صفحہ اول | خبریں | پہلے افغانی اور پاکستانی ہاتھ [ایف-پاک ہینڈز] کو پاس کر کے اِس کے طلبہ کی بیرون ملک تعیناتی
پہلے افغانی اور پاکستانی ہاتھ [ایف-پاک ہینڈز] کو پاس کر کے اِس کے طلبہ کی بیرون ملک تعیناتی
منجانب , American Forces Press Service

فضائیہ کی ماسٹر سارجنٹ آئرین میسن ایف-پاک ہاتھ کے فارغ اتحصیل طلباء کی قطار کی قیادت کر رہی ہیں ۔ یہ طلباء بیرون ملک تعیناتی کے لیۓ بالٹی مور - واشنگٹن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
واشنگٹن (23 اپریل، 2010) – 12 نومبر، 2009 کو مشترکہ افواج کے سربراہ بحریہ کے ایڈمرل مائک مولن نے افغانستان - پاکستان ہاتھ کے پروگرام کی افتتاحی کلاس سے خطاب کرتے ہوۓ کہا کہ میری ملازمت کے دوران  میرا پورا تجربہ یہ رہا ہے کہ اگر آپ کسی ملک میں جائیں اور ان کی زبان بولنےکی کوشش کریں تو اس سے اُن پربہت اچھا اثر پڑتا ہے۔"

 

تقریباً پانچ ماہ بعد 21 اپریل کو رات دیر گۓ مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے پائلٹ اور بحریہ کے 32 ماہر افراد کا پہلا گروپ  بالٹی مور کے نزدیک واشنگٹن بین الاقوامی تھرگڈ مارشل ایئر پورٹ سے کابل جانے کے لیۓ جہاز پر سوار ہوا۔

 

 

ان  افراد نے 16 ہفتوں کا ایک سخت تربیتی پروگرام جو کہ ثقافت اور زبان کی بھرپور تربیت پر مشتمل تھا مونٹیرری کیلیفورنیا میں دفاع کے زبانوں کے ادارے [ ڈیفیس لینگویج انسٹیچوٹ] میں مکمل کیا۔ جس کے بعد ان کو تعیناتی کے لیۓ مخصوص فوجی تربیت دی گئ۔

 

 

مختصراً اس پروگرام کا یہ مطلب نہیں کہ ہر فوجی کی واپسی پر کسی دوسرے کو اس کی جگہ تعینات کیا جاۓ تو اس کی تربیت  بالکل ابتدا سے شروع کی جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ فوجی اور شہری ماہرین کا ایک ایسا دستہ موجود ہونا چاہیے جس کو ان علاقوں میں امریکہ کے مقاصد پورا کرنے کی غرض سے پیشہ ورانہ مہارت فراہم کرنے کے لیۓ عام عملے اور قیادت کے ایسے اہم عہدوں پر باری باری تعینات کیا جاۓ جو کہ جنگ کے علاقوں اور براعظم امریکہ میں واقع ہوں۔

اس تربیت نے ان کو افغانستان اور پاکستانی ماہرین کے بنیادی دستوں کے طور پر تیار کیا ہے۔ ان کو طویل مدت کے لیۓ تسلسل فراہم کر کے افغانی پاکستانی اور اتحادیوں کے ساتھ مشترکہ ایجنسیوں کے درمیان اور کثیرالاقومی اداروں سے بہتر تعلقات پروان چڑھانے کے لیۓ تیار کیا گيا ہے۔ یہ پروگرام خود مشترکہ فوج کے سربراہ کی نگرانی میں ہو گا۔

 

 

آرمی سارجنٹ فرسٹ کلاس ڈیوڈ جورج پانچ بچوں کے باپ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تربیت کافی مُشکل تھی۔  تعیناتی کے پہلے مرحلے میں صرف جورج افسر سے نیچے درجے سے تعلق رکھتے ہیں۔

 

 

انہوں نے کہا کہ "تربیت کے دوران ہم نے صحیح معنوں میں ایک دوسرے پر انحصار کرنا سیکھا۔ سچ پوچھیں تو میرے خیال میں ہم میں سے کوئي بھی اِس کو اکیلے مکمل نہیں کر سکتا تھا۔"

 

 

جورج سب سے پہلے کورس کے فارغ اتحصیل 12 طلباء میں سے ایک ہیں اور وہ ایف-پاک ہاتھوں کی تعیناتی کی مدت کے دوران افغانی ہم منصبوں کی گھریلو ساخت کے بموں کے خلاف کاروائی کی صلاحیت کو بہتر بنانے اور ان کی تربیت پرتوجہ دیں گے۔

جورج جنہوں نے داری زبان پڑھی ہے نے کہا کہ "مشن کی کامیابی کے لیۓ زبان اور ثقافت کو جاننا بہت ضروری ہے۔"

 

 

جورج کی ایک ہم جماعت فضائیہ کے اڈے  بولّنگ واشنگٹن ڈی سی  سے مقدمات کی وکیل میجر کرسٹی بیری نے بھی رضا کارانہ طور پر اس پروگرام کے لیۓ اپنی خدمات اس مدت کے لیۓ پیش کیں ہیں جس میں ان کے شوہر فوج میں کیپٹن سی مس افغانستان میں فضائیہ کے اڈے باگرام پر بطور وکیل تعینات ہیں۔ لیکن ان کی رضا کارانہ کام کرنے کی پیشکش کی صرف یہی وجہ نہیں ہے۔

 

 

بیری کے پچھلے کام کے تجربہ میں ایک سال کے قیام کے دوران قیدیوں کی نظر ثانی کےایک عراقی بورڈ کے ساتھ مل کر کام کرنا شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں اس کو براہ راست ملوث ہونے عملی کام کرنے اور تاریخ کا حصّہ بننے کے ایک طریقہ کے طور پر دیکھتی ہوں۔ میرا خیال ہے کہ یہ ایک عظیم پروگرام ہے اور کاش کہ بطور ایک فوج کہ اس جنگ میں ہم نے اس کے متعلق کُچھ پہلے سوچا ہوتا۔"

 

برّی فوج بحریہ اور فضائیہ کے افراد میرینز اور کوسٹ گارڈ کے ارکان جو اس پروگرام میں متعین کيۓ گۓ ہیں بیرون ملک میں فرائض کے سلسلے میں تین سے پانچ سال کے لیۓ افغانستان اور پاکستان میں خدمات انجام دیں گے۔ یہ ارکان اپنی تعیناتی کی مدت کے دوران بیرون ملک دو سے تین بار ایک سالہ قیام  کی توقع رکھ سکتے ہیں۔

 

 

جورج نے کہا کہ "میری بیوی کو میرے چلے جانے کا تصّور پسند نہیں ہے اگرچہ وہ میرا ساتھ دیتی ہے اورمجھے سمجھتی ہیں وہ مجھے اس نۓ پروگرام کے ایک اہم  حصّے کے طور پر دیکھتی ہیں۔ "

 

 

جنگ کے علاقے میں تقریبا" 280 کام کرنے کی جگہیں ہیں اکثریت افسران کی ہے مگر اس میں کچھ سینیئر ارکان بھی شامل ہیں اور ان میں تھوڑے سے پاکستان کے لیۓ مختص بھی کر دیے گئے ہیں۔ آج کل تقریبا" 180 فوجی زیر تربیت ہیں اور اب نظریہ یہ ہے کہ جب تمام آسامیاں پوری ہو جائیں گی تو اس پروگرام میں 800 سے زیادہ افراد موجود ہوں گے۔ افغانستان میں آمد پر ان کو زبان اور بغاوت کے خلاف کاروائی کی مزید تربیت دی جائیگی۔ اس کے بعد یہ اپنے افغانی ہم منصبوں کے ساتھ گھل مل کر کام کرنے کے لیۓ  ملک کے مختلف  حصّوں میں پھیل جائیں گے۔

 

جورج کو یقین ہے کہ جنگ کے علاقوں میں اس پروگرام کا مثبت اثر پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ "اگر جیسا کہ ارادہ ہے ہم کو جنگ کے علاقوں میں اسی طرح ہی استعمال کیا جاتا ہے تو میری ایماندارانہ راۓ یہ ہے کہ ہماری اور اِس پروگرام کی کوششوں کے ساتھ یہ جنگ صحیح یا خراب ہو سکتی ہے لیکن اِس کا فیصلہ اب وقت ہی بتاۓ گا۔" 

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 25 times

فیس بُک پر دوست
33,184+