دیا اور مجھے ان کے ساتھ فروری 2012 میں تعینات کیا گیا۔ روٹ کی کامیابیوں میں، جب وہ اپنے کیریئر پر نظر ڈالتے ہیں، تو ایک اعزاز خاص طور پر ابھر کر سامنے آتا ہے۔ "میں نےماسٹر ایئر پائلٹ سرٹیفکیٹ گلڈ آف ایئر پائلٹ نیوی گیٹر سے حاصل کیا"، روٹ نے کہا جو کہ ان کواس اعزاز سے نوازے جانے والا سب سے پہلا ایئر فورس افسر بناتا ہے، جب سے گلڈ 1929 میں قائم کیا گیا۔ میں انعام حاصل کرنے والوں میں تیسرا امریکی تھا، سب سے پہلا چاند پر پہلا انسان نیل آرمسٹرانگ، اور دوسری کیپٹن چیلسی سلن برگر، وہ آدمی جس نے محفوظ طریقے سے ہڈسن دریا پر ایک تجارتی ہوائی جہاز اترا تھا۔ یہ عام ہے کہ جب لوگوں کی اسکول سے گریجویشن قریب آ جاتی ہے، یا نوکری چھوڑنی، یا ریٹائر ہونا قریب آ جاتا ہے، تو وہ وہاں اپنا باقی وقت ممکن حد تک آسانی سے گزارنے کی کوشش کرتے ہیں - لیکن روٹ ایک مختلف نقطہ اپناۓ ہوۓ ہیں۔ "اپنے کیریئر کے اس آخری حصے میں یہاں تعیناتی ایسی چیز ہے جو میں بہت سالوں سے کرنا چاہتا تھا"، روٹ نے کہا جو اس سے پہلے اپنی بیوی کی طبی حالت کی وجہ سے عراق یا افغانستان کے لئے تعینات نہیں ہو سکتے تھے۔ آج ہمارے نوجوان ایئرمین وہ قربانیاں دے رہے ہیں جن کا امریکیوں کی اکثریت کبھی تجربہ کبھی نہیں کرے گی۔ میں اس بات کا تجربہ کرنا چاہتا تھا جس کی میں نے سینکڑوں پائلٹوں کو تربیت دی ہے۔ یہ واقعی میرے لئے بہت فائدہ مند تجربہ رہا ہے۔ اس کہانی کی اشاعت کے بعد سے، روٹ امریکہ کو لوٹ گۓ ہیں اور واشنگٹن ریاست میں ریٹائر ہونے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















