| سنٹ کام سی ایس ایم کا افغانستان میں افغان اور یو ایس سروس ممبران سے ملاقات |
منجانب Staff Sgt. Kristopher Levasseur, ISAF Headquarters شئیرمتعلقہ خبریں
کمانڈ سارجنٹ میجر تھامس کپیل (بائیں) انٹرنیشنل سیکیوریٹی اسسٹنس فورس کمانڈر سینئیر انلسٹڈ لیڈر، اور کمانڈ سارجنٹ میجر فرینک گرائیپ ، یو ایس سنٹرل کمانڈ سینئیر انلسٹڈ لیڈر، 11 اپریل کو سروس ممبران کے ساتھ بگرام ائیر فیلڈ جاتے ہوۓ کابل کے اوپر سے گزرتے ہوۓ گفتگو میں مشغول۔ (فوٹو منجانب سٹاف سارجنٹ کرسٹوفر لیواسر)
کابل، افغانستان (16 اپریل، 2012) - امریکی سینٹرل کمانڈ کے سب سے اعلی رہنما نے افغانستان کا، 14- 11 اپریل تک دورہ کیا، اور ذاتی طور پر مردوں اور عورتوں کا فرنٹ لائن پر خدمات سر انجام دینے پر شکریہ ادا کیا۔ اپنے چار روزہ دورے کے دوران، کمان سارجنٹ میجر فرینک گرائیپ، امریکی مرکزی کمان کے سینئر انلسٹڈ رہنما، ان کے ساتھ کمانڈ سارجنٹ انٹرنیشنل سیکورٹی اسسٹنس فورس کے سینئر انلسٹڈ رہنما، میجر تھامس کپیل، نے بگرام ائیر فیلڈ، قندھار ائیر فیلڈ، فارورڈ اپریٹنگ بیس معصوم غار اور کئی دوسری جگہوں سے، مستحق سروس کے ارکان کو سکے پیش کیے اور فوج کوآنے والے درپیش مسائل پر گفتگو کی۔ سارجنٹ. سٹیون مور، تھرڈ بریگیڈ، سیکینڈ انفنٹری ڈویژن کے گشت رہنما، نے اس دورے کے دوران گرائیپ سے ایک سکہ وصول کیا۔ مور کا کام، دوسرے بہت سے ایف او بی معصوم غار کے فوجیوں کی طرح، پورے خطے میں پیدل گشت سر انجام دینا، خود ساختہ دھماکہ خیز آلات کا پتہ لگانے کے لیۓ بھاری ڈیٹیکشن آلات کے ذریعے علاقہ چھاننا ہے۔ "یہ بہت اچھا ہے کہ ہماری قیادت یہاں آئی اور ہم سے بات چیت کی،" انھوں نے کہا۔ "کمانڈر سارجنٹ میجر گرائیپ نے اچھی طرح دیکھا کہ جو ہم یہاں کرتے ہیں اور اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا کہ ہم یہ کیسے کرتے ہیں۔" قندھار ائیر فیلڈ کے دورے کے دوران، گرائیپ کو میرینز، فوجیوں، ائیر مین اور سیلرز کے ذریعے چلنے والی کئی تنظیموں کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ "مجھے خوشی ہے کہ مجھے مرکزی کمان کے کمانڈ سارجنٹ میجر کے ساتھ ملنے کا موقع ملا،" سینئر ائیر مین تانیا شروڈر، 651ویں ایکسپڈیشنری ایرو میڈیکل ایویکیوایشن سکواڈرن کی طبی تکنیشین نے کہا جنہوں نے گرائیپ سے ایک سکہ موصول کیا۔ "یہ جان کر اچھا لگتا ہے کہ آپ کی قیادت اس بات کی معترف ہے جو ہم سب یہاں آکر کر رہے ہیں۔" شروڈر مشن کا ایک حصہ فوجی ڈاکٹروں کو لڑائی میں زخمی ہونے والے فوجیوں کو محفوظ طریقے سے جرمنی اور امریکہ میں زیادہ مستقل طبی سہولیات تک پہنچانے میں مدد دینا ہے۔ گرائیپ کے مطابق، دورے نے نہ صرف انھیں اعلی کارکردگی دکھانے والوں کو تسلیم کرنے کا موقع دیا، اس نے انھیں اتحادی افواج اور ان کے افغان پارٹنرز کے درمیان سرپرستی کا مشاہدہ کرنے اور ملک بھر میں سینئر انلسٹڈ رہنماؤں کے ساتھ افغانستان کی مہم کے مستقبل کے بارے میں بات چیت کی اجازت دی۔ "پارٹنرشپ یہاں ہماری اہم کوشش ہے، گرائیپ نے سینئر انلسٹڈ رہنماؤں کے ایک گروپ سے کہا۔ "یہاں بہت سے دشمن موجود ہیں، اور ہمیں دہشت گردی کے گروہوں پر دباؤ جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ اور یہ آپ اور آپ کے افغان سروس کے ارکان ہیں جنہوں نے اسے یہاں حقیقت بنانا ہے۔" گرائیپ نے مزید کہا کہ یہاں افغانستان میں سروس کے ارکان کو محفوظ بنانے اور مشن کو آگے بڑھانےکے لیئے سینئر نان کمیشنڈ افسروں کے کندھوں پر ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ "ملک میں سائز گھٹانے کا عمل شروع ہو گیا ہے، سینئر انلسٹڈ رہنماؤں کے ساتھ ایک ڈنر کے دوران گرائیپ نے کہا۔ "ہم ہر شاخ سے سروس کے اراکین کو واپس بلائیں گے اور افغانوں کو کامیابی کے لیئے تیار کریں گے، لیکن اس کے لیۓ آپ میں سے ہر ایک کی ضرورت پڑے گی۔ مشن کو پورا کرنے کے لیئے ہمارے نوجوان این سی او کی تربیت اور رہنمائی کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔"
گرائیپ اور کپیل دونوں نے اس کام جو امریکہ کے سروس اراکین اپنے افغانی شراکت داروں کے ساتھ سر انجام دے رہے ہیں اس پر فخر کا اظہار کیا۔ کپیل کے مطابق، امریکہ کے لوگوں کے یہ کام انمول ہے۔ '' لاکھوں امریکی عوام آج وہ کر رہے ہیں جو وہ کرنا چاہتے ہیں اور اپنی آزادی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور اس کی وجہ وہ ہے جو آپ آج یہاں کر رہے ہیں،" کپیل نے کہا۔ " پیچھے اپنی سر زمین پرہمارے خاندان ایک آزاد ملک میں رہ رہے ہیں کیونکہ آپ نے اپنے دائياں ہاتھ اٹھایا اور یہاں زمین پر موجود ہیں۔ ہم آپ کا شکریہ ادا نہیں کر سکتے۔" |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















