صفحہ اول | خبریں | خبریں | بائیڈن کا امریکی اور عراقی فوجوں سے اظہار تشکر
بائیڈن کا امریکی اور عراقی فوجوں سے اظہار تشکر
منجانب , American Forces Press Service

واشنگٹن، 2 دسمبر، 2011- کل بغداد میں عراقی وزیر اعظم نوری المالکی اور عراقی صدر جلال طالبانی کے ہمراہ، نائب صدر جو بائیڈن نے امریکی اور عراقی مسلح افواج کا ان کی قربانیوں، عزم اور کامیابیوں کا شکریہ ادا کیا۔

بائیڈن نے عراقی رہنماؤں سے کہا  کہ عراق میں امریکی سفیر جیمز جیفری اور آرمی جنرل لایڈ جے آسٹن، جو کہ امریکی افواج عراق کے کمانڈرہیں نے قیادت کو سراہتے ہوۓ کہا کہ میں یہ بھی جانتا ہوں اور آپ لوگ بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ امریکہ نے آپ کے لیۓ نوجوان مرد اور عورتوں بلکہ رہنماؤں کو بھی اپنے ملک کے بہترین لو گوں سے چُنا ہے۔

نائب صدر نے امریکی اور عراقی فوجوں جو الفاؤ محل میں جمع تھیں کا جائزہ لیا، یہ تمام "ان دونوں ممالک کی خدمات میں ایک مشترکہ قربانی کی طرف سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوۓ ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ اس مشن جو کہ ہماری تاریخ کا پیچیدہ ترین  اورسب سے ذیادہ مشکل چیلنج تھا اس میں انھوں نے زمین پر بدلتی ہوئی صورت حال کے مطابق خود کو ڈھالا اور وہ سب کچھ کیا جس کا ان سے تقاضا کیا گیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ آپ کامیاب رہے ہیں۔ آپ نے ظالم اور متشدد انتہا پسندوں کو شکست دینے میں اور ایک نئی جمہوری قوم کو اٹھ کھڑے ہونے میں مدد دی۔ آپ نے عراقی عوام کو ایک بہتر مستقبل کے لئے موقع فراہم کیا، وہ مستقبل جو کہ ایک لمبے عرصے تک قائم رہے گا اور یہ ایسا مستقبل ہے جس کے وہ مستحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کے شانہ بہ شانہ کام کرتے ہوۓ امریکی فوج اور عراقی سیکورٹی فورسز نے ہماری اقوام کے درمیان ایک طویل مدتی، اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی بنیاد رکھی ہے۔ یہ بنیاد عراق کے لئے بھی رکھی گئی ہے جو کہ تمام ناممکن حالات کے باوجود ناصرف اپنے لوگوