صفحہ اول | خبریں | پریس ریلیس | خواتین پر مبنی انگیجمنٹ ٹیم 'ڈریگن' صوبہ پکتیکا میں تبدیلی لا رہی ہے
خواتین پر مبنی انگیجمنٹ ٹیم 'ڈریگن' صوبہ پکتیکا میں تبدیلی لا رہی ہے
منجانب Sgt. Gene Arnold, 4th BCT PAO, 1st Inf. Div.
120730_dragon
چوتھی انفنٹری بریگیڈ کامبیٹ ٹیم، فرسٹ انفینٹری ڈویژن کے خواتین پر مبنی انگیجمنٹ ٹیم، صوبے پکتیکا میں 22 جولائی کو ایک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیۓ گۓ دورے کے دوران ایک یتیم خانے کے بچوں کے ساتھ فٹ بال کھیلتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب سارجنٹ جین آرنلڈ)

صوبہ پکتیکا، افغانستان (30 جولائی، 2012) - افغانستان کے پکتیکا صوبے میں پہنچنے کے بعد چوتھی انفنٹری بریگیڈ کامبیٹ ٹیم، فرسٹ انفنٹری ڈویژن کے خواتین پر مبنی انگیجمنٹ ٹیموں نے پہلے ہی کئی دور دراز دیہات کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد دینے کے مشنوں کا انعقاد کیا ہے اور ڈرپ بالٹی آب پاشی کے کلاسوں کا انعقاد کر رہی ہیں۔

21-22  جولائی کے دوران بریگیڈ کی ایف-ای-ٹی نے صرف خواتین شورا، جو کہ کونسل کے لیۓ افغان لفظ ہے، کا اجلاس بلایا، اور خواتین کے امور کے ڈائریکٹر کے ساتھ مل کر ایک مقامی یتیم خانے میں بچوں کے ساتھ منسلک ہونے کا یہ ایک اضافی قدم اٹھایا ہے۔

خواتین کے امور کی نئی عمارت کے باہر سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے مسلح افغان نیشنل فوج کے گارڈز کھڑے ہیں۔ اس میں شرکت کے لئے اندر موجود خواتین سزا کا خطرہ مول لے رہی ہیں – کیوں؟

ایک خاتون نے ترجمان کے ذریعے امریکی فوجی سے بات کی۔

ترجمان نے وضاحت کی کہ  "یہ تھک گئی ہے ۔ یہ برمل میں اپنا گھر چھوڑ کر یہاں آگئی تاکہ طالبان سے اپنے بچوں کو بچا سکے۔"

اس کے بیٹے کو طالبان میں شمولیت نہ کرنے پر بُری طرح مار پڑی اور اس کی ایک آنکھ بھی ضائع ہوگئی۔

عمارت میں موجود عورتیں ناراض تھیں۔ خواندگی، حفاظت اور ان کے خاندانوں کے لئے رزق فراہم کرنے کے طریقے ان کی پریشانیوں میں سے تھیں۔ وہ تشدد اور طالبان کی افغان خواتین کے ساتھ بدسلوکی سے تھک آگئ تھیں۔

ای-ایف-ٹی کے ارکان نے ان معلومات، جو خواتین سے تبادلہ خیال کے ذریعے حاصل کیں، کو ذھن میں بٹھا لیں، انھوں نے  افغانستان کے سب سے زیادہ غیر استعمال شدہ وسائل – اس کے بچوں کے ساتھ تعلق بنایا۔

سپیشل ڈالیا لوپیز، جو ایک ویلڈر اور  فرسٹ بٹالین، 28ویں انفنٹری رجیمنٹ، کی انگیجمنٹ ٹیم "کالے شیر" کی رکن ہیں، نے کہا کہ "یہ عورتوں سے براہ راست معلومات حاصل کرنے کا ایک یادگار تجربہ تھا"۔

افغان خواتین کے ساتھ رفاقت اور بھائی چارے کے دو گھنٹے کے بعد ٹیم کو ان کی آپریٹنگ بیس پر واپس لے جایا گیا تاکہ اگلے دن مقامی یتیم خانے کے مشن کے لئے انھیں ہدایات دی جا سکے اور منصوبہ بندی کی جا سکے۔

شرانہ میں ایک یتیم خانہ ہےجو 110 بچوں تک کی رہائش کا انتظام کر سکتا ہے اوراس بجٹ سے مطابقت رکھتا ہے۔ فی الحال اس یتیم خانے کے اندر 18 بچے ہیں۔ ان کو وہاں کھانا، تعلیم اور سونے کی جگہ ملتی ہے۔ 6 سے 14 سال کی عمر کے بچوں کو مسکراتے ہوئے سروں پو سکارف لپیٹے ایف-ای-ٹی ٹیم کی ارکان ملیں جنہوں نے مظبوط طریقے سے ہاتھ ملاۓ اور  پشتو زبان میں "سلام و علیکم" کہا۔

 دیوار کے ساتھ قطار بناۓ، بچے ہنستے اور مسکراتے رہے جب ان کو بلبلے بنانا سکھایا گیا، مضحکہ خیز سیٹیاں بجانی اور فریزبی پھینکنا سکھایا گیا۔ یتیم خانے کے ڈائریکٹر نے بچوں کو ایک قطار میں اکٹھا کیا اور ان میں اسکول کا سامان، جسمانی صفائی کی چیزیں، بستے، کتابیں اور ٹافیاں تقسیم کیں۔

 بچے اپنے نۓ تحائف پا کر بہت خوش تھے کہ انھوں نے ای-ایف- ٹی ٹیم کے ارکان کے ساتھ صحن میں فٹ بال کھیلنا شروع کر دیا۔

 جیسے ہی ارکان نے واپس جانے کی تیاری کی تو بچوں نے ایک بار پھر ان سے ہاتھ ملایا اور مسکراۓ۔ ایک بچہ اس دن کے بارے میں اتنا پُر جوش تھا کہ اس نے صرف وہ انگریزی الفاظ جو وہ جانتا تھا کہہ دیا، "شب بخیر۔"

 واپس اپنی آپریٹنگ بیس پر، سپیشل ماریلا بٹان، جو ای-ایف-ٹی ٹیم کے ساتھ ٹرانسپورٹیشن سپیشلسٹ ہیں، نے کہا کہ "میں یہ دوبارہ کروں گی۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گيا ہے، ان کو اپنی کہانی سنانے کی ضرورت ہے۔"

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
33,148+