صفحہ اول | خبریں | خبریں | امریکی مرکزی کمان نئے کمانڈر کو خوش آمدید کہتی ہے
امریکی مرکزی کمان نئے کمانڈر کو خوش آمدید کہتی ہے
منجانب Sgt. Fredrick Coleman, CENTCOM Public Affairs
130322-F-MA978-170
مک ڈل ائیر فورس بیس، فلوریڈا – آرمی جنرل لوئڈ جے۔ آسٹن، III، امریکی مرکزی کمان کے کمانڈر، 22 مارچ کو امریکی مرکزی کمان میں قیادت کی تبدیلی کی ایک تقریب، جس کی صدارت وزیر دفاع چک ہیگل نے کی، کے دوران، کمانڈ کا جھنڈا کمانڈ سارجنٹ میجر فرینک گرائیپ، ان کے سینئر بھرتی شدہ لیڈر، کو دیتے ہوۓ۔ جھنڈے کو دینے سے جنرل آسٹن کا امریکی مرکزی کمان کے کمانڈر کے طور پر دورہ شروع ہوتا ہے۔ جنرل آسٹن مک ڈل ائیر فورس بیس پر امریکی فوج کے وائس چیف آف سٹاف کی حیثیت سے دورے کے بعد آۓ ہیں۔ (امریکی ائیر فورس فوٹو منجانب سینئرائیر مین میلنی بولو-کیلی)

مکڈل ائیر فورس بیس، فلوریڈا (22مارچ، 2013) - وزیر دفاع سیکرٹری چک ہیگل، کی صدارت میں منعقد ایک تقریب میں جنرل لویڈ جے۔ آسٹن III نے جنرل جیمز این میٹس سے،22 مارچ کو امریکی مرکزی کمان کی کمانڈ سنبھال لی۔

سیکرٹری ہیگل نے اپنے بیانات کے دوران کہا "دس سال پہلے، دونوں، جیمز میٹس اور لایڈ آسٹن، عراقی صحرا کے دریاۓ فرات کے دونوں کناروں پر بغداد کے مہم میں اپنے فوجیوں کی مدد کے لیۓ قیادت سنبھال رہے تھے" ۔ آج جنگوں میں آزماۓ گۓ یہ رہنما ایک مرحلے کا اشتراک کرتے ہیں، ایک نمایاں کارکردگی کی کمانڈ ختم کرتے ہوۓ اور دوسرا ان کی جگہ لینے کے لئے تیار ہے۔"

شرکاء میں جنرل مارٹن ڈمپسی، جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین؛ جنرل جیمز ایف۔ آموس، مرین کور کے کمانڈنٹ؛ جنرل جان ایف کیلی، امریکہ کی جنوبی کمان کے کمانڈر؛ ایڈمرل ولیم ایچ۔ مک ریوون، امریکی سپیشل آپریشنز کمانڈ کے کمانڈر؛ کئی نیٹو حکام؛ امریکی مرکزی کمان سے اتحادی ممالک کے دفاع کے سربراہان؛ امریکہ میں متعین سفیر شامل تھے۔ اس کے علاوہ شرکاء میں بہت سے مقامی، سٹیٹ اور امریکی ایوان نمائندگان کے ارکان سمیت قومی نمائندے بھی شامل تھے۔ فلوریڈا کے ضلع 13 سے بل ینگ اور فلوریڈا ضلع 14 سے کیتھی کیسٹر اور ٹیمپا کے میئر، باب بک ہارن بھی موجود تھے۔

سیکرٹری ہیگل نے جنرل میٹس کی قیادت کا ذکر ان کے کیریئر میں سینٹکام اے-او-آر میں ادا کیۓ گۓ اہم کرداروں کا ذکر کیا، جس میں آپریشن ڈیزرٹ سٹارم کے دوران مرینز کی ایک بٹالین کی قیادت، اور 9/11 کے حملوں کے بعد سمندر سے جدید تاریخ میں سب سے طویل حملے کی کمانڈ کرتے ہوۓ افغانستان میں 58 ٹاسک فورس کی سربراہی کرتے ہوۓ 400 میل زمینی داخلہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ، عراق کے حملے کے دوران، جنرل میٹس فلوجہ کی جنگ کے دوران مرین کور کی تاریخ میں سب سے طویل زمینی حملے میں فرسٹ مرین ڈویژن کی قیادت کی۔

سیکرٹری ہیگل نے کہا کہ "جیمز میٹس ہر اس اہم جنگی آپریشن میں جسے اس قوم نے دو دہائیوں کے دوران منظم کیا گیا ہے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے ۔ انہوں نے اپنے ارد گرد کے سب لوگوں کا احترام حاصل کیا ہے اور ذیل کیونکہ وہ ان کے کام اور ان کے ساتھ خدمت بہت پسند تھا۔ ان سے اوپر اور نیچے فوجی درجے کے لوگوں ان کا احترام کرتے ہیں کیونکہ انھیں اپنے کام سے اور ساتھ خدمات انجام دینے والوں سے محبت تھی۔"

