صفحہ اول | CJIATF435 | پکتیکا شوریٰ کے دوران چار سابق قیدیوں کی رہائی

 Combined Joint Interagency Task Force-435 

پکتیکا شوریٰ کے دوران چار سابق قیدیوں کی رہائی
منجانب MCC (SW) Maria Yager, Combined Joint Interagency Task Force 435
 Fourformerdetainees
افغان نیشنل آرمی کا ایک جوان اپنے سربرست، ٹاسک فورس راکی مائونٹین کمانڈ سارجنٹ میجر ولیم ووڈز کو 19 جنوری کو اختیارات کی منقلی کے لیے ہونے والی تقریب میں الوداعی معانقہ دے رہا ہے۔ تصویر منجانب امریکی بحری چیف ابلاغِ عامہ سپیشلسٹ )ایس ڈبلیو( ماریہ یگر۔

صوبہ پروان، افغانستان 23 جنوری 2011 ۔ 20 جنوری کو صوبہ پکتیکا میں شوریٰ کے دوران پروان کے قید خانے سے چار قیدیوں کو رہا کر کے قبائلی عمائدین کے حوالے کر دیا گیا۔

جنوری 2010 سے شروع ہونے والے افغان قیدیوں کو رہا کرنے کے پروگرام، جس میں 300 سے زائد قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے، کا مقصد انہیں دوبارہ افغان سماج میں شامل کرنا ہے۔

صوبہ پکتیکا کے گورنر محب اللہ صمیم نے تقریب کی صدارت کی جس میں علاقے کے 60 سے زائد معززین شریک ہوئے جنہوں نے رہا ہونے والے افراد کی نگرانی اور سماج میں دوبارہ شمولیت میں ان کی مدد کرنے پر اتفاق کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر صمیم نے کہا کہ ہم سب افغان ہیں اور ہمیں اس ملک میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے مزید محنت کرنا ہو گی۔ ہر افغان کو چاہے وہ نوجوان ہو یا بوڑھا، حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔

افغان نیشنل آرمی کے میجر جنرل اور مشترکہ انٹر ایجنسی ٹاسک فورس 435 کے افغان کمانڈر مرجان شجاع بھی شوریٰ میں شریک ہوئے اور گورنر صمیم اور دیگر عمائدین سے ملاقات کی۔ مرجان نے ان کا شکریہ ادا کیا اور افغانستان میں امن و سلامتی کے قیام پر زیادہ محنت کرنے پر زور دیا۔

مرجان کا کہنا تھا کہ مزاحمت کاروں کو اپنے دیہات میں داخل ہونے اور افغان نیشنل سکیورٹی فورسز پر حملہ آور نہ ہونے دیں۔ انہیں حکومت کے خلاف سازش کرنے یا سڑکوں کے اردگرد خود ساختہ دھماکہ خیز مواد مت لگانے دیں۔

پکتیکا کے گورنر نے مرجان کی تائید کرتے ہوئے اہل علاقہ سے مطالبہ کیا کہ افغان نیشنل آرمی کی مدد کریں۔

صمیم، جن کے صوبے میں رواں ہفتے کے اوائل میں ایک خود ساختہ دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے 13 دیہاتی جاں بحق ہو گئے تھے کا کہنا تھا، "جب یہ لوگ آپ کے مکان، مسجد یا سکول کی تلاشی لینا چاہیں تو پریشان مت ہوں کیونکہ افغان نیشنل سکیورٹی فورسز کا یہی تو کام ہے کہ وہ آپ کو مزاحمت کاروں سے محفوظ رکھیں۔"

صمیم نے قبائلی عمائدین پر زور دیا کہ وہ اپنے علاقے کے تمام لوگوں کا خیال رکھیں اور رہا ہونے والے قیدیوں کو خوش آمدید کہیں۔

گورنر کا کہنا تھا، "ہم یقینی بنائیں گے کہ یہ عام لوگوں کی طرح ہی زندگی گزاریں اور گھر پر رہیں یا موجودہ صورتحال میں مزاحمت کاروں کی مدد کرنا ترک کر دیں۔ میں بہت خوش ہوں کہ میرے افغان ہم وطن اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں اور ان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔"

رہا ہونے والے قیدیوں نے تشدد ترک کرنے کے حلف پر دستخط کیے۔ یہ دستخط شدہ حلف سماج میں ان کی دوبارہ شمولیت کا اہم حصہ ہیں، کیونکہ سابق قیدی تحریری وعدہ کرتا ہے کہ وہ دوبارہ میدانِ جنگ کا رخ نہیں کرے گا۔

شوریٰ کے دوران رہا ہونے والے قیدیوں نے گفتگو کرتے ہوئے گورنر صمیم اور معززینِ علاقہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ان لوگوں کو گھر واپسی پر خوش آمدید کہا۔ سابق قیدیوں کا کہنا تھا کہ وہ گھر لوٹ کر بہت خوش ہیں اور ڈی ایف آئی پی میں اپنی حالت ِ زار کے بارے میں بتایا۔

ان میں سے ایک کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا گیا ہے، کھانا، پانی اور دیگر ضروریاتِ زندگی فراہم کی جاتی رہی ہیں۔

رہائی کے لیے شوریٰ نچلے اور درمیانے درجے کے جنگجوئوں کو دوبارہ افغان سماج میں شمولیت کے عمل میں تعاون کرتی ہے۔ ان کی بحالی کے لیے فرض کیا جاتا ہے کہ بالاخر یہ قیدی اپنے گاوں کو لوٹ جائیں گے۔ بہترین انداز میں منظم کیے جانے والے رہائی کے عمل میں انسدادِ مزاحمت کے اصولوں کو پیشِ نظر رکھا جاتا ہے۔

سی جے آئی اے ٹی ایف ۔ 435 اور حکومتِ اسلامی جمہوریہ افغانستان، افغان وزارتِ دفاع کے تعاون سے ایسے پراسیس کے قیام کے لیے قابلِ اعتماد افغان ساتھیوں تک پہنچ رہی ہے۔ اس سے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے جس سے رہائی کا عمل زیادہ موئثر ہو جاتا ہے۔ اس عمل کا مقصد یہی ہے کہ رہا ہونے والے فرد کو دوبارہ مزاحمت کا حصہ بننے سے روکا جائے۔

سی جے آئی اے ٹی ایف۔435 اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت اور امریکی انٹر ایجنسی اور بین الاقوامی ساتھیوں کی شراکت سے قیدیوں اور ان کی اصلاح کے لیے کام کرتی ہے۔ اس کا حتمی مقصد یہی ہے کہ حالات سازگار ہونے پر سی جے آئی اے ٹی ایف ۔ 435 قیدیوں کا انتطام افغان حکام کے حوالے کر دے گی جبکہ اس میں قانونی کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے گا۔

 
ویڈیو، بصری / آڈیو، سمعی / تصویریں

تصویریں

Podcasts

There are no podcasts available at this time.

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
33,163+