| مرکزی کمان کے سارجنٹ میجر نے "ایگر لائن 2011" مشق میں حصہ لیا |
منجانب MC2(AW) Jospeph M. Buliavac, NPASE West شئیرمتعلقہ خبریںعمان، اردن جون 29، 2011 ۔ امریکہ کے مرکزی کمان (سینٹکام) کمانڈ سارجنٹ میجر فرینگ گریپی نے حال میں سپاہیوں سے ملاقات کی جو اردن میں 11 سے 30 جون تک ہونے والی "ایگر لائن 2011" مشقوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
"ایگر لائن 2011" اردن اور امریکہ کے درمیان باہمی تعاون کے حوالے سے ایک دو طرفہ حکمت عملی والی مشق ہے جس کا نقطہ نگاہ بے قاعدہ جنگ، خاص آپریشن اور سرکشی کا دفاع کرتا ہے۔ گریپی نے کہا کہ میں موقع پر موجود ہوں تاکہ شرکت کرنے اور اس بات کا جائزہ لینے کے لئے سینٹکام کے کمانڈ جز کی نمائندگی کروں کہ اپنی اقوام کی امداد اور اس حوالہ سے ہمارے علاقائی اور دور رس کردار کے لئے اس مشق کو سالوں سے کس طرح پروان چڑھارہے ہیں اور یہ بھی کہ اس علاقے میں دیگر اتحادیوں کی شرکت بھی حاصل کی جائے تاکہ ہم کام کرنے کے مزید تعلقات اور دیگر اتحادی افواج کے مابین رابطے حاصل کرسکیں۔ یہ مشق شرکت کنندگان کو حالیہ سیکورٹی چیلنجوں کی خاطر عالمی سطح پر ہونے والے حادثاتی واقعات کی کاروائیوں میں مشترکہ اور باہمی ماحول میں تعیناتی میں مدد دینے کے لئے تیار کی گئی ہے۔ گریپی نے کہا کہ یہ مشق بہت زیادہ یکساں طور پر جاری ہے، اردنی بہت اچھے میزبان ہیں، اردن کی قوم علاقہ میں ہماری قریب ترین اتحادی ہے اور عالمی سطح پر ایک ساتھی اور اتحادی پارٹنر ہے۔ اردنی نے یہاں پیشہ وارانہ مہارت کو یقینی بنانے کے لئے اپنی صلاحیت سے بڑھ کر مظاہرہ کیا ہے۔ مشق کے دوران کمانڈ سارجنٹ میجر گریپی نے امریکہ اور اردنی مسلح افواج کی تمام برانچوں کی ہر ایک سطح کی کمانڈ کا دورہ کیا اور دونوں قوموں کی ملٹری برانچوں کی غیر کمیشن یافتہ افسران (این سی او) کی کارپس پر توجہ مرکوز رکھی۔ گریپی نے کہا کہ این سی او کارپس ایک فورس ہے جو کسی پیشہ ور مسلح فوجی خدمت میں اضافہ کرتے ہیں۔ یہ روازنہ کی بنیاد پر مسلح افواج کے پورے تناظر میں افسران کی براہ راست تکیمل اور امداد کرتے ہیں اور اس قوم کی بہت زیادہ حقیقی ذریعے پر دیکھ بھال کرتے ہیں اور یہ اسکے بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔ اردن میں رہنے کے دوران، گریپی خود کمانڈ کی سطح کے این سی اوز کے پاس گئے اور اس لائق تھے کہ وہ 20 اقوام کے سپاہیوں جن کی سینٹکام نگرانی کرتی ہے اور انکی مسلح افواج کے بارے میں اپنے نظریات کے بارے میں بات چیت کرسکیں۔ اردنی مزید پیشہ وارانہ مہارت حاصل کرنے میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں اور پہلے ہی این سی اوز کا نمایاں گروپ ہے۔ جب تک کہ آپ کے پاس ایک ماہر اور پیشہ وارانہ این سی او کارپس نہیں، کوئی بھی برَی فوج اپنی اہلیت اور صلاحیتوں میں کمی کا شکار رہے گی۔ مشق کے دوران جائزہ لینے اور شرکت کرنے کے دوران گریپی نے باقاعدگی سےعلاقے میں موجود امریکی مسلح افواج کی تمام چار برانچوں کے این سی اوز کے ساتھ ملاقات اور بات چیت کی تاکہ سمندر میں موجود ڈاک لینڈگ جہاز یو ایس ایس کومسٹاک ایل ایس ڈی 45 کا ایک خاص دورہ بھی شامل کیا جاسکے۔ گریپی نے کہا کہ امریکی این سی او کارپس گزشتہ 200 سالوں سے ایک ایسی فوج کی صورت اختیار کرچکی ہے کہ ہماری قوم کی فوج کی مانند پوری دنیا میں اور کوئی فوج نہیں۔ اگر یہ ہمارے این سی اوز کی مہارت کے لئے نہیں تھا اور دنیا میں موجود سب سے زیادہ ماہر اور پیشہ وارانہ آفیسر کارپس کی جانب سے نگرانی کئے جانے پر، ہماری قوم کو ایک ایسی فوج کی ضرورت ہوگی جو ممکنہ طور پر ہماری اس تعداد کا دس گنا زیادہ ہوگی جو اس وقت ہم دنیا بھر میں امن اور حفاظت کی امداد کے لئے رکھتے ہیں، ہمارے این سی اوز ہر ایک خدمت میں بہتر سے بہتر سرانجام دے رہے ہیں۔
|
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 
























