صفحہ اول | خبریں | خبریں | کیمپ ارینا کے فوجی نے کوچی گاؤں کے روشن مستقبل کے لیۓ راہ بناتے ہوۓ
کیمپ ارینا کے فوجی نے کوچی گاؤں کے روشن مستقبل کے لیۓ راہ بناتے ہوۓ
منجانب Tech. Sgt. Kevin Wallace, 100th Air Refueling Wing Public Affairs

بالا مرغاب، افغانستان (3 فروری، 2012) - مغربی افغانستان کے ایک گاؤں کوچی کے بڑے اور بچے 18 نومبر کو انسانیت کے بنیادوں پر مشتمل ایک مشن کے دوران اپنی کیچڑ سے بنی جھوپڑیوں اور خانہ بدوش خیموں سے نکل کر ایک ایک اتحادی قافلے سے ملنے کے لیۓ آۓ۔

فوجیوں نے بچوں کو جوتے، مٹھائی اور کھلونے پیش کیۓ  اور بڑوں میں خوراک کے ڈبے، جوش اور دیگر طرح کے شربت تقسیم کیئے ۔

امریکی فوج کے کرنل رامیرز ای۔ ریکرڈو، یو ایس فوج افغانستان ڈیٹچمنٹ ویسٹ کمانڈر نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ بچوں میں واقعات اور لوگوں کو یاد رکھنے کی بہت زیادہ صلاحیت ہوتی ہے اور امید ہے کہ اس گاؤں میں کوچی قبیلے کے بچے اتحادی افواج کو ان کی سخاوت اور ہمدردی کے لئے یاد رکھیں گے۔ جیسے جیسے یہ بڑے ہوں گے امید ہے کہ وہ اتحادی افواج کی طرف ایک مثبت رویے کو برقرار رکھیں گے اور ممکن ہے کہ بالغوں کے طور وہ اپنے مصیبت زدہ لوگوں کے لیۓ رحم دلی اور سخاوت دکھائیں۔

جیسے جیسے افغان نیشنل آرمی اور افغان پولیس مظبوط بوتی جا رہی ہے، ملٹری اور معاشرے کے درمیان تعاون کے واقعات زیادہ ہوتے جائیں گے تو کوچی قبیلوں پراس کا  اثر پڑتا جائے گا۔

اتاحی میر احمد، صوبہ ہرات سے ایک اتحادی افواج کے ترجمان  نے کہا کہ تاریخی طور پر، زیادہ تر افغان کوچیوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے  ہیں کیونکہ وہ لوگ خانہ بدوش ہیں اور ان کی کہیں بھی جڑیں نہیں ہیں۔ دن بہ دن، کوچیوں کو بطور افغان سمجھنے کا خیال بڑھتا جا رہا ہے جیسے جیسے افغان عوام کی فکر اور سوچ میں آتی جا رہی ہیں، میرے خیال سے  زیادہ تر افغان ان کو اپنے برابر کے بھائیوں اور بہنوں کی نظر سے دیکھنے لگے ہیں۔

کوچی قبائل اکثر بھیڑ اور بکریاں چراتے ہیں اور ان کے، گوشت، دودھ، اور اون کو بیچ کر زندگی کی دوسری ضروریات مثلاً اناج، سبزیاں، پھل، اور دوسری چیزیں جو خانہ بدوشوں کو دستیاب نہیں ہوتی ان کو پورا کرتے ہیں۔

خاص طور پر اس قبیلے نے، کیمپ ارینا جو کہ صوبہ ہرات، مغربی افغانستان میں بنیادی طور پر اطالوی اور ہسپانوی افواج کی بیس ہے، وہاں کے قریب ایک عارضی گاؤں بنایا، جو کہ مٹی کی جھوپڑیوں اور خیموں پر مشتمل تھا۔

کیمپ ارینا میں کئی درجن امریکی افواج  بھی  ہیں جو یا تو اطالوی یا ہسپانوی افواج کے ساتھ متعین ہیں، یا پھر کسی خاص مشن کے لیے امریکی بیس سے الگ ہوئے  ہیں۔

گزشتہ کئی ماہ کے دوران، کمانڈر ایمرجنسی رسپانس پروگرام کے فنڈز کا استعمال کرتے ہوئے، فوجیوں نے کوچی گاؤں کے دوسری جانب ایک پانی کا کنواں بنایا ہے۔

نیا کنواں کوچی گاؤں کے علاوہ علاقے گزرتے ہوۓ دوسرے کوچی لوگوں کو بھی فائدہ دے گا۔

میر احمد نے کہا  کہحالیہ دور میں، جب ایک کوچی قبیلہ ایسے علاقے کو پاتے ہیں جو ان کو اپنی زندگیاں برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے تو بعض قبائل وہاں بسنا شروع کردیتے ہیں اور اپنے جانوروں کے لئے بہتر چراگاہوں کی تلاش کے لئے صرف موسم بہار کے دوران سفر کرتے ہیں۔ جب موسم بہار موسم گرما میں بدل جاتا ہے تو کوچی اپنے آباد علاقوں میں واپس آ سکتے ہیں۔

اتحادی افواج امید کرتی ہیں کہ کنویں جیسے ترقیاتی منصوبے قبیلوں کو آئندہ آنے والے سالوں میں فائدہ دیں گے۔

رامیریز نے کہا  کہ مجھے امید ہے کہ یہ کنواں کوچی قبیلے کے آئندہ آنے والی نسلوں تک کی خدمت کرے گا ۔ ہمیں احساس ہے کہ یہ ان کی زندگی میں اہم  تبدیلی لاۓ گا۔  پانی کا ایک قابل اعتماد ذریعہ ہونے سے ان کی روزمرہ زندگی میں ایک بہت بڑا فرق پڑے گا۔ یہ انہیں اپنے مستقبل کے لئے سیکورٹی کا احساس دے گا۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
120511-N-NN926-057

120511-N-NN926-057
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
17,356+