Combined Joint Interagency Task Force-435
| زیرِحراست افراد افغان معاشرے میں واپسی کے لیے تیار |
|
منجانب Master Sgt. Adam M. Stump, Combined Joint Interagency Task Force 435 صوبہ پروان، افغانستان 10 نومبر 2010 – پروان میں واقع ادارہ نظر بندی کی ایک بیرونِ خانہ جھونپڑی میں زیرِحراست افراد ایک میز پر محنت سے آٹا گوندھتے جاتے ہیں جس سے تندور میں ڈال کر منٹوں میں افغانی روٹی تیار کی جاتی ہے۔ رہائشی یونٹ کے ایک گودام جیسے کمرے میں ایک زیر حراست فرد اپنے ہاتھوں سے سلائی مشین سے کپڑا گزارا جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس کے پاوں ایک پیڈل کو دھکیلتے جاتے ہیں یوں وہ ایک سفید وردی کی سلائی کو ٹھیک کر رہا ہے جس کے ٹانکے ادھڑ گئے تھے۔ اسی رہائشی یونٹ کے باہر زیر حراست افراد میزوں پر بیٹھے ایک افغانی استاد کی عقابی نظروں کے سامنے انگریزی اور پشتو جملے لکھ رہے ہیں جو انھیں مادری یا ثانوی زبان میں تعلیم کے حصول میں مدد دے رہا ہے۔ یہ سب بحالی کے عمل کا حصہ ہے جس کا مقصد زیرحراست افراد کو افغان معاشرے میں واپس جانے کے قابل بنانا ہے۔ امریکی فوج کے کرنل کیون برک جو اس ادارہ نظر بندی میں بحالی کے سربراہ ہیں نے بتایا کہ بحالی کا آغاز زیرحراست افراد کو ادارہ نظر بندی میں بجالی کے عمل سے گزارنے کے بعد ہوتا ہے۔ افغانی مشاورت کار، جو بیشتر پشتون ہوتے ہیں، زیرحراست افراد کے ساتھ رو بہ رو بیٹھتے ہیں تاکہ ان کی ضرورتوں اور افغانستان کے موثر شہری بننے کے طریقوں کے بارے میں ان سے بات چیت کریں۔ برک نے بتایا کہ مشاورت کار تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے اعتبار سے زیر حراست افراد کی ان ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہیں جو ہم انھیں یہاں فراہم کر سکتے ہیں۔ اس کا مقصد بحالی کا عمل شروع کرنا ہے جو اسی وقت شروع ہو جاتا ہے جب کوئی زیر حراست فرد یہاں لایا جاتا ہے اور اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک وہ یہاں رکھا جاتا ہے اور بالآخر رہا کر دیا جاتا ہے۔ اس دوران ہمارا مقصد زیرحراست افراد کی ضروریات کو اس طرح پورا کرنا ہوتا ہے کہ ان کے پاس باغیانہ سرگرمیوں میں شامل ہونے کے علاوہ کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ موجود ہو۔ ایک مشاورت کار نے بتایا کہ بحالی کی کلاسوں اور ان کلاسوں کے مقصد کی وضاحت ووکیشنل انٹرویو کے دوران کی جاتی ہے۔ انٹرویو کے دوران مشاورت کار نے بتایا کہ ہم زیرحراست افراد کو بتاتے ہیں کہ ہم مختلف قسم کی کلاسیں منعقد کرتے ہیں جیسے ووکیشنل اور تعلیمی کلاسیں، اورہم پوچھتے ہیں کہ زیر حراست افراد کے لیے کون سی کلاسیں [کس طرح سے] مفید رہیں گی ۔ انھیں یہ فائدہ اس وقت ہوتا ہے جب انھیں رہا کر دیا جاتا ہے، وہ اپنے ساتھ گھر لیجانے اور اپنے بچوں کی مدد کے لیے کچھ نہ کچھ حاصل کرتے ہیں اور ان میں سے کچھ درزیوں کا کام اور غالباً ایسے ہی دوسرے کام شروع کریں گے۔ بنیادی تعلیم کے پروگرام زیرحراست کے لیے مقبول ترین پروگراموں میں شامل ہیں۔ انگریزی زبان کی کلاسوں میں تقریباً 30 زیرحراست افراد شامل ہیں اور مزید کئی درجن داری یا پشتو سیکھ رہے ہیں۔ اس بات کی تسلی کے لیے کہ وہ اپنی مادری زبان میں بنیادی تعلیم کے حامل ہیں زیرحراست افراد کو کلاسوں میں داخلہ دینے سے پہلے، جن کی منظوری اور سند افغان وزارتِ تعلیم دیتی ہے، ان کا ٹیسٹ لیا جاتا ہے۔ پروگرام مکمل کرنے پر زیرحراست افراد کو وزارت کی طرف سے ایک سند دی جاتی ہے۔ امریکی زرعی محکمے کے ایک انسٹرکٹرجم کونلی بتاتے ہیں کہ زیرحراست افراد کی ایک اور پسند زراعتی پروگرام ہے جس میں فی الحال تقریباً 80 زیرحراست افراد داخلہ لے چکے ہیں۔ زیرحراست افراد کے لیے تین کلاسیں ہوتی ہیں جو ہفتے میں ایک دن ڈیڑھ گھنٹے کے لیے باہر کھیت میں کام کرتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہفتے میں دو دن ڈیڑھ گھنٹے کی کمرہ جماعت میں پڑھائی جاتی ہیں۔ پروان کے ادارہ نظر بندی کے زرعی پروگرام کے تحت قیدیوں کو زیادہ بہتر کاشتکاری کرنے کے لیے زراعت کے مختلف طریقوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ ان میں سے ایک طریقہ ڈرپ آبپاشی ہے۔ کونلی (Conley) کے مطابق اس طریقہ آب پاشی سے فصلوں سے زیادہ پیداوار حاصل کرنا ممکن ہوتا ہے۔ قیدیوں کو ڈرپ آبپاشی کے جس طریقے سے آگاہ کیا گیا ہے وہ چھ فٹ کے ایک سٹینڈ کے ذریعے کام کرتا ہے جو فصلوں کی قطار کے ساتھ ساتھ چلتی آبپاشی ٹیپ سے منسلک ہوتا ہے۔ پانی کشش ثقل کے بل پر چلتا اور پودوں کو سیراب کرتا ہے۔ کونلی کا کہنا ہے کہ ڈرپ طریقہ آبپاشی روایتی طریقوں سے زیادہ کارآمد ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ افغانستان میں دستیاب ڈرپ آلات زیادہ سستے ہیں جن سے کسان پانی کی اسی مقدار سے زیادہ رقبہ سیراب کر سکتے ہیں۔ کونلی کہتے ہیں کہ ہم انہیں کچھ نئی مگر ایسی ٹیکنالوجیز دکھانا چاہتے ہیں جو افغانستان کے لیے مناسب ہو۔ فصلوں کی پیداوار بہتر بنانے کے لیے قیدیوں کو دیگر طریقوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔ ان میں سے ایک انگور کاشت کرنے میں ٹریلیز (trellises) کا استعمال ہے۔ کونلی کا ماننا ہے کہ اس سے قیدیوں کو انگور زمین سے اوپر کاشت کرنے کی اہمیت کا علم ہو گا اور اس کی پیدوار دوگنی ہو جائے گی۔ کونلی کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ قیدیوں کو باورچی خانے کے کوڑا کرکٹ سے کھاد بنانے کا طریقہ بھی بتایا گیا ہے تاکہ زمین کی زرخیزی میں اضافہ کیا جا سکے۔ بحالی کے پروگرام کے تحت قیدیوں کو ڈبل روٹی تیار کرنے کا طریقہ بھی سکھایا گیا ہے۔ فی الوقت، قیدیوں کو روایتی تنور میں ڈبل روٹی بنانے کا طریقہ سکھایا جا رہا ہے۔ تنور زمین میں گاڑا گیا ایک دھاتی ڈرم ہوتا ہے جس میں لکڑیاں یا کوئلے جلائے جاتے ہیں۔ قیدی میز پر آٹا گوندھتے ہیں اور ہمورا روٹی کو اس کی دیواروں سے چپکا دیتے ہیں۔ مگر حتمی طور پر قیدیوں کو ادارہ نظر بندی کے باورچی خانے میں جدید اوون میں ڈبل روٹی بنانے کا طریقہ سکھایا جائے گا۔ برک (Burk) کے مطابق، منصوبہ یہی ہے کہ قیدی اپنی روٹی خود بنائیں اور یہ ایسی مہارت ہے جو وہ رہائی کے بعد اپنے گاوں لے جا سکتے ہیں۔ قیدی یہاں رہتے ہوئے کپڑوں کی سلائی کا کام بھی سیکھ سکتے ہیں۔ ڈی ایف آئی پی دو بنیادی اور ایک ماہر ٹیلرنگ کلاسز پیش کر رہا ہے۔ ان کلاسوں میں شامل ہونے والے قیدی اپنے لیے ہی روایتی افغان لباس تیار کر کے سلائی کا کام سیکھ رہے ہیں اور انہیں دو پیشہ ور افغان درزی افغانستان میں دستیاب پیڈل سے چلنے والی سلائی مشینوں کے ذریعے ان کو کلاسز دے رہے ہیں۔ بحالی کے ان پروگراموں کے تحت قیدی پیش کی جانے والی مختلف مہارتوں میں کسی کو بھی منتخب کر سکتے ہیں تا کہ رہائی کے بعد وہ اپنے گائوں میں لوٹ کر انہیں استعمال کر سکیں۔ برک کہتے ہیں کہ یہ لوگ کلاسز کے موقع کی واقعی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ بلکہ اب ان کلاسوں میں شامل ہونے کے خواہشمند قیدیوں کی لمبی قطاریں ہیں۔ میں سمجھتا ہوں وہ اس بات پر خوش ہیں کہ ہم انہیں دوبارہ سماجی دھارے میں شامل ہونے کے لیے کچھ ایسا کرنے کی کوشش کریں جو ان کی پہنچ میں ہے۔ اس سے کمانڈ کے لیے ایسا مجموعی پروگرام پیدا کرنے میں مدد مل رہی ہے جس میں قید کے لیے ایسا ماحول پیدا کیا جائے کہ یہ سمجھتے ہوئے بھی کہ یہ قید ہو کر بھی بنیادی انسانی اصولوں پر حامل ہے۔ ہم ان کا احترام کرتے ہیں۔ ہم ان کے مذہب کا احترام کرتے ہیں اور انہیں اپنی شخصیت کو بہتر بنانے میں مدد کرتے ہیں تا کہ اپنے گھر لوٹنے کے بعد ان کے پاس عسکریت پسندی کے علاوہ اور بھی راستے ہوں۔ برک کہتے ہیں کہ ہمیں پتہ چلا ہے اور قیدیوں نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ یہاں آنے سے پہلے وہ پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ حتیٰ کہ ہمارے پاس ایسے قیدی بھی تھے جو ہمیں ہمارے انسٹرکٹروں، ہمارے ترجمانوں کو مختلف تحریریں پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔ یہ ان کے لیے بڑا جذباتی لمحہ ہوتا ہے کیونکہ اس سے پہلے وہ پڑھ نہیں سکتے تھے۔ اب وہ پڑھ سکتے ہیں اور اب وہ گھر لوٹنے پر اپنے بچوں کو پڑھا سکتے ہیں اور یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ اس تجربے نے ان کی شخصیت کو مزید بہتر بنایا ہے۔ یہ بہت زوردار بات ہے۔ برک کے مطابق جون میں شروع ہونے والے ان پروگراموں میں گزشتہ چند ماہ کے دوران بہت سی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ انگریزی زبان میں دی جانے والی ہدایات کو بھی کابل یونیورسٹی کے مطابق بنانے کے لیے تبدیل کرنے اور مختلف وکیشنل کلاسز جیسے کہ مستری، پلمبنگ اور بڑھئی وغیرہ پیش کرنے کا پروگرام بھی ہے۔ ڈی ایف آئی پی کی بحالی کی ٹیم انصاف کی منسٹری سنٹرل قید خانے کے ڈائرکٹوریٹ وزارت تعلیم اور افغانستان کی دیگر کلیدی وزارتوں، اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کےساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ برک کہتے ہیں کہ ہم یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ یہاں ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ دیرپا ہے، یعنی ہمارے جانے کے بعد افغان یہ کام کرتے رہیں گے۔ میں جو بھی پروگرام تیار کر رہا ہوں ان میں میں اپنے افغان ساتھیوں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہوں۔ وہ یہ پروگرام تیار کرنے میں میری معاونت کر رہے ہیں تا کہ ہم یقینی بنا سکیں کہ افغان اپنے ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ان پر عمل جاری رکھیں گے۔ یہ کورس کرنے میں قیدیوں کے لیے ایک اور فائدہ بھی ہے کہ یہ معلومات قیدیوں کے جائزہ بورڈ کو فراہم کی جاتی ہیں جو شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے کہ آیا کوئی قیدی قید کے معیار پر پورا اترتا ہے یا نہیں اور اگر ایسا ہے تو کیا قیدی جیسے بھی خطرے کا باعث ہو تو اسے ختم کرنے کے لیے مسلسل قید ضروری ہے یا نہیں۔ برک کے مطابق یہ معلومات قیدیوں کے جائزہ بورڈ کو فراہم کی جاتی ہیں تاکہ اس پر غور کیا جا سکے کہ وہ کلاسز لے رہے ہیں، انہوں نے اپنی شخصیت کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے اور پھر DRB ان اور دیگر معلومات کو یہ تعین کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے کہ کسی قیدی کو رہا کیا جانا چاہیے یا نہیں۔ بشرطیکہ حالات اجازت دیں ادارہ نظر بندی کو مشترکہ انٹرایجنسی ٹاسک فورس 435 سے افغان کنٹرول میں دیا جا رہا ہے، افغانوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ تعلیمی و تربیت پروگرام جاری رکھیں گے کیونکہ گزشتہ قیدیوں اور ان کے دیہات میں بہتری آنے سے ان کی اہمیت واضح ہوئی ہے۔ افغان قومی آرمی کے کرنل محمد عطائے، جو ڈی ایف آئی پی میں سینئر مرکز پرزن ڈائریکٹوریٹ آفیسر بھی ہیں کہتے ہیں کہ افغان جنگ اور لڑائی نہیں چاہتے۔ ہمارا کام انہیں تربیت اور تعلیم دینا ہے اور اس کا بہترین طریقہ انہیں علم دینا ہے۔ قیدی اپنے گائوں واپس جا کر قانون اور افغانستان کے آئین پر عمل کر سکتے ہیں۔ عطائے کہتے ہیں کہ دیگر فسیلیٹی میں بھی CPD نے ایسے ہی پروگرام شروع کیے ہیں اور ڈی ایف آئی پی کے لیے بھی اس کا ایسا ہی منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تعلیم سے خوش ہیں۔ یہاں خواندگی کے اچھے پروگرام ہیں۔ قیدی پروگراموں سے خوش ہیں اور یہ افغانستان کے عوام کے لیے اچھا ہے۔ یہ بہت اہم ہے اور اسی وجہ سے ہم انہیں مختلف ہنر سکھا رہے ہیں۔ ان سے وہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی مدد کر سکتے ہیں اور ان کے لیے کما سکتے ہیں۔ یہ ہنر ان کی برادری اور خاندان کے لیے بڑے قیمتی ہیں۔ |
Detention Facility in Parwan Province, Afghanistan
تصویریں
Podcasts
There are no podcasts available at this time.








