صفحہ اول | خبریں | خبریں | منتقلی کے مختلف چہرے: تھوڑی سی پشتو سیکھنے سے بہت سا فائدہ
منتقلی کے مختلف چہرے: تھوڑی سی پشتو سیکھنے سے بہت سا فائدہ
منجانب Cpl. Reece Lodder, Regimental Combat Team 5
120504_talk
یو-ایس مرین فرسٹ لیفٹننٹ لیوک فوریل، انڈیا کمپنی کی تھرڈ پلاٹون کے کمانڈر، تھرڈ بٹالین، تھرڈ مرین رجیمنٹ، نیو یارک سٹی کے 28 سالہ مقامی، 28 اپریل، 2012 کو ایک گشت کے دوران ایک مقامی بزرگ سے گفتگو کرتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب کارپورل رس لوڈر)

صفر، افغانستان (4 مئی، 2012) – یہ ملاقات معمول تھی مگر گفتگو بہت غیر معمولی تھی۔

مٹی کی دیواروں سے بنی ایک افغان بزرگ کی کمپوئند کے ایک حبس دار کمرے میں دو مرینز اور ان کے مترجم، دوستوں کے درمیان آرام سے ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے، آرائشی سیاہ تکیوں سے سہارا لگاۓ اپنے میزبانوں کے ساتھ بات چیت میں مصروف تھے۔

سورج کی گرم روشنی شیشے کی کھڑکیوں سے گزر کر اندر آرہی تھی اور گہرے نارنجی رنگ پردوں پر بزرگوں کے سروں کے اوپر سگرٹ کے دھوئیں کے گھومتے بادل دکھائی دے رہے تھے۔ گرما گرم چائے کے کپ اور کشمش کی پلیٹیں، خشک مکئ کے دانے اور ٹافیاں ان کے درمیان ایک نمونہ دار سرخ رنگ کے قالین پر رکھے تھے۔

آہستہ آہستہ اور جان بوجھ کر، امریکی مرین فرسٹ لیفٹیننٹ لیوک فوریل بزرگوں سے پشتو، ان کی مادری زبان میں، خطاب کرتے ہیں۔ وہ توجہ  سے سنتے ہیں جب وہ افغان تاریخ اور مقامی سکیورٹی کی بہتری کے بارے میں بات کرتے ہیں، صرف کبھی کبھار ان کو ترجمان سے مدد کی ضرورت پڑتی ہے۔

چھوٹے اوربھاری جسامت کے مرین ان کے تبصرے سنتے ہیں اوران کو پشتو میں جواب فراہم کرتے ہیں۔ بزرگ ان کا نقطہ نظر تسلیم کرتے ہیں، لیکن ان کی دبی ہنسیوں سے ظاہر ہے کہ وہ ان کے تلفظ کو تخلیقی پاتے ہیں۔ اگرچہ فوریل اچھی طرح پشتو زبان نہیں بولتے ہیں پھر بھی بزرگ ان کو اپنا دوست سمجھتے ہیں۔ وہ ان کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہیں ہوتے ہیں اور بزرگوں کو ان کی بات چیت دلچسپ لگتی ہے۔

چھوٹے موٹے کام اور یونیورسٹی کے درمیان گڈ مڈ کے کئی سالوں کے بعد، 28 سال کی عمر میں نیویارک سٹی کے مقامی فوجی نے سروس کے بارے میں سوچا جب ان کی کولمبیا یونیورسٹی سے 2009 میں گریجویشن قریب آئی۔ ایک سال بعد، جب عراق میں جنگی کاروائیاں سمٹ رہی تھیں، فوریل نے ایک مرین افسر کے طور پر کمیشن حاصل کیا۔ لیکن عراق میں تعیناتیوں کے اختتام کے قریب، اس بات کے زیادہ امکان ہو گئے کہ وہ افغانستان میں تعینات کیۓ جائیں گے۔

فوریل کی اس ملک میں دلچسپی اس وقت پیدا ہوئی جب وہ  ایک انفینٹری پلاٹون کمانڈر بننے کے لئے تربیت لے رہے تھے۔ انہوں نے افغانستان میں موجودہ واقعات کا بہت قریب سے مطالعہ کیا اور نیو یارک میں رہنے والے ایک پاکستانی دوست سے پشتو سیکھنے لگے۔ انہوں نے 1970 کی دھائی کے وسط میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد سے افغانستان کی تاریخ کے بارے میں اور اس سرزمین پر انسداد بغاوت کی کاروائیوں کے بارے میں  کتابیں پڑھیں۔

فوریل نے کہا کہ میں نے سوچا کہ پشتو زبان کی بنیادی تفہیم اور افغانستان کے ثقافتی پہلوؤں کے بارے میں کچھ جان کاری ضروری تھی خاص طور پر ایک پلاٹون کمانڈر کے کردار کی حیثیت سے ۔ میں اپنے آپریشن کے علاقے پر ڈیوٹی ماہر بننا چاہتا تھا ... اپنے مرینز کو اس کا علم فراہم کرنے اور صفر میں ہمارے مشن کے لئے ایک رفتار مقرر کرنے کے لیۓ۔

