صفحہ اول | CJIATF435 | سی این او اور مپکون کی ملاحوں سے ملاقات

 Combined Joint Interagency Task Force-435 

سی این او اور مپکون کی ملاحوں سے ملاقات
منجانب MCC (SW) Maria Yager, Combined Joint Interagency Task Force 435
 AfghanistanbasedSailors
بحری سرگرمیوں کے سربراہ ایڈمرل گیری اوہیڈ اور بحریہ کے نائب سربراہ اعلی رک ویسٹ مشترکہ بین الایجنسی ٹاسک فورس 435 کے جوانوں سے 21 جنوری کو پروان میں قید خانے کے دورے کے دوران ملے۔

افغانستان، صوبہ پروان (23 جنوری2011 ) 21 جنوری کو پروان کے مقام پر قید خانے میں  بحری کاروائیوں کے سربراہ اور بحریہ کے نا ئب سربراہ اعلی وہاں تعینات کام کرنے والے 300 بحری فوجیوں سے ملے۔

سی این او ایڈمرل گیری رو ہیڈ نے کہا کہ آپ کا کام بہت حد تک آپ کے ماہر رويے اور لوگوں سے برتاؤ پر منحصر ہے اور میں اس کیلیے آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔

ایڈمرل نے کہا کہ یہ سب کچھ افعانستان میں ہمارے مقصد کیلئے بہت ہی اہم  ہے۔ میں یہ اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ یہ آپ کا کام نہیں ہے لیکن جیسے آپ اسے انجام دے رہے ہیں یہی ہماری جیت یا ہار کا تعین کرتا ہے۔

ڈی ایف آئی پی ایک شاہکار تفریحی قیدخانہ ہے جو کہ بگرام ہوائی اڈے کے قریب واقع ہے۔ ڈی ایف آئی پی اپنی بناوٹ کی وجہ سے جنگی قیدیوں کیلئے ایک محفوظ ،انسان دوست اوربہترین قید خانہ ہے اور یہ ان قیدیوں کیلئے موقع فراہم کرتا ہے جو گروہی سرگرمیوں، تعلیمی اور تربیتی پروگراموں میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔

سی این او اور مکپون رک ڈی ویسٹ نے کہا کہ وہ عراق، گوآنتاناموبے اور افغانستان میں کام کرنے والے فوجیوں سے ملنے اورکاروائیوں میں ان کی کوششوں کا شکریہ ادا کرنے کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ یہ کاروائیاں بعض اوقات نہ صرف قائدین کی گہری نگاہوں بلکہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا کے سامنے ادا کی جاتی ہیں۔

سی این او،مکپون، نائب ایڈمرل ڈرک ڈببنک، پس انداز بحریہ کے سربراہ اور سربراہ اعلی، نائب سربراہ اعلی رونی رائٹ، مشترکہ بین الایجنسی ٹاسک فورس-435 کے قائدین سے ڈی ایف آئی پی کے مقام پر جاری کاروائیوں کے حوالے سے بریفنگ پر ملے۔

مشترکہ بین الایجنسی ٹاسک فورس-435  کی کمان نائب ایڈمرل روبٹ ایس ہارورڈ کر رہے ہیں اور پورے افعانستان کے قید خانوں میں ہونے والی سرگرمیوں کے بھی ذمہ دار ہیں۔ اس کے علاوہ وہ باغی گروپوں کو شکست دینے کی مجموعی حکمت عملی اور افعان حکومت کی اپنے لوگوں کو تحفظ دینے کی صلاحیت میں اضافے کیلئے بھی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ امریکی بحریہ کے سہ شاخی ٹاسک گروپ، جس کی کمان کمانڈر جون بون بے مک گن کر رہے ہیں، 300بحری فوجیوں پر مشتمل ہے جو مشترکہ بین الایجنسی ٹاسک فورس-435 مشن کی براہ راست معاونت کر رہے ہیں اور ڈی ایف آئی پی پر موجودہ امریکی محافظ فوج کے 1300اراکین میں اضافہ ہیں۔

رو ہیڈ نے کہا کہ میرے خیال میں آپ یہاں جو کررہے ہیں وہ اہم ہے۔ اس کا اپنا ایک اثر ہے، لیکن یہ آپ کو تجربات بھی دے رہا ہے جو میرے خیال میں آپ کو ایک بہتر قائد بنائیں گے اور اس کے بعد آپ جس یونٹ میں بھی جائیں گے اس کا ایک مفید رکن ہوں گے۔

