| کلنٹن، پنیٹا: نیٹو کے شراکت دار افغانستان سے وابسطہ |
منجانب Karen Parrish, American Forces Press Service
وزیر دفاع لیون ای۔ پنیٹا 18 اپریل، 2012 کو برسلز میں نیٹو صدر دفتر میں سیکریٹری آف سٹیس ہلری راڈم کلنٹن کے ساتھ گفتگو کرتے ہوۓ۔ (ڈی او ڈی فوٹو منجانب ایرن اے۔ کرک-کیومو)
برسلز، (18 اپریل، 2012) – سیکریٹری آف سٹیس ہلری راڈم کلنٹن اور وزیر دفاع لیون ای۔ پنیٹا نے آج نیٹو کے صدر دفتر میں کہا کہ آج کے اجلاس نے نیٹو کی 2014 اور اس سے بھی بعد تک افغانستان میں جاری سیکیوریٹی کے مشن کو ایک واضع شعور دیا ہے۔ دونوں رہنما اتحادیوں کے دفاع اور وزراء خارجہ کے ایک اجتماع میں شرکت کر رہے ہیں۔ کلنٹن کل مزید ملاقاتوں کے لیے رکیں گی، پنیٹا آج ملاقاتوں جو دفاع پر مرکوز تھیں کے خاتمے کے بعد واپس ریاست ہائے متحدہ امریکہ لوٹیں گے۔ "ہمارے آج کے اجلاسوں کا سلسلہ بہت اچھا رہا،" پنیٹا نے کلنٹن کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا۔ "ہماری زیادہ تر بحث افغانستان میں ہماری مشترکہ کوششوں پر مرکوز تھی۔ ان ملاقاتوں سے جو حاصل ہوا وہ جنرل [جان آر] ایلن، انٹرنیشنل سیکورٹی اسسٹنس فورس کے کمانڈر کی طرف سے شروع کی گئی ایک مضبوط منصوبہ بندی اور حکمت عملی سے جڑے رہنے کا عزم تھا۔" "اتحادیوں اور پارٹنرز کا ایک بہت واضح نقطہ نظر اور ایک بہت ہی واضح پیغام ہے: ہماری حکمت عملی ٹھیک ہے، ہماری حکمت عملی کام کر رہی ہے اور اگر ہم اس سے جڑے رہیں، ہم اس افغانستان کے قیام کا مقصد حاصل کر سکتے ہیں جو خود کو محفوظ اور خود حکومت کر سکتے ہیں، اور دوبارہ کبھی بھی دہشت گردوں کے لیئے ایک محفوظ پناہ گاہ نہیں بنے گا، پنیٹا نے کہا۔" نیٹو اس مقصد کے لیئے مصروف عمل ہے، انہوں نے کہا، اور اتحادیوں کا عزم افغانستان میں جنگ کے چیلنجوں کا سامنا کر سکتا ہے۔ "ہم نے گزشتہ ہفتے کے دوران ان چیلنجز میں سے کچھ کا سامنا کیا ... نقصان ہو گا، وہاں جانی نقصان ہو گا، وہاں اس قسم کے واقعات ہوں گے جو ہم نے گزشتہ چند دنوں میں دیکھے،" انہوں نے 15 اپریل کو افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ارد گرد مربوط حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔ پنیٹا نے کہا کہ افغان فورسز کا کابل میں حملوں کا جواب اس بات کا ثبوت ہے کہ انھوں نے وہ کچھ سیکھا ہے جس کی نیٹو فورسز نے انہیں تربیت دی ہے۔ "انھوں نے فوری جواب دیا، پیشہ ورانہ اور بڑی جرات کے ساتھ، ان لوگوں کے بڑی حد تک علامتی حملوں کو غیر مؤثر بناتے ہوۓ،" انھوں نے مزید کہا۔ پنیٹا نے اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوۓ کہا کہ ایلن نے کہا کہ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے بغاوت کو بالآخر غیر ملکی افواج نہیں بلکہ مقامی سیکورٹی فورسز ہراتی ہیں۔ افغان افواج زمین، ثقافت اور "محلوں،" کو جانتے ہیں، انہوں نے کہا۔ "جب افغانی جیتتے ہیں، ہم جیتتے ہیں،" انہوں نے کہا۔ کلنٹن نے کہا کہ "ریاست ہائے متحدہ امریکہ اپنے نیٹو اور آئی ایس اے ایف کے شراکت داروں کی یکجہتی اور ثابت قدمی کے لیۓ شکر گزار ہے۔" امریکی اور نیٹو حکام نے نوٹ کیا کہ یہ اجتماع شکاگو میں اگلے مہینے کے لیئے نیٹو کے سربراہی اجلاس کی حتمی تیاری کا سیشن ہے۔ نیٹو کے اجلاس باقاعدگی سے شیڈول کے اجلاسوں میں نہیں ہیں، لیکن جب اتحاد کو اہم مسائل کا سامنا ہوتا ہے تو پھر ان کو حل کرنے کے لیئے اس کا انعقاد ہوتا ہے۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل اندریس فوغ راسموسین نے آج کہا کہ شکاگو کے سربراہی اجلاس کے لیئے ایک مرکزی آئٹم نیٹو افغان فورسز کی مدد کا تعین کرنے کے بعد 2014 کے آخر تک ان کی اپنے ملک کے لیئے سیکورٹی کی ذمہ داری سنبھالنا ہو گی۔ اس حتمی تاریخ پر لسبن، پرتگال، میں 2010 میں آخری نیٹو کے سربراہی اجلاس میں اتفاق راۓ کیا گیا تھا۔ راسموسین نے کہا کہ شکاگو کے سربراہی اجلاس دیگر اہم مسئلہ نیٹو کے مستقبل کی صلاحیتوں کی تشکیل شامل ہے۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















