صفحہ اول | خبریں | خبریں | عراق میں فورسز کا طریقہ کار اور لچکدار انخلاء کا منصوبہ
عراق میں فورسز کا طریقہ کار اور لچکدار انخلاء کا منصوبہ
منجانب Karen Parrish, American Forces Press Service

واشنگٹن [3 نومبر، 2011] - عراق میں امریکی افواج کے ایک سینئر افسر نے آج کہا کہ 33،000 کے قریب امریکی فوج اب بھی عراق میں موجود ہیں اور ان کے پاس 31 دسمبر تک واپسی مکمل کرنے کے لئے دو ماہ سے بھی کم ہیں وہاں جاری فوج کی واپسی کی کاروائی کی نوعیت غیر معمولی سی ہے۔

آرمی میجر جنرل تھامس سپوئیر جو کہ مدد کی کمانڈ کے ڈپٹی کمانڈنگ جنرل ہیں نے اس عظیم تبدیلی مُقام کی کمشش کے سلسلے میں بغداد سے ایک ٹیلی کانفرنس کے ذریعے پنٹاگان صحافیوں کو بتایا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ٹرک اور ہوائی جہاز ہیں اور لوگ بہت جلدی سے منتقل ہو رہے ہیں لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ ہمیں واپسی کی کوئی خاص جلدی ہے۔

سپوئیر نے ذکر کیا کہ فوجوں میں اضافے کے عروج پر امریکی افواج نے عراق بھر میں 505 فوجی بیسوں کو آباد کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب کاروائی نئی صبح کا ستمبر 2010 میں آغاز ہوا تھا، تو یہ تعداد گر کر 92 ہو گئی تھی اور آج وہاں پر صرف 12 موجود ہیں.

انہوں نے کہا کہ فوجوں کی تعداد 165.000 سے گر گئی ہے اور سامان جس کی ایک وقت گنتی 2 ملین سے زائد تھی اب 600،000 تک رہ گئی ہے۔

جنرل نے کہا کہ فوجیوں میں سے زیادہ تر فوجی جہازوں کے ذریعے کویت کے لئے پرواز کریں گے اور وہاں سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو واپس چلے جائیں گے،  جبکہ کچھ عراق سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو براہ راست تجارتی پروازوں کے ذریعے جائیں گے۔

سپوئیر جو کہ لاجسٹکس، اہلکاروں، مواصلات اور عراق میں امریکی فورسز کے لئے معاہدوں کے نگران ہیں نے کہا کہ دوبارہ تعیناتی کی یہ کوشش دوسری عالمی جنگ کی "سرخ بال ایکسپریس" فوجی ٹرکوں کے قافلوں جس نے یورپ میں اتحادی فوجوں کی مسلح ٹیموں کے لیۓ سامان کی فراہمی کی تھی اس وقت سے بے مثال کارکردگی کی حامل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ارادتا" عراق سے محفوظ اور ذمہ داری کے ساتھ 31 دسمبر تک واپس جانے کے منصوبے پر عمل کر رہےہیں۔ یہ منصوبہ اس تبدیلی کے لئے جگہ بنانے میں کافی لچکدار رہا ہے، کوئی منصوبہ بھی اتنا غیر لچکدار نہیں ہونا چاہیے کہ اس میں خراب موسم یا دشمن کی سرگرمیوں کو جانچنے کی لیے موقع نہ ہو، لیکن یہ منصوبہ ہمارے جاری کردہ طریقہ کار میں لچکدار نوعیت رکھتا ہے۔

جیسے جیسے دوبارہ تعیناتی کی کوششیں مظبوط ہوتی جا رہی ہیں،  جنرل نے کہا کہ کسی بھی وقت 55 امریکی فوجی رسد کے 1.650 ٹرک عراق میں سے گزر کر فوجی سامان کو واپس بھیجنے کے لیۓ کویت پہنچاتے ہیں. جنرل نے کہا کہ ان قافلوں پر فوجی اور کنٹریکٹ ڈرائیوروں کو امریکی افواج کی جو بم کے لئے سڑکوں کی تلاشی لیتے ہیں اور سیکورٹی خطرات پر انٹیلی جنس جمع کرتے ہیں کی پشت پناہی حاصل ہے۔

سپوئیر نے مزید کہا کہ اگر وہ کسی بھی مصیبت میں پھنس جائیں تو ظاہر ہے کہ عراق میں اگر ان کو ضرورت پڑے تو امریکی افواج  ہر طرح کی جنگی اور طبی امداد کے ساتھ  ان کی مدد کرتی ہیں۔

جنرل بتایا کہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ یکم جنوری، 2012  سے عراق میں امریکی کوششوں کی قیادت کرے گا اور عراقی سیکورٹی اتحاد کے دفتر کی نگرانی کرے گا، جس کے دوسرے کاموں کے علاوہ، عراقی حکومت کی طرف سے خریدے گۓ امریکی ہتھیاروں کی فراہمی بشمولM1 ٹینک اور ایف 16 لڑاکا طیاروں کا انتظام اور نگرانی کے کام بھی شامل ہیں۔

جنرل نے کہا کہ امریکی افواج نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو کچھ فوجی سازو سامان اُدھار دیا ہے جس میں کیمروں سے  لیس نگرانی کے نظام، ریڈار کا نظام اور مائین سے محفوظ گاڑیاں بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی افواج نے کچھ اشیاء عراقی حکومت کو منتقل کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سامان فوجی بیس پر کام آئے گا کیونکہ اس کو منتقل کرنے کی نسبت واپس بھیجنے میں زیادہ لاگت آۓ گی۔ عراق کو منتقل اشیاء کی مالیت کی قیمت مارکیٹ میں 196 ملین ڈالر ہے، سپوئیر نے وضاحت کی جن میں سے ہم نے 298 ملین ڈالر منتقلی کی قیمت کو بچا لیا ہے۔

جنرل نے کہا کہ اس آپریشن کے دو بڑے نشان تصدیق فوج کی حفاظت اور منتظم رسد ہے— جس کا مطلب یہ ہے کہ   ہم فوجوں کو با حفاظت رکھیں اور فوجی سازوسامان کی گنتی اور عراقی فوجی اڈوں کو جس حالت میں ہم نے پائے تھے اس سے بہتر حالت میں لوٹائیں۔

سپوئیر نے کہا کہ اب پر تشدد حملوں کی تعداد یومیہ اوسط 14 ہے، جو کہ تقریباً 2007 سے 2009 کے دوران 149 کی یومیہ اوسط سے کم ہو کر ہے، عراق اب بھی ایک خطرناک جگہ ہے اور امریکی افواج اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنے ساتھی فوجیوں کی ان کے اپنے گھر واپسی تک ان  کو تحفظ فراہم کرنے کا عزم کیۓ ہوۓ ہیں۔

اس کیلنڈر سال کے آخری چند ہفتوں، آخری چند دنوں میں وہ ضروری لوگ رہ جائیں گے جن کو آپ اختتام کے قریب آ کر بھی جانے نہیں دے سکتے۔ وہ ہمارے طبی عملے کے لوگ ہیں جو بلاتعطل طبی دیکھ بھال کے لئے رسائی فراہم کرتے ہیں، ہمارے رسد کے لوگ، جو محفوظ طریقے سے تمام افراد اور سامان کو عراق سے باہر منتقل کرنے کے ذمہ دار ہیں اور پھرضروری مسلح طاقت جو کہ اس بات کی یقین دہانی کرتی ہے کہ ہم آخری پل تک مضبوط رہیں۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 23 times

فیس بُک پر دوست
33,167+