جنرل میٹس جو چالیس سال کی خدمت کے بعد اس سال کے آخر میں ریٹائر ہو جائیں گے، نے مرکزی کمان کے کمانڈر کی حیثیت سے اپنی کامیابی کا سہرا اس کے فوجی ارکان، شہریوں، اور اتحادی فوجوں کے سر رکھا۔

جنرل میٹس نے مرکزی کمان کے مردوں اور عورتوں بارے میں بات کرتے ہوۓ کہا کہ "امریکی اور غیر ملکی فوجیوں، ملاحوں، ایئرمین، اور کوسٹ گارڈز، مرینز اور شہری، جو یہاں ٹیمپا میں ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتے ہیں اور جنھوں نے اس خطے میں امن کی غرض سے ایک دوسرے کے ہمراہ خدمات سر انجام دیں ہیں، کے ساتھ کام کرنے پر فخر محسوس کرتا ہوں۔ میں اس کمانڈ کو اس سے زیادہ بہتر ہاتھوں میں نہیں چھوڑ سکتا تھا اور جنرل لوئڈ سے منتخب ہوتے ہوئے کہا "میں آپ کو زمین پر جنگ لڑنے کی بہترین ٹیم دیتا ہوں۔"

جنرل آسٹن امریکی فوج کے لئے وائس چیف آف اسٹاف کے طور پر اپنے دورے کے بعد میکڈل ائیر فورس بیس پر آۓ ہیں، اور جیسا کہ مختلف مقررین کا کہنا ہے، مرکزی کمان اے-او-آر یا مشن کے لیۓ اجنبی نہیں ہیں۔ جنرل آسٹن نے آپریشن عراقی اور اینڈیورنگ فریڈم کے دوران ستمبر 2010 سے دسمبر 2011 تک امریکی فوج-عراق کے کمانڈر کی حیثیت سے کام کرنے کے علاوہ؛ فروری 2008 سے اپریل 2009 تک کثیر-الاقومی-کور-عراق کے کمانڈر؛ اور ستمبر 2005 سے نومبر 2006 تک امریکی مرکزی کمان کے چیف آف سٹاف ہونا شامل ہیں۔ جنرل نے 2003 سے لے کر 2005 تک فورٹ ڈرم، نیو یارک میں 10 ویں ماؤنٹین ڈویژن کی کمان سنبھالی، اور 10ویں ماؤنٹین ڈویژن کے ساتھ او-ای-ایف کے دوران اپنی تعیناتی کے دوران کمبائنڈ جوائنٹ ٹاسک فورس 180 کے کمانڈر کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔

سیکرٹری ہیگل نے کمانڈ پوزیشن کے لئے ان کی تیاری نہ کو صرف ان کے تجربے، بلکہ ان کی قیادت سے بھی منسوب کیا۔

"ان کے پرسکون برتاؤ، اسٹریٹجک نقطہ نظر، علاقائی تجربہ اور علم اور ثابت شدہ قوت فیصلے کے ساتھ، اور شارلین اور ان کے بچوں کی محبت اور حمایت کے ساتھ، مجھے یقین ہے جنرل آسٹن اس ڈرامائی تبدیلی، چیلنج اور بحران کے وقت میں اس کمانڈ کی قیادت کے لئے تیار ہیں۔

کمانڈر کے طور پر مرکزی کمان کے اہلکاروں سے پہلی بار خطاب کرتے ہوۓ، جنرل آسٹن نے کمانڈ کی ایک وسیع مشن کی حمایت کرنے کی صلاحیت کی تعریف کی۔

"جب ہم نے 2003 مارچ کو عراق میں ابتدائی حملے کا آغاز کیا، ہماری فوج اور خاص طور پر اس ہیڈ کوارٹر میں پہلے سے ہی افغانستان میں ایک علیحدہ آپریشن کرانے کے درمیان میں تھا۔ تو عراق پر حملے کا مطلب یہ تھا کہ ہماری کمانڈ کو دو مہموں کو منظم کرنا تھا اور اس نے اسے اچھی طرح سے کیا ایک دہائی سے زائد کے عرصے تک۔ یہ اس کمانڈ میں لوگوں کے معیار کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے - فوج شہریوں، اور ٹھیکیداروں کے بارے میں۔"

جنرل آسٹن نے کہا کہ"اپنی قوم کی وردی کو پہننے کے قابل ہونا میری زندگی کا سب سے بڑا اعزاز ہے اور امریکہ کے بیٹوں اور بیٹیوں کے ساتھ مل کر قیادت کرنا اور خدمت کرنا" ۔ "مجھے اب اس عالمی معیار کی تنظیم کے کمانڈر کے طور پر خدمت کرنے کا موقع دیا جانا میرے لیۓ بہت فخر کی بات ہے۔"

 

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 18 times

فیس بُک پر دوست
33,132+