| بریگ پیراٹروپر، افغان فوجی غزنی صوبے میں باغیوں کی پناہ گاہوں کو منتشر کرتے ہیں |
منجانب SGT Michael J. MacLeod شئیرمتعلقہ خبریں
سارجنٹ بشیر، افغان نیشنل آرمی 6 ویں کندک، تھرڈ بریگیڈ، 203ویں کور کے ساتھ ایک پلاٹون سارجنٹ، 2 جون، 2012 کو جنوبی غزنی صوبہ، افغانستان میں ایک یو ایس- افغان [باغیوں سے] صفائی کے مشن میں ایک کسان کو سلام کرتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب سارجنٹ مائیکل جے۔ مک لیوڈ)
فارورڈ آپریٹنگ بیس آریئن، افغانستان (8 جون، 2012) – باغی یہ جان رہے ہیں کہ امریکی اور افغان فورسز کہیں بھی کسی بھی وقت ان کی صلاحیتوں کو منتشر اور تباہ کرنے پَہُنچ جائیں گی، امریکی ملٹری کمانڈر نے آج جنوبی غزنی صوبے میں کہا۔ یہاں ہائی وے 1 کے ساتھ سڑک کنارے نصب بموں کی موجودگی نمایاں طور پر کم کرنے کے بعد، امریکی فوج کے پیراٹروپر اور افغان فوجی جنگ کو باغیوں کے محفوظ ٹھکانوں تک لے جانے کا آغاز کررہے ہیں، لیفٹیننٹ کرنل پریکسیٹیلس ویم واکیاس 82 ویں ہوائی ڈویژن کی سیکینڈ بٹالین، 504 ویں پیراشوٹ انفنٹری رجمنٹ، فرسٹ بریگیڈ کامبیٹ ٹیم کے کمانڈر نے کہا۔ فورٹ بریگ، نارتھ کیرولائینا سے پیراٹروپر5ز نے جون کو ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے کئی روزہ حملے کے نتیجے میں بڑی تعداد میں دور دراز کے پہاڑوں میں "محفوظ پناہ گاہ" دیہاتوں میں قرا باغ ضلعی سنٹر کے مغرب میں باغیوں کے ہتھیاروں کے کم از کم پانچ ذخیروں کو تباہ کیا، ویم واکیاس نے کہا۔ "یہ ہماری منصوبہ بندی کا حصہ ہے کہ باغیوں کے توازن کو بگاڑا جاۓ، جس سے افغان نیشنل سیکورٹی فورسز اور ضلع گورننس کی سلامتی کو بہتر بنانے، اسلوب حکمرانی، اور معیشت کو بہتر بنانے میں مظبوطی حاصل کرنے کے لیئے وقت اور موقع فراہم کرے گا،" انہوں نے کہا۔ زراعت کی بنیاد پر برلاہ اور لار کی بستیاں اور کئی چھوٹے دیہات کو [باغیوں سے] صاف قرار دیا گیا تھا، جو تمام کی تمام ایک دور افتادہ وادی میں تقریباً 8،000 فٹ کی اونچائی پر واقع ہیں۔ آپریشن میں شامل کمپنی کے کمانڈروں میں سے ایک، کیپٹن رابرٹ گیک III نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں باغیوں سے ان کا سکھ چین چھین لیتی ہے، ان کو غلطیاں کرنے پر مجبور کرتی ہیں جن سے امریکی اور افغان فورسز استفادہ حاصل کر سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر ہائی وے 1 کے ساتھ ساتھ، روٹ کی کلیئرنس کی ٹیموں کے زیادہ دباؤ کی وجہ سے سڑک کے کنارے لگے بموں، جو شائد ملٹری کانواۓ کے لیے لگاۓ گۓ تھے، کی وجہ سے شہریوں کی اموات میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسی غلطیاں باغیوں کی سرگرمیاں جو کہ سویلین کی پہلے ہی سے کم ہوتی ہوئی برداشت کو مزید کم کرتی ہیں۔ ایک اور باغیوں کی غلطی، غزنی کے اندار ضلع میں حکومت کے لازمی مینڈیٹ کہ تمام موٹر سائیکلوں کا اندراج کیا جائے کے خلاف احتجاج کرنے کے لیۓ 83 اسکولوں کو جبرا بند کرنا تھا، جس کو جلہ ہی ختم کر دیا گیا جب شہریوں نے طالبان کے ساتھ کھلے عام جھڑپ ہوئی۔ گیک، جس کی کمپنی نے افغان نیشنل آرمی کی فوج کے ساتھ بارلاہ کو باغیوں سے صاف کرنے کے لیۓ شراکت داری کی نے کہا کہ انہیں یقین ہے حالیہ مشن کا سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ یہ "ایک چنگاری جس نے منتقلی کی ذمہ داری شروع کی اور مشن کی قیادت ہم سے افغانوں کو دی۔" مشن نے ایک "مشترکہ ہتھیاروں کی مشق" استعمال کی، پہلے ہی سے، جو کہ منصوبہ بندی کا ایک اہم آلہ ہے جس کے دوران ہر ایک کمانڈر نے ایک زمینی نقشے پر آپریشن میں اپنا کردار تفصیل سے بیان کیا۔ میجر شمہون سیف، 6 ویں کندک، تھرڈ بریگیڈ، 203ویں کور کے لیئے آپریشن افسر، نے کہا کہ وہ مستقبل میں ان کے اپنے مشن کے لیئے منصوبہ بندی کے اس طریقہ کار کے استعمال کا ارادہ رکھتے ہیں۔ "ہم پیشہ ور ماہر بننا چاہتے ہیں،" انھوں نے کہا۔ گيک نے کہا کہ میدان میں، امریکی پیراٹروپرکے لیئے "بڑی جیت" وہ تھی جب افغان فوجیوں نے عمارتوں کو [باغیوں سے] صاف کرنے میں قیادت کرنا شروع کی۔ گیک کی پلاٹون کے رہنماؤں میں سے ایک، فرسٹ لیفٹیننٹ کرک شو میکر، نے واضح کیا کہ افغان فوجی ہر گھر میں سب سے پہلے داخل ہوۓ اور ہمیشہ فارمیشن کی لیڈ میں تھے۔ 'ہمارے اے این اے کے ساتھی بہت شاندار تھے، خاص طور پر فرسٹ لیفٹیننٹ لشکا خان اور ان کے پلاٹون سارجنٹ بشیر،" شو میکر نے کہا۔ "اصل میں، کبھی کبھی وہ پہاڑوں کی چڑھائی میں ہم سے آگے نکل جاتے تھے۔ وہ اس بات کا یقین کرنے میں کہ لوگ حفاظت سے ہیں اور اس علاقے سے طالبان کا خاتمہ ہو رہا ہے کے لیئے بھوکے ہیں،" انہوں نے کہا۔ شو میکر نے تسلیم کیا کہ افغان فوجی افغان گاؤں کی زندگی کے معمول کے سیاق و سباق سے طالبان کے اثر کی نشانیوں کو زیادہ بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ لشکا خان، جنہوں نے افغان فوج میں سات سال کام کیا ہے، نے لیفٹیننٹ کے تجزیے سے اتفاق کیا، انہوں نے مزید کہا کہ ان کی فوج ہر دن بہتر ہو رہی ہے۔ "میرا سب سے بڑا بیٹا 11 سال کا ہے،" انہوں نے کہا۔ "وہ اس بات پر فخر کرتا ہے کہ میں طالبان کے خلاف لڑ رہا ہوں، کیونکہ اگر وہ دوبارہ کنٹرول میں ہوتے، تو ہمارا ملک ایک بار پھر اندھیرے میں اتر جاتا۔ جب ہم نے گھروں کی تلاشی لی، لوگوں نے ہمیں بتایا کہ وہاں اسکول نہیں ہیں۔ میں اپنے ملک کے لیۓ ایک چمک دار مستقبل چاہتا ہوں جہاں میرے تمام بچے اور میرے پڑوسیوں کے بچے اسکول میں جا سکیں اور با علم شہری بنیں۔" شو میکر جو ایک پلاٹون کا لیڈر بننے سے پہلے ایک انٹیلی جنس افسر تھا نے کہا ہے کہ ان محفوظ پناہ گاہوں کو جنہیں انھوں نے [باغیوں سے] صاف کیا اتنی خطرناک نہیں تھیں جتنی رپورٹوں کے مطابق تجویز کی گئی تھیں اور خود ساختہ دھماکہ خیز آلات، اہلکاروں کے خلاف بارودی سرنگیں، کار بم اور خودکش واسکٹ کا فقدان تھا جن کے خلاف منصوبہ سازوں نے خبردار کیا تھا۔ "طالبان کے ساتھ کوئی براہ راست ٹکراؤ نہیں ہوۓ تھے،" انہوں نے کہا۔ "طالبان کے وہاں ہونے اور اثر و رسوخ کے پاس افواہ تھی، لیکن وہ اتنا زور دار نہیں تھا جتنا کہ ہم امید کر رہے تھے۔" یہ شائد ایک اشارہ ہے کہ باغی اپنی پناہ گاہوں کو اب تک کتنا محفوظ خیال کر رہے تھے، انھوں نے کہا۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















