| نیو یارک کی سڑکوں سے لے کر افغانستان کے آسمانوں تک، این-واۓ-ایف-ڈی کا عملہ جانیں بچاتا ہے |
منجانب Master Sgt. Russell Martin, 451st Air Expeditionary Wing Public Affairs شئیرمتعلقہ خبریں
(بائیں جانب) یو- ایس فضائیہ کیپٹن شان کلن، کیپٹن ٹرپ ذینٹیس، ٹیک سارجنٹ جم ڈینسٹن اور ٹیک سارجنٹ ایرک پاؤنڈ تمام 101ویں ریسکیو سکواڈرن، نیویارک فضائیہ نیشنل گارڈ، جو اس وقت 29 نومبر کو 26ویں مہماتی ریسکیو اسکواڈرن، کمیپ بئسٹیئن، افغانستان میں تعمینات ہیں (فوٹو منجانب ماسٹر سارجنٹ رسل مارٹن)
کیمپ بئسٹیئن، افغانستان (6 دسمبر، 2012) – نیو یارک شہر کے چار فائر فائٹر، چار ائیرمین، چار دوست، ایک ٹیم، ایک ایچ ایچ – 60 پیوو ہاک، ایک عملہ جو کہ 26ویں مہماتی ریسکیو اسکواڈرن کے ساتھ کیمپ بئسٹیِئن، افغانستان میں تعینات ہے اور وہ اپنے ساتھ نیو یارک کے فائر ڈیمپارٹمنٹ کا انوکھا ذائقہ لاۓ ہیں۔ کیپٹن شان کلن، کیپٹن ٹرپ زینیٹس، ٹیک سارجنٹ. ایرک پاؤنڈ اور ٹیک سارجنٹ جم ڈینسٹن سب کے سب 011ویں ریسکیو سکواڈرن، نیویارک ایئر نیشنل گارڈ کے رکن ہیں، اور وہ سب فائر فائٹرز کے طور پر کام کرتے ہیں جب وہ فوج میں فعال نہیں ہوتے۔ کلن، جو ہوائی جہاز کے کمانڈر ہیں، انجن 54 کو تفویض ہیں، مین ہٹن میں؛ زینیٹس ،جو کہ معاون ہواباز ہیں، لوئر ایسٹ مین ہیٹن میں 11 لیڈر کے ساتھ تفویض ہیں، پاؤنڈ، ہوائی گنر، ہارلم میں 58 انجن کو تفویض ہیں، اور ڈینسٹن، فضائی انجنیئر، کوینز کے 285 انجن کو تفویض ہیں۔ واپس اپنے ملک میں، وہ تمام مختلف "لیڈر" سے ہیں اور ایک مختلف "انجن" کے نام سے ہیں، لیکن کیمپ بیشن میں وہ ایک ہیں، 24 پیڈرو میں۔ زینیٹس نے کہا کہ "یہ پہلی مرتبہ ہے ۔ امدادی عملہ پورے کا پورا نیویارک شھر کے فائر فائٹرز پر مشتمل ہے۔ ہم شائد مختلف کام سر انجام دیتے ہیں، لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ دوسرے کتنے قابل ہیں اور جب ہم ایک ساتھ پرواز کرتے ہیں تو کس سے کس بات کی توقع رکھیں۔" عملہ افغانستان کی علاقائی کمان جنوب مغرب میں طبی انخلا کے آپریشن کے عملے کے ساتھ بازیابی کی صلاحیتیں فراہم کرنے کے لیئے ہمہ وقت تیار ہوتا ہے۔ پیوو ہاک، بلیک ہاک ہیلی کاپٹر، جس میں خصوصی امدادی مشن کے سامان کی خصوصیات ہیں، کا ایک انتہائی نظر ثانی شدہ ورژن ہے، جس میں 200 فٹ اونچائی سے 600 پونڈ کا بوجھ اٹھانے کی قابلیت بھی شامل ہے۔ پیوو ہاک ہیلی کاپٹر کا فضائی عملہ ایئر فورس پیرا ریسکیو مین اور جنگی ریسکیو کے افسران کی ٹیم پر مشتمل ہے۔ ایک ساتھ وہ ہر طرح کے حالات میں اہلکاروں کی بازیافت کے لیۓ دفاعی محکمہ کی واحد اعلٰی ترین جنگی فورس ہیں جو خاص طور پر منظم، تربیت یافتہ، لیس خاص ڈھب کی ہیں، جس میں روایتی اور غیر روایتی جنگی ریسکیو آپریشن شامل ہیں۔ 26ویں ای-آر-کیو-ایس کے ایک حصے کے طور پر، ایئرمین مختلف کاموں کے لئے خدمات سر انجام دے سکتے ہیں، لیکن وہ سب ایک عملے کا حصہ ہیں، ایک ٹیم جو زخمی اہلکاروں کے لیۓ فضائی انخلاء کی اطلاعات کا جواب دینے، محفوظ حدود سے باہر مشن پر زخمی فوجی اہلکاروں اور پھر انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر ان شہریوں کے لیۓ امدادی مشن جو خودساختہ دھماکہ خیز آلوں سے زخمی ہو جائیں، یا چھوٹے ہتھیاروں سے لڑائی کے دوران زخمی ہو جائیں، کے لیۓ ذمہ دار ہیں۔ کیمپ بیشن میں تعیناتی کے بعد سے گزشتہ60 دنوں میں، انہوں نے مل کر ایک ٹیم کے طور پر 50 سے زائد مشن کیۓ ہیں، اور انھوں نے اس سے دوگنی تعداد کے قریب زخمیوں کو مستحکم کرنے اور نکالنے میں مدد دی ہے۔ ان کا رشتہ آگ میں بنا ہے، اور روزانہ افغانستان کے پہاڑی قطعہ زمین کے اوپر آسمانوں میں مظبوط ہوتا ہے۔ شروع ہی سے انھیں معلوم تھا کہ ان کا اپنے ملک میں تجربہ انھیں اس زمین پر ملا دے گا۔ ڈینیسٹن نے کہا "پہلے دن سے ہی ہماری آپس میں خوب بن گئی ۔فائر فائٹرز کف بارے میں بات کچھ مختلف ہے۔ جب آپ کو (فعال ڈیوٹی کے لیۓ) بُلایا جاۓ تو آپ کسی بھی سٹیشن میں چلے جائیں اور کسی دوسرے ائیرمین سے ملیں جس سے آپ پہلے اپنی زندگی میں کبھی بھی نہ ملے ہوں منٹوں کے اندر اندر آپ یہ کہ سکتے ہیں، 'تم کس لیڈر سے ہو؟ کون سے ڈیپارٹمنٹ سے؟" ایک ٹیم کے طور پر پہلے دن ہی انہیں ہلمند صوبے میں ایک انتباہ کے لئے تیزی دکھانی پڑی۔ عملہ جو کہ، تین نگران فرشتہ پیرا ریسکیو مین کو لے کر اڑا، پہاڑی علاقوں میں اپنے ہدف کی تلاش میں، جو کہ وہ شہری تھے جو خود ساختہ دھماکہ خیز آلے کا شکار ہو کر زخمی ہو گۓ تھے۔ لینڈنگ سے قبل، انہوں نے جلدی سے ممکنہ نقصان کا اندازہ لگنا تھا اس سے پہلے کہ وہ خود کسی خطرے میں پڑ جاتے۔ کلن نے کہا کہ "آپ کو واقعی میں کچھ پتہ نہیں تھا کہ کس بات کی توقع کی جاۓ، یہ ہمارا پہلا دن تھا ۔ ہم ایک دوجہاز پر مشن کے لیئے گۓ اور ہمارا جوش بڑھنا شروع ہو گيا۔۔۔ ہم جانتے تھے کہ کچھ لوگ زخمی ہوۓ تھے اور ہمیں انہیں باہر نکالنے کی ضرورت تھی۔ لیکن کیا ہمارے لیئے باغی ایک جال بچھا رہے تھے؟ کچھ ایسے بھی منظر نامے رہے ہیں جہاں انھوں نے امدادی ٹیم پر چھاپا مار حملہ کرنے کے لیۓ ایسا چارہ ڈالا گیا تھا، ہمیں بہت تیزی سے اس بات کا جائزہ لینا تھا کہ کہیں یہ ان مثالوں میں سے ایک تو نہیں تھا۔" "علاقے اور سطح زمین کا جلدی سے جائزہ لینے کے بعد ہمیں نیچے اترنے میں اطیمنان ہوا اور ہم نے تقریباً 6،000 فٹ فی منٹ کی رفتار سے نیچے آنا شروع کیا، صرف آسمان کو کاٹتے ہوۓ۔ یہ بہت حیرت ناک تھا۔ اور چونکہ ہم، ایک ٹیم کے طور پر، بہت اچھی طرح سے ہم آہنگ کرنے میں کامیاب ہوۓ تھے، ایک کام جو اتنا خطرناک لگ رہا تھا کسی رکاوٹ کے بغیر ہو گیا۔" عملہ اس بات کو مانتا ہے کہ اگرچہ ان کی پرواز مختلف ہو سکتی ہے، ان کا رویہ اور زندگیاں بچانے کا جذبہ ایک ہی جیسا رہتا ہے۔ ڈینسٹن نے کہا کہ "یہاں، ہم لڑتے ہوۓ اندر گھس سکتے ہیں؛ ہم لڑتے ہوۓ باہر نکل سکتے ہیں۔ ہمارا ایک مختلف پلیٹ فارم ہے، لیکن ہم اپنی حکمت عملی کا استعمال کرتے ہوئے جب بھی ضرورت کے لیۓ پکارا جاۓ کسی کی بھی زندگی بچانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ لیکن بالکل ایسے ہی جیسے اپنے ملک میں، ہم اندر جا رہے ہیں۔ چاہے وہ اپنے ملک میں بڑے پیمانے پر لگی آگ میں 16 ویں منزل پر پھنسے لوگوں ہوں یا جنگی علاقے میں آئی-ای-ڈی اور چھوٹے ہتھیاروں کی گولیاں ہوں۔ ہم اس کے اندر جا کر رہیں گے، اور ہم اندر جائیں گے، اس بات کو یقینی بنانے کیلئے ان کو باہر نکالاجاۓ اور ایک موقع دیا جاۓ ہمارے بس میں جتنا بھی ہو سکا کریں گے۔" اپنے ملک میں، یا افغانستان میں وہ ریسکیو کے لیۓ ہیں۔ لیکن یہاں وہ اپنے ساتھ تھوڑا سا این-واۓ-ایف-ڈی کا ذائقہ اپنی یونٹ میں لاۓ ہیں۔ اگرچہ 26 ویں ای-آر-کیو-ایس کے ساتھ تعینات زیادہ تر ائیر مین 101 ویں نیو یارک اے-این-جی سے ہیں، صرف گنے چنے ہی فائر فائٹر ہیں اور ان کا اپنا الک ہی انداز ہے۔ کلن نے کہا کہ "ہم یہاں تعینات ہیں، تو ہمیں معلوم ہے کہ ہمیں بہترین کھانا میسر نہیں ہو گا، یہ نہیں کہ یہ کوئی بری بات ہے، لیکن یہ ظاہری طور پر واپس اپنے ملک کی طرح سے نہیں ہے ۔ تو ہم وقتا فوقتا وہی طریقہ اپناتے ہیں جو ہم اپنے ملک میں کرتے ہیں۔۔۔ہم سب مل کر پیسے جمع کرتے ہیں تاکہ کچھ خوراک خریدی جا سکے اور پھر ہم سب مل کر ایک بڑی دعوت پکاتے ہیں۔ یہ یقینی طور پر فائر یونٹ میں ہونے کا احساس واپس لاتا ہے۔" عملے 12 گھنٹوں کی شفٹوں میں چوبیس گھنٹے کام کرتا ہے، 24 پیڈرو صبح کے ایک بجے سے لے کر دوپہر کے ایک بجے تک صبح کے مشن کے لئے تیار ہوتا ہے۔ اور جب وہ ہوا میں ایک مشن پرنہیں ہوتے ہیں، وہ چوکس رہتے ہیں ایک لمحے کے نوٹس پر حاضر ہونے کے لیۓ۔ 15منٹ کا جوابی وقت ایک معیار ہے، لیکن پورے ای-آر-کیو-ایس نے اس معیار کو اڑا کو رکھ دیا ہے اور جوابی وقت کو اوسطا 7-8 منٹ پر لے آے ہیں زینیٹس کے مطابق۔ لیکن جب تک وہ لاؤڈ اسپیکر پر با آواز یہ کال نہ سن لیں "تیزی، تیزی، تیزی، وہ وہی کرتے ہیں جو انھیں قدرتی طور پر آتا ہے، "ایک دوسرے کو تنگ کرنا۔" پاؤنڈ نے کہا "اوہ بڑے شیطان ہیں" ۔ "یہ گھر کی طرح سے نہیں ہے، 'کوئی حساس نہیں چلے گا۔' ہم ایک دوسرے کو تنگ ککرتے ہیں لیکن کوئی بھی اسے دل پر نہیں لے جاتا ہے، یہ ہم جو ہیں اس کا حصہ ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ اچھی مستی میں ہے ہم سب ایک خاندان۔ لیکن اگر 'تیزی' کی پکار آ جاۓ تو، ہم کام پر اتر آتے ہیں۔" ٹیم نے کہا کہ ضروری نہیں کہ ہر کوئی تیزی کی پکار سننا چاہتا۔ اس تیزی کی پکار کا عام طور پر مطلب ہوتا ہے کہ کہ کہیں کوئی بری طرح سے زخمی ہے۔ تاہم تیزی اور بچاؤ 24 پیڈرو کے لیۓ ایک اچھا دن ہوتا ہے۔ کلن کا کہنا تھا کہ "ہمیں بے کار بیٹھ کر آنے والی کال کا انتظار کرنا پسند نہیں ہے ۔ "لیکن ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر ہماری ضرورت پڑی، تو کوئی شخص ایک بہت ہی برے دن سے گزر رہا ہے۔ بالکل اپنے ملک کی طرح، اگر گھنٹی بجتی ہے تو یہ ایک فوری ضرورت ہے اور ہمیں زندگیاں بچانے کے لئے فوری طور پر جواب دینا ہوتا ہے۔ ہم اس کا جواب دیں گے، تیزی کی پکار کا جواب بغیر کسی ہچکچاہٹ کے۔ یہ ہمارا مشن ہے، اور یہ وہ ہے جس سے ہم سے محبت کرتے ہیں۔ ایئر نیشنل گارڈ کے ایک حصے کے کے طور پر، یونٹ اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ وہ کس طرح تعیناتی کی طوالت کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے پاس اختیار ہوتا ہے کہ وہ یا تو60 دن یا 120 دنوں کے لئے تعینات ہوں۔ حالانکہ عملے کے زیادہ تر ارکان تمام کے تمام 120 دن کے لیۓ رکتے ہیں ڈینسٹن، جن کی حال ہی میں نو مئی کو شادی ہوئی تھی، آنے والے ہفتوں میں دوبارہ تعینات ہوں گے واپس نیویارک میں 101ویں آر-کیو-ایس کے ساتھ ایک فعال/ریزرو گارڈ پوزیشن کی دوبارہ بھرتی کے لیۓ، تمام این-واۓ-ایف-ڈی کی فائیر فائیٹرز کی ٹیم کو توڑتے ہوۓ۔ "اگر میں رک سکتا تو میں رک جاتا، لیکن انھیں واپس اپنے ملک میں ایک بندے کی ضرورت تھی اور چونکہ میں ابھی سے ہی طلاق نہیں چاہتا، مجھے جانا ہوگا، "ڈینیسن نے ہنستے ہوۓ کہا۔ "لیکن انھوں نے پہلے سے ہی آئندہ دو مہینوں کے دوران گھر واپس جانے والوں کے لیۓ خوش آمدید کی دعوت کی تیاری کا ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔"
|
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















