صفحہ اول | CJIATF435 | خاندانوں اور قبیلوں کے بزرگوں کی تحویل میں سابقہ قیدیوں کی رہائی

 Combined Joint Interagency Task Force-435 

خاندانوں اور قبیلوں کے بزرگوں کی تحویل میں سابقہ قیدیوں کی رہائی
منجانب , JTF 435

صوبہ پروان، افغانستان – 17 جولائی کو پندرہ سابقہ قیدی پروان میں جیل کی عمارت سے اس بات کی یقین دہانی کرانے کے بعد کہ وہ پرامن زندگی گزارنے کا عہد کریں گے رہا ہو گئے۔

ایک شوری' کے دوران جس کا انتظام قانون کے بالادستی سنٹر میں کیا گیا تھا ان آدمیوں کو انکے خاندانوں اور قبیلوں کے بزرگوں کی تحویل میں دے دیا گیا۔ ایک سو سے ذیادہ خاندانوں کے افراد، گاؤں کے معززین اور حکومتی حکام افغانستان کے تمام صوبوں سے پروان آۓ تھے۔

مقامی رہنماوں نے ضمانتی کاغذات پر دستخط کیے جس کے تحت وہ ان قیدیوں کی سماج میں واپسی میں مدد کریں گے اور ان کی حرکات پر مزید نظر رکھیں گے۔ یہ ضمانتی بیان غیر رسمی ہیں اور قانونی طور پر واجب التعمیل نہیں ہیں اور ان کی زبان پشتونوالی عہد کے مطابق رکھی گئی ہے۔

لوگر صوبے کے نائب کونسل عبدل ولی نے کہا کہ اگر آپ امن لانا چاہتے ہیں تو ان قیدیوں کو درست طریقے سے رہا کریں۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ یہ قیدی افغان حکومت یا امریکہ کے خلاف دوبارہ باغیوں سے نہیں جا ملیں گے۔

شریفہ ضرماتی پکتیا صوبے کی ایک پارلیمانی ممبر نے ان قیدیوں کی طرف جنہیں اپنے معاشرے میں اور ان کے امن کے عہد کو قبول کیا شوری' سے خطاب کیا ۔ ہمسایہ صوبوں کے اور اپنے پکتیا صوبے کے قیدی بھائیوں کو قبول کرنے کے بعد ضرماتی نے جاری فوجی کاروائیوں پر اپنی پریشانی کا اظہار کیا۔

اس کے بعد خطاب نائب ایڈمرل رابرٹ ہارورڈ، مشترکہ ٹاسک فورس 435 کے کمانڈر نے کیا اور ضرماتی کے تبصروں پر بات کرنے کے موقعے کا استعمال کرتے ہوئے وہاں پر موجودہ قبائیلی رہنماوں اور خانانوں کے افراد کا شکریہ ادا کرنے کے بعد ہارورڈ نے وضاحت کی کہ شوری' کی اہمیت صرف اس لیۓ نہیں کہ رہا شدہ قیدیوں کو واپس ان کے گاؤں میں پہنچایا جاۓ، بلکہ اس لیۓ بھی ہے کہ سب لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب اور باقاعدہ اس سلسلے کا حصہ بنایا جاۓ۔

ہارورڈ نے ضرماتی کی پریشانیوں کا احساس کیا اور امریکی اور افغان فوجوں کی شراکت کی اہمیت پرزور دیا اور یہ واضع کیا کہ کسی طرح یہ شوری' ایک اجتماعی حل کا حصہ بن جائیں۔

ہارورڈ نے کہا کہ ہم لڑائی اور جنگ روکنے کی کوشش کر رہے ہیں اور آج کا یہ سلسلہ اسی چیز کا حصہ ہے۔ یہ لوگ جو آپ کی طرف لوٹ رہے ہیں انھوں نے عہد کیا کہ یہ لڑائی کی طرف نہیں لوٹیں گے اور آپ نے بھی ان کے ساتھ یہ عہد کیا ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ اسی طرح افغانستان میں امن قائم رہے گا۔

افغانیوں کی قیادت میں قیدیوں کی رہائی کے اس پروگرام کا نفاذ اس سال کے شروع میں کیا گیا تھا اور یہ ان کی افغان معاشرے میں دوبارہ سے بحالی کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ اس وقت قیدی ڈی ایف آئی پی میں تعلیم اور فنی تربیت حاصل کرتے ہیں جو کہ ان کو واپس گاؤں جانے کے بعد مدد دے گی۔

جنوری میں پروگرام کے شروع ہونے سے لے کر اب تک 150 سے زائد لوگوں کو رسمی تقریبات کے دوران تشدد کو چھوڑنے کے عہد کے بعد  ڈی ایف آئی پی سے رہائی مل چکی ہے۔

افغان قومی فوج بریگیڈیئر جنرل محب الرحمان کمانڈر کے طور پر ٹاسک فورس کے لۓ دونوں اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت کی جانب سے قید اور بحالی کے پروگرام کو دیکھنا اور افغان ڈپٹی کمانڈر کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔

جے ٹی ایف کا محفوظ، انسانی بنیادوں پر قیدیوں کی دیکھ بھال اور نگرانی کا عہد  بینالاقوامی قوانین کے طابق ہے۔ جے ٹی ایف – 435 کے زیر نگرانی، قیدی تعلیم اور فنی تربیت بھی حاصل کر سکتے ہیں جو کہ انھیں اپنی رہائی کے بعد واپس اپنے گاؤں اور معاشرے میں جانے کے بعد امن سے گھل مل جانے میں مدد کرے گا۔

 
ویڈیو، بصری / آڈیو، سمعی / تصویریں

تصویریں

Podcasts

There are no podcasts available at this time.

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
33,163+