قید خانے کے دورے کے بعد سی این او اور مکپون نے فوجیوں سے ہاتھ ملایا اور بیڑے کے متعلق تازہ ترین خبروں، کارکردگی بہتر بنانے کے حوالے سے نئی حکمت عملی، ہم جنس پرستوں کے خلاف بل کے خاتمے، اور مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا میں بحریہ کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔

تیسرے درجے کے نائب افسر جیمزرائڈ جو کہ امریکی بنکریل (52- سی جی ) سے افغانستان میں تعینات کیے گئے ہیں اور ڈی ایف آئی پی پر کام کر رہے ہیں نے کہا کہ سی این اور مکپون کا یہاں آنا بہت اچھا ہے اور ہمارے لیے بہت اہم ہے کہ ہمیں بھلایا نہیں گیا، مجھے یہاں ہونے پر خوشی ہوئی ہے اور میں ایک مشترکہ ماحول میں کام کرنا پسند کرتا ہوں۔

مکپون نے کہا کہ یہ بحریہ کے قائدین کے لیے اہم ہے کہ وہ میدان جنگ میں باہر آئیں اور فوجیوں کی خدمات پر بذات خود ان کا شکریہ ادا کریں۔

ویسٹ نے کہا کہ اب اور اس وقت ہمارے بحری فوجی ہماری بحریہ کی پوری تاریخ میں سب سے بہتر ہیں آپ ایک غیرمعمولی کام انجام دے رہے ہیں اور آپ کو اس کا علم ہونا چاہیے۔

دورے کے دوران سی این او اور مکپون نے ڈی ایف آئی پی کے عملے کے لیے ایک ورزش گاہ کا افتتاح کیا اس کا نام تیسرے درجے کے نائب افسر ارون لی رائٹ ، ایک سہ شاخ ٹاسک گروپ فوجی کے نام پر رکھا گیا ہے جو کہ چوکیاں نصب کرنے والی ایک خودکار گاڑی کے حاد‎‌ثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی جے آئی اے ٹی ایف – 435 میں فوج بحریہ، میرین، کورپس اور فضایہ کے حاضر ملازمت اراکین اور عام شہری اور اتحادی اراکین شامل ہیں۔

سی جے آئی اے ٹی ایف – 435 قیدیوں کو محفوظ، انسان دوست اور امریکی قانون، محکمہ دفاع کی پالیسیوں ، یو پی یونین کے رہنما اصول و ضوابط اور جنیوا کنونشن کی عمومی دفعہ کے مطابق ماحول دینے پر کار بند ہے۔

ڈی ایف آئی پی کی کمان امریکی فوج کے برگیڈیئر جنرل 46 ویں فوجی پولیس کمان، مشی گن فوجی محافظ، ٹاسک پیس کیپر منڈی اے مرے کر رہے ہیں۔ پیس کیپر کے مقاصد ہیں ڈی ایف آئی پی میں جاری سرگرمیوں کی نگرانی، قیدیوں کو رکھنے کے حوالے سے افغان فوج کی تربیت اور جن میں پروان میں قید خانے کی تعمیر کی نگرانی، امریکی اور افغان افواج کو سازو سامان کی دیکھ بھال شامل ہیں۔

ٹی ایف پیس کیپر کے تحت 402ویں ایم پی بی این( آئی آر)، امریکی بحریہ کا سہ شاخہ ٹاسک گروپ، 96 واں ایم پی بی این (آئی آر) اور تبی ٹاسک فورس یونٹ کام کر رہے ہیں نبراسکا آرمی نیشنل گارڈ کا 402واں یونٹ ڈی ایف آئی آر میں جاری تمام سرگرمیوں، قیدیوں کی دیکھ بھال اور انکو قابو میں رکھنے کے لیے ذمہ دار ہے۔ امریکی پس انداز فوج کا 96واں ایم پی بی این(آئی آر) یونٹ انغان فوج کو قید خانوں کی سرگرمیوں میں تربیت دینے کا ذمہ دار ہے۔ تبی ٹاسک فورس مختلف اداروں کے افراد یعنی فوج، بحریہ اور فضایہ کے افراد، دوران ملازمت افراد، پس انداز فوج اور فوجی محافظوں پر مشتمل ہے اور یہ قیدیوں اور امریکی ملازمین دونوں کی دیکھ بھال کی ذمہ دار ہے۔

 
ویڈیو، بصری / آڈیو، سمعی / تصویریں

تصویریں

Podcasts

There are no podcasts available at this time.

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
33,163+