صفحہ اول | خبریں | خبریں | افغانوں کے درمیان افغان نیشنل پولیس پر اعتماد میں اضافہ
افغانوں کے درمیان افغان نیشنل پولیس پر اعتماد میں اضافہ
منجانب Eric Lcckwood, Navy Visual News Services

افغانستان (13 فروری، 2012) - افغان نیشنل پولیس، اے این پی، افغانستان میں درپیش ہزاروں خطرات کے خلاف لڑنے اور دفاع کرنے میں  ایک ہراول دستہ ہیں۔ ان خطرات میں سے تین - طالبان کا دوبارہ ابھرنا، مختلف جرائم، اورکرپشن، سے نمٹنا ہے۔  تاہم، ان کے اثر میں شدید کمی ہوتی ہے اگرعوام کے درمیان ان کی صلاحیت میں اعتماد کا فقدان پایا جاتا ہو۔

ملک کے بچوں جو ملک کا مستقبل ہیں، ان کی خوش قسمتی ہے کہ عوام کا پولیس پر اعتماد  بڑھ گیا ہے وہ پولیس پر اعتبار کرنے لگے ہیں. اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام، یو-این-ڈی-پی، کے زیر انتظام افغان مرکز براۓ سماجی معاشرتی رائے کی تحقیق، ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جس کی بنیاد 2003 میں رکھی گئی تھی۔ انہوں نے ایک سروے کیا جس کے مطابق، ، افغانستان کے 74 فیصد افراد نے اے- این- پی کی صلاحیتوں میں اعتماد کا اظہار کیا۔  اس میں  سال 2010 کے مقابلے تین پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔

اتنی ہی تعداد میں افغانوں نے پولیس کے بارے میں بھی مثبت راۓ کا اظہار کیا ہے، یہ تعداد تنظیم کے بارے میں پچھلے سال کے سروے کے مقابلے تقریباً اپنی جگہ پر برقرار رہی ہے۔

یہ تعداد شاید اتنی زیادہ موثر نہ ہوتی اگر لوگوں کی پولیس اہلکاروں کے خدمت کے بارے میں عام طور پر مثبت رائے نہ ہوتی۔ اگر پولیس نے عوام کے مفاد میں کام نہ کیا ہوتا تو اس بات کے امکانات ہوتے کہ ادارے میں خود کے درمیان وقار بہت کم ہوتا یا بالکل ہی نہ ہوتا۔

پولیس سروس اس خدمت کو فراہم کرنے والوں کو ایک اعلی' درجے کا وقار پیش کرتا ہے۔  بے شک، تین چوتھائی افغانستان مکمل طور پر، پولیس کو ایک بہت باوقار پیشہ سجھتا ہے۔ یہ ایک بڑی تعداد ہے جو کہ دوسرے اعداد و شمار کی طرح، 2010 کے مقابلے چھ پوائنٹس بڑھ گئی ہے۔

وہ افغان جو پولیس کا احترام کرتے ہیں ان کی تعداد، اصل میں، اس سے بھی زیادہ ہے۔ 81 فیصد، یانی ہر پانچ افغانوں میں سے چار کا کہنا ہے کہ وہ پولیس کا مجموعی طور پر احترام کرتے ہیں۔ یہ  گزشتہ سال سے 8 پوائنٹس زیادہ ہیں۔

یہ مثبت رجحان جاری رکھتے ہوۓ، عوام تک  پولیس کی رسائی بھی بڑھ گئی ہے۔ 2009 میں آبادی کے40 فیصد سے کچھ زیادہ لوگوں کے لیۓ اپنے گھر سے 30 منٹ کی دوری پر ایک پولیس چوکی موجود تھی۔ 2012 میں، اس اعداد و شمار میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

تاہم، ان تمام اچھی خبروں کے اعداد و شمار، قومی سطح پر ہیں۔ اس کو علاقوں کی سطح پر دیکھا جائے تو تصویر تھوڑی سی مختلف ہو جاتی ہے  لیکن پھر بھی، مجموعی طور پر، حوصلہ افزائی کے لیے اتنی ہی کافی ہے۔

مجموعی طور پر مغرب میںاس احترام میں کمی آئی ہے۔ مشرق اور وسطی جنوبی علاقوں میں یہ برقرار رہی ہے۔ لیکن باقی پورے ملک میں - جنوب مغرب، وسطی افغانستان / ہزارجات، وسطی کابل میں – اے-این-پی کے لئے احترام میں اضافہ ہوا ہے۔

یقینی طور پر اس اعتماد میں اضافہ کی وجہ  پولیس کا مقامی افغان کمیونٹی میں شامل ہونے سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ  یہ مقامی نگران گروپ بڑے پیمانے پر قائم نہیں ہوۓ ہیں (پانچ افغانوں میں ایک سے بھی کم کا کہنا ہے کہ ان کی کمیونٹیز میں یہ گروپ موجود ہیں)، لیکن جہاں وہ موجود ہیں وہاں ان کو کامیابی ملی ہے۔ 61 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں، تاہم 28 فیصد کوئی فرق محسوس نہیں کرتے، اور نو فیصد کو سیکورٹی میں کمی محسوس ہوتی ہے۔

.پورے ملک کے لحاظ سے دیکھا جائے تو تقریباً نصف یہ سمجھتے ہیں کہ ان گروپوں سے ان کے علاقے میں سیکورٹی بہتر بنانے کے لیے مدد ملے گی اور ان میں سے 80 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ اس طرح کے گروہ کا حصہ بننے کے لئے تیار ہیں۔ جہاں تک باقی لوگوں کا تعلق ہے، صرف آٹھ فیصد – پہلے سے دس پوائنٹس کم – سمجھتے ہیں کہ سیکورٹی پہلے سے بدتر ہوئی ہے۔

مجموعی طور پر، افغانستان کی سلامتی کا تاثر ایک بہت مثبت اور حوصلہ افزا انداز میں بڑھ رہا ہے۔ پولیس ان لوگوں کا اعتماد حاصل کر رہی ہے جن کی انھیں حفاظت کرنی ہے۔

نیٹو ٹریننگ مشن افغانستان میں 37 ملکوں کے فوجیوں کی شراکت سے ایک اتحاد ہے جو افغانستان کی اسلامی جمہوریتی حکومت کی مدد کے لیۓ ایک قابل اور پائیدار افغان قومی سلامتی فورس پیدا کر رہا ہے جو کہ 2014 تک اپنے ملک کی سلامتی کی قیادت سنبھالنے کے لئے تیار ہوں گے۔  اے- این- ٹی- ایم کے بارے میں مزید معلومات کے لیے www.ntm-a.com پر جائیں۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 25 times

فیس بُک پر دوست
33,184+