صفحہ اول | خبریں | خبریں | سینٹکام کا سیلر اپنے مشغلے کو ایک کتاب میں بدلتا ہے
سینٹکام کا سیلر اپنے مشغلے کو ایک کتاب میں بدلتا ہے
130204_zellem
قندھار، افغانستان - بحریہ کے کیپٹن ایڈورڈ زیلم قندھار افغانستان میں افغان قومی فوج کے 205ویں کور، کے ساتھ تصویر بنواتے ہوۓ۔ ان کے ساتھ کام کے دوران، زیلم نے دیکھا کہ اے-این-اے کے ارکان سروس کے ارکان کی تربیت اور تعلیم کے لئے باقاعدگی سے کہاوتوں کا استعمال کرتے ہیں۔ زیلم نے ان کہاوتوں کو جمع اور ان کا ترجمہ اپنی کتاب " ضرب المثلہا:151 افغان دری محاورے اور افغان کہاوتوں کی عکاسی" میں کیا۔ (کورٹسی فوٹو)

میکڈل فضائیہ بیس، فلوریڈا - "یہ کتاب دنیا میں کہیں اور موجود نہیں ہے۔اس کتاب کے تین چہرے ہیں: یہ افغانوں کو انگریزی سیکھنے میں مدد دیتی ہے، یہ انگریزی بولنے والوں کو دری سیکھنے میں مدد دیتی ہے، اور اس سے ہر کسی کو افغانستان کی ثقافت جاننے میں مدد ملتی ہے۔" یہ ان افغانوں کے کچھ بیانات ہیں جنہوں نے یہ کتاب پڑھی ہے جس کو امریکی مرکزی کمان کے ساتھ یہاں خدمات سر انجام دینے والے اور دری بولنے والے بحریہ افسر نے لکھا ہے۔

بحریہ کیپٹن ایڈورڈ زیلم، جو کہ "ضرب المثلہا: 151 افغان دری محاورے" ‎‎کے مصنف ہیں، نے 2011 میں اپنی کتاب کا پہلا ایڈیشن شائع کیا۔ انہوں اس اُمید پر ایسا کیا کہ اس کتاب کے ذریعے لوگوں کے درمیان ثقافتی مواصلات بہتر بنایا جا سکے گا۔

زیلم، جو انڈیانا، پنسلوینیا سے ہیں، نے کہا کہ"میری زندگی کی طویل مدتی مقاصد میں سے ایک پاریمیولوجسٹ [محاوروں کے سائنسی مطالعہ میں مصروف ماہرین تعلیم] کی عالمی فوج کا قیام ہے اور ہر زبان میں ایک محاوروں کی کتاب لکھنا ہے تاکہ بین الثقافتی مواصلات کو فروغ دیا جا سکے خاص طور پر ان متنازعہ علاقوں میں جہاں ثقافتوں کے درمیان بہتر مواصلات اہم ہے

زیلم، جو مرکزی کمان کے انٹیلی جنس مرکز کے وسائل اور شرائط ڈویژن کے ڈائریکٹر ہیں، نے 2009- 2011 کے دوران وہاں دری زبان میں محاورے جمع کیں اور ان کا ترجمہ کیا، دری افغانستان میں بولی جانے والی زبانوں میں سے ایک ہے۔ یہ کتاب ان کے اصل منصوبوں میں نہیں تھی کیونکہ کہاوتوں کو جمع کرنا اور ان کا ترجمہ کرنا صرف ایک ذاتی شوق تھا اور زیلم کے لیۓ زبان سیکھنے کا ایک طریقہ تھا۔ افغانستان میں ہوتے ہوۓ، انھوں نے دری محاورے اپنے پیشہ ورانہ زندگی میں ملک بھر سے ہر روز جمع اور استعمال کیں۔ وہ دری محاوروں کی رنگینی اور ثقافتی مطابقت سے بہت متاثر ہوۓ، اور انھیں جمع کرنا اور ان کا انگریزی میں ترجمہ کرنا شروع کر دیا۔

کتاب میں تصاویر کیپٹن زیلم کے لیۓ بہت ذاتی ہے۔ انہوں نے کتاب میں استعمال کی گئی 50 تصاویر منتخب کرنے سے پہلے کابل کے معارفت ہائی سکول میں آرٹ کے طالب علموں کی طرف سے 200 سے زائد مثالوں کا جائزہ لیا۔ ضرب المثلہا کا پہلا ایڈیشن: 151 افغان دری محاوروں پر مشتمل 176 صفحات اور 50 عکاسی کے صفحات مکمل رنگوں کے ساتھ اگست 2011 میں شائع کیا گیا تھا۔ دوسرا ایڈیشن مئی 2012 میں جاری کیا گیا تھا اور افغان محاوروں کے لیئے تصاویریں جمع کرنا اکتوبر 2012 میں جاری کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ"میں اُمید کرتا ہوں کہ ایک پیغام جو لوگ اس کتاب سے لیں وہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے لوگ ایک دوسرے سے اتنے مختلف نہیں ہیں جتنا لوگ سمجھتے ہیں" ۔ "زیادہ تر لوگ، اور خاص طور پر درمیانی درجے کے خاندان، ایک ہی بنیادی چیز چاہتے ہیں اور ایک ہی جیسے خیالات کے مالک ہوتے ہیں چاہے وہ جس بھی مذہب، ثقافت، یا قومیت سے ہوں۔"

ایک کامیاب مصنف ہونے کے علاوہ، زیلم ایک کامیاب افسربھی ہیں، 1987 میں ایک بحریہ انٹیلی جنس افسر کے طور پر انھوں نے فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ اپنے ذاتی تمغوں میں دفاعی سپیریئر سروس میڈل، تین دفاعی شاندار سروس تمغے، دو شاندار سروس تمغے، نیٹو کے شاندار سروس میڈل، تین نیوی تعریف تمغے، اور مشترکہ سروس اچیومنٹ میڈل شامل ہیں۔

زیلم نے فٹ بال اسکالر شپ پر یونیورسٹی آف ورجینیا میں شرکت کی، جہاں سے انھوں نے تمام اٹلانٹک کوسٹ کانفرنس تعلیمی ٹیم کا اعزاز حاصل کیا، خارجہ امور میں بیچلر ڈگری اور تین ماسٹر ڈگریاں حاصل کیں۔

 

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
33,148+