جیسے جیسے فوریل نے افغانستان کی تاریخ اور زبان کا مطالعہ گہرا کیا، اس کی دلچسپی اور بڑھتی گئی۔ ان سٹڈیز جن کا انھوں نے پہلے پیشہ ورانہ ضرورت کے تحت مطالعہ کیا تھا اب ان کی  ذاتی توجہ میں تبدیل ہو گئی۔

ہوائی میں اپنی تعینات کے بعد اور تعیناتی سے پہلے کے سات ماہ کی تربیت مکمل کرنے کے بعد، فوریل کو آخر کار وہ سب کچھ، جو انہوں نے سیکھا تھا، کو استعمال کرنے کا موقع ملا۔

اکتوبر 2011 میں انہیں ہلمند صوبے کے گرمسر ضلعے میں، تھرڈ پلاٹون کی 40 انفنٹری مرین، انڈیا کمپنی، تھرڈ بٹالین، تھرڈ مرین رجیمنٹ کی کمانڈ  دے کر وہاں تعینات کیا گيا۔ انھوں نے گرمسر کے صفر کے علاقے میں چارلی کمپنی، فرسٹ بٹالین، تھرڈ مرینز کی جگہ لی۔

یہ خطہ اتحادیوں سے افغان نیشنل سکیورٹی فورسز کی منتقلی قریب ہونے کی وجہ سے ایک مستحکم ضلعے میں اہم علاقہ ہے۔ اگرچہ ‎ صرف دو سال پہلے  یہ علاقہ باغیوں کی سرگرمیوں سے دوچار تھا، صفر اب گرمسر کا تیزی سے بڑھتا ہوا مصروف ترین تجارتی مرکز بن گیا ہے۔

فوریل جو کامبیٹ آؤٹ پوسٹ رانکیل پر تعینات ہیں اور ان کے جوانوں نے فوری طور پر صفر کی سیکورٹی، گورننس اور افغان فورسز کی ترقی قائم کرنے کے لیئے مدد کرنا شروع کر دیا۔

فوریل نے مقامی عمائدین کے ساتھ تعلقات قائم کرنا شروع کر دیا، جنہوں نے فوراً ہی ان کو "کمانڈر لیوک" نئے مرین رہنما کے طور پر قبول کر لیا جو ان کی زبان میں بات کر سکتا تھا اور جن کو ان کی ثقافت کے بارے میں علم تھا ۔ وہ ان کو اس مرین، جو ایک بار سی-او-پی رینکیل میں شوری کے موقعے پر روایتی افغان لباس پہننے آیا کے طور پر یاد رکھتے ہیں۔

کیپٹن بابی لی، انڈیا کمپنی کے کمانڈنگ افسر اور کارپس کرسٹی، ٹیکسس کے مقامی نے کہا کہ ہم افغانستان میں تعمیر اور منتقلی کے مراحل، اور ملک کی تعمیر نو کے حصے اور اس کے لوگوں کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کے قابل ہونے کے درمیان ہیں ۔ لیفٹیننٹ فوریل کا نقطہ نظر ہے کہ پشتو میں بات کرنا ایک راستہ ہے ان کو بات چیت میں مشغول کرنے کے لیۓ -

سارجنٹ برینڈن بارڈوس، جو کہ فوریل کی کمانڈ کے تحت ایک اسکواڈ لیڈر ہیں، نے کہا کہ ان کے پلاٹون کمانڈر کی صفر کے بزرگوں سے تعلقات قائم کرنے کی جذباتی کوششوں نے خطے میں نئے مرین قیادت کو علاقے میں ضم کرنے کے مشکل کو آسان بنا دیا ہے۔

باوڈوس، جو ہائیکو، ہوائی کے ایک 26 سالہ مقامی ہیں، نے کہا کہ لیفٹیننٹ فوریل نے فوری طور پر بزرگوں کے ساتھ تعلقات قائم کر لیۓ کیونکہ وہ سمجھ سکتے تھے۔ ان کے پاس صفر کو سمجھنے کے لئے عزم تھا، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات، یہاں کے لوگوں کی شخصیت ہے۔ وہ ان کے مذہب اور ثقافت کے بارے میں حساس تھا، اور ان کی شناخت کے لئے اپنے راستے سے ہٹ کر دور تک گۓ۔ بزرگوں کو تحفظ کا احساس ہوا اور انھوں نے اس کو کھلی باہوں سے خوش آمدید کہا۔

جیسے ہی ان کے تعلقات مزید گہرے ہوۓ صفر کے بزرگوں کا فوریل اور ان کے جوانوں پراعتماد بھی بڑھا۔  باڈوس نے کہا کہ بزرگوں نے تین الگ الگ مواقع پر معلومات فراہم کیں جن سے یا تو خود ساختہ دھماکہ خیز آلات، منشیات اور آئی-ای-ڈی بنانے کے سامان کی جگہ کا پتا چلایا اس سے دشمن جنگجوؤں کو پکڑنے کا موقع ملا۔

