| سول امور کی ٹیم نے افغانوں کی مدد کرنے کے لیے نئے طریقے سیکھے |
منجانب Staff Sgt. Felix Fimbres, U.S. Army Civil Affairs and Psychological Operations Command (Airborne)
سارجنٹ کیلی انگریٹ کیلیفورنیا سٹیٹ یونیورسٹی فریزنو میں 25 جنوری، 2012 کو افغانستان قبل از تعیناتی ٹریننگ (اپنانے) کے دوران خوراک کی فصلوں کی شناخت کر رہے ہیں۔ ویں سول امور بٹالین اور تھرڈ سول امور گروپ کے میرینز 401 انگریٹ اور ان کے ساتھی فوجیوں کو افغانستان میں تعیناتی سے پہلے وہاں زراعت کو بہتر بنانے میں مدد دینے کے طریقے سیکھ رہے ہیں۔ (فوٹو منجانب سٹاف سارجنٹ فیلکس فمبریس)
فریزنو، کیلیفورنیا (10 فروری، 2012) – افغانستان میں، زراعت ثقافت کا حصہ ہے۔ امریکی محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے) اور امریکہ کی اعلٰی ترین زرعی یونیورسٹیوں میں سے کچھ لوگوں کی مدد کے ساتھ401ویں سول امور بٹالین، روچیسٹر، نیویارک سے فوج کے ریزرو یونٹ کے فوجی ثقافتی ماہرین کے طور پر اپنے کردار کو مستحکم کرنے کی امید کر رہے ہیں. بفلو، نیویارک سے سول امور کے ٹیم لیڈر ، کیپٹن نیتھن نیو مین نے کہا کہ سول امور کے لوگ وہاں ان کی مدد کرنے ، ان کے ساتھ کام کرنے کے لیۓ موجود ہیں اور انہیں ان وسائل کو استعمال کرنے کے لیے تیار کریں جن تک ان کی پہنچ محدود تھی۔ نیو مین نے کہا کہ وہ پر امید ہیں کہ جب وہ موسم گرما میں صوبہ ہلمند تعینات ہوں گے تو یہ تربیت ان کی ٹیم کو وہاں افغان آبادی کو حقیقی مدد فراہم کرنے میں مدد کرے گی۔ یو-ایس-ڈی-اے کے نازک مارکیٹی معیشتوں کے ڈویژن سے تعالق رکھنے والے ریان بروسٹر نے کہا کہ ایک سال قبل افغانستان سے واپس آنے والے میرینز نے یو-ایس-ڈی-اے سے افغانستان میں زراعت میں کام کرنے والے لوگوں کے لیے معیاری تربیت کی درخواست کی تھی۔ اس وقت یو-ایس-ڈی-اے نے اے- ڈی-اے-پی-ٹی تیار کیا، یا افغانستان قبل از تعیناتی کی زرعی تربیت۔ اس قوم میں جہاں 90-85 فیصد باشندے کسان ہیں یہناں یو-ایس-ڈی-اے ایک متحدہ زرعی حل کی ترقی کی امید کرتی ہے، سول امور ٹیمیں بہت سے افغانوں کی معیشت اور ان کی معیار زندگی بہتر بنانے میں مدد اور اس کے ساتھ ساتھ افغان حکومت میں اعتماد پیدا کر سکتی ہیں کیلیفورنیا سٹیٹ یونیورسٹی فریزنو، میں بہترین درجے کی تربیت ہوتی ہے اور وہاں کے تعلیم دینے والے پروفیسرز وہ ہیں جو نہ تو صرف اپنے مضمون میں ماہر ہیں بلکہ انھیں افغانستان اور بہت سے دیگر ممالک میں کام کرنے کا عملی تجربہ بھی ہے۔ کورس کی اعادے نے 401 اور کیمپ پینڈلٹن سے تعلق رکھنے والے سیکینڈ مرینز سول افیئرز گروپ کے مرینز کو افغانوں کے طریقہ کاشتکاری کو بہتر بنانے کے بارے میں جاننے کے لیۓ اکٹھا کیا۔ کاشتکاری کے اساتذہ افغان طریقوں سے واقف ہیں کیونکہ انھوں نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس کا تجربہ کیا ہے، اور یو- ایس- ڈی- اے حکام کے مطابق اس درس کی کامیابی میں یہ ایک اہم عنصر کردار ادا کر رہا ہے۔ ماضی میں استعمال کیۓ گۓ حل زیادہ عرصہ نہ چل سکے کیونکہ وہ برقرار نہیں رہ سکے تھے۔ کیلیفورنیا پولی ٹیکنیک میں ایک پروفیسر، ہانی خلیل جن کو افغانستان میں تجربہ ہے، انہوں نے واضح کیا ہے کہ آب پاشی کے لئے پانی کے پمپ کا استعمال کرنا اوپر سے ایک آسان اور سادہ مغربی حل لگتا ہے لیکن حقیقت بہت مختلف ہے۔ خلیل، جن کو افغانستان میں وسیع تجربہ ہے، نے کہا کہ ان کے پاس فالتو پرزے نہیں ہیں اور جب وہ ٹوٹ جاتے ہیں تو وہ انہیں درست نہیں کر سکتے اور پھر ہمارے سارے خریدے ہوئے سامان کو پڑے پڑے زنگ لگنا شروع ہو جاتا ہے اور کوئی بھی ان کو استعمال نہیں کرتا کیونکہ یہ ایک پائیدار حل نہیں تھا۔ خلیل اور ان کے ساتھی مل کر افغانوں کے لیۓ ہر علاقے کی ضروریات کے مطابق پائیدار حل تلاش کرنے کے لیۓ کام کر رہے ہیں۔ خلیل نے زور دیا کہ ان مسائل کے حل افغان حل ہونے چاہیں وہ امریکی حل نہیں ہو سکتےاور ایسا کرنا ایک مشکل کام ہے کیونکہ یہاں ہم جانتے ہیں کہ کیا کرنا ہے اور یہاں بیٹھ کر تجویز کرنا آسان ہے کہ وہاں زمین پر یہ سب کچھ کام کرے گا۔ درست طریقے سے طویل مدت تک قائم رہنے والے حل نکالنے کے لیۓ بہت وقت درکار ہے۔ وہاں کا تجربہ رکھنے والے ماہرین کے پینل کے ساتھ ہر علاقے پر الگ الگ تحقیق کے ذریعے، افغان کسانوں کے لئے پائیدار حل کی نشاندہی کا کام آسان ہو جاتا ہے۔ خلیل نے کہا کہ کبھی سولر ڈرائیر آلات کا استعمال کرتے ہوئے یا کبھی مختلف اقسام کی سبزیوں یا فصلوں کو متعارف کراتے ہیں۔ اساتذہ ان حل کو "آسان جیت" کہتے ہیں کیونکہ وہ سول معاملات کی ٹیموں کو اچھی ساکھ بنانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ اے-ڈی-اے-پی-ٹی کے پروگرام مینیجر پال سمرز افغانستان سمیت 55 ممالک میں 35 سال کا تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اس سے پہلے کہ وہ تبدیلی کی امید بھی کرنا شروع کریں ان کی سول معاملات کی ٹیموں کو افغانوں کا اعتماد حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ سمرز نے کہا کہ پوری دنیا میں کسانوں کو تازہ ترین کمپیوٹر کے معاملات کا شائد علم نہ ہو لیکن وہ اپنی زمین کو جانتے ہیں اور وہ فوراً بتا سکتے ہیں کہ آپ جس بارے میں بات کر رہے ہیں وہ اس موضوع سے واقف ہیں یا نہیں۔ اساتذا نے طالب علموں کو ایک چین لنک باڑ کے اوپر بھاری چین کا استعمال کرتے ہوئے سادہ طریقے سے مٹی کھودنے کا طریقہ دیکھایا جس سے پودے اگنے اور زیادہ فصل حاصل کرنے کے امکانات میں بہت بڑی حد تک اضافہ ہوسکتا۔ سمرز نے کہا کہ افغان کسان دنیا کے غریب ترین کسانوں میں سے ایک ہیں اور وہ مشکل ترین کاشتکاری کے ماحول میں ہیں۔ تھوڑی سی تبدیلی اور ثابقہ طریقہ کار میں ردو بدل سے افغانوں کے لئے بڑے نتائج حاصل کیۓ جا سکتے ہیں۔ جو بھی حل ہو، تربیت اس بات پر زور دیتی ہے کہ سول امور کی ٹیموں کا اپنے پروفیسروں کے سطح پر زرعی ماہر ہونا ضروری نہیں ہے۔ پہلے سے ہی دستیاب وسائل کے وسیع پہلوؤں کا ایک سادہ سا تعارف بھی بہت دور تک ساتھ دے گا۔ ایک تربیتی پروگرام، جو کہ افغان کاشت پر مرکوز ہے، کی میزبانی کے لئے کیلیفورنیا کا انتخاب شائد عجیب لگتا ہے لیکن امریکہ میں پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار میں یہ کیلیفورنیا نمبر ایک ریاست ہے ۔ خلیل نے وضاحت کی کہ فریزنو کا علاقہ صوبہ ہلمند کے علاقے جیسا اور سان لوئس اوبسپو میں کیل پولی، افغانستان کے زیادہ تر مشرقی پہاڑی علاقوں سے ملتا جلتا ہے ۔ خلیل نے کہا کہ ملک بھر میں بہت سے ایسے پروگرام ہیں جو ہماری طرح کے کام کر رہے ہیں لیکن کیلیفورنیا واقعی میں افغانستان سے ملتی جلتی ہے، مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اس بات کا بہت بڑا فائدہ ہے کہ ہم انہیں عملی طور پر مخصوص اجزاء دکھا سکتے ہیں۔ اگرچہ لیکچر کے بہت سے اجزاء ملتے جلتے ہو سکتے ہیں لیکن باہر جا کر میدان میں افغانستان کی طرح حالات کا تجربہ کرنے کے قابل ہونے کے ناطے، میں محسوس کرتا ہوں کہ ہمیں اس قسم کی تربیت میں زیادہ ترقی فراہم کرسکتی ہے۔ کیپٹن نیو مین کے مطابق، عملی تجربے کے ساتھ دی گئی تربیت کو 401ویں سول معاملات کی ٹیموں کی طرف سے بہت سراہا گیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ فوج میں اور عام طور پر زیادہ تر امریکیوں کو، زراعت کا تجربہ نہیں ہے، میں جانتا ہوں کہ مجھےتو نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عملی تجربے کے ساتھ دی گئی تربیت نے واقعی ہمیں بہتر بنا دیا ہے. میرے خیال میں سیکھنے کے لیۓ یہ ایک بہت اچھا کورس، ہمیں مخصوص مسائل کی نشاندہی کرنے میں مدد کرتا ہے ان کے وسائل کو اپناتے ہوۓ ان پر قابو پانے کے لیۓ میں مدد کرتا ہے تاکہ وہ ایک سے زیادہ متحرک معیشت حاصل کر سکیں۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