بارڈوس نے کہا کہ اسی طرح، فوریل کی ثقافتی بیداری اور زبان کی مہارت نے اے-این-ایس-ایف کے ساتھ ان کی ترقی کے ایک اہم وقت کے دوران تعلقات بنانے پر "اہم اثرات" ڈالے۔

جبکہ گزشتہ یونٹ کا مشن اے-این-ایس-ایف کے ساتھ پارٹنرشپ کا قیام تھا، انڈیا کمپنی کے مشن نے افغان فورسز کو اپنے طور پر صفر کو محفوظ بنانے میں مدد کرنا تھا۔ افغان فورسز کے لئے پارٹنرشپ سے خودمختاری تک کی منتقلی کا آپریشن کافی مشکل تھا جو اب تک مرین پارٹنرز کی مکمل مدد کے عادی تھے۔

فوریل نے کہا کہ جب ہم صفر پہنچے تو اے-این-ایس-ایف ہماری مدد کے بغیر کام کرنے کو تیار اور قابل تھے ۔ انھیں صرف ہماری مدد لینے سے آہستہ آہستہ دور کرنا تھا اور ان کو دکھانا تھا کہ صفر کی سکیورٹی میں اضافہ ان کی ایک بہتر فوج بننے سے جُڑی ہوئی ہے۔

جنوری میں گرمسر میں تعینات مرینز نے اتحادی افواج سے اے-این-ایس-ایف کی قیادت میں سکیورٹی کی ذمہ داری کی منتقلی کو صرف نگرانی کی پوزیشن میں منتقل کر دیا گیا۔

علاقے میں افغان فورسز نے اپنا قبضہ مضبوط کر لیا ہے اور سلامتی میں اضافہ جاری ہے۔ مقامی معیشت پھلی پھولی، جو کہ ایک چھ ماہ کی مُدت کے دوران صفر کے بازار میں تقریباً 200 سے 400 دکانوں کا اضافہ ترقی کا ثبوت ہے۔ انتظامیہ میں توسیع اور صفر نے اپریل میں منعقد ہوۓ ضلعی کمیونٹی کونسل کے انتخابات میں زیادہ سے زیادہ نمائندگی دیکھی، جیسا کہ علاقے کے لئے نامزد کی نشستوں کی تعداد 2011  میں ایک سے بڑھ کر 2012 میں چار تک ہو گئی۔

پیش رفت ہوئی۔  فوریل نے کہا کہ مقامی لوگوں نے دیکھا کہ افغان حکومت ان کے مسائل کے لئے "حقیقی جواب دینے کے لئےتیار تھی۔ اپنے مسائل کو یرینز تک لے جانے کے بجائے، انہوں نے اب ان کو مقامی رہنماؤں تک لے جانا شروع کر دیا۔  حالانکہ ان کا نظام کامل نہیں تھا، فوریل نے کہا، صفر کے لوگ "درست راستوں کے ذریعے لابنگ" کر رہے تھے۔

فوریل نے کہا کہ تعیناتی کے عرصے کے دوران، ہم نے مقامی لوگوں کی سوچ میں بدلاو دیکھا کہ اب وہ کس کو ایک حکام کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ جب سے ہم آئے ہیں انھوں نے ایک مکمل 180 ڈگری پر رخ بدلا ہے۔

ان کی منفرد شراکت کے باوجود، یہ پشتو بولنے والے پلاٹون کمانڈر کئی تبدیلیاں لانے والوں میں سے ایک ہیں، جنہوں نے اس سابقہ باغیوں کے سرگرم علاقے میں سکیورٹی قائم کرنے والے کا کردار ادا کیا ہے۔

فوریل ان ہزاروں میں سے ایک ہیں، جنہوں نے یہاں آزادی اور سلامتی کو لانے کے لئے پسینے بہاۓ، خون بہاۓ یا حتمی جان کی قربانی دی۔ قربانی اور ترقی کے ساتھ بھری تاریخ کی کتاب میں ان کی کوششیں ایک علامت کے طور پر درج  ہیں، لیکن وہ ان لوگوں کے درمیان یادوں کے طور پر موجود رہیں گی جن  کی زندگیوں پر اثر ڈالنے کے لیۓ انھوں نے کام کیا، ان کے صفر سے چلے جانے کے بہت عرصہ بعد تک بھی۔

لی نے کہا کہ افغانستان کی ثقافت ایسی ہے جہاں لوگ ایک دوسرے تک زبانی تاریخ منتقل کرتے ہیں ۔ 20 یا 30 سالوں میں بھی صفر کے لوگوں کو 'کمانڈر لیوک' یاد رہیں گے۔ وہ اس کی کہانیاں بار بار بیان کریں گے، مثلاً ان کے پشتو بولنے کی صلاحیت یا وہ وقت جب انہوں نے ایک شوری کے موقعے پر افغان کپڑے پہنے تھے۔ انہوں نے مرینز کے یہاں گزارے وقت کے بارے میں اچھی یادوں کی ایک تاریخ بنانے میں مدد دی ہے۔
 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 25 times

فیس بُک پر دوست
33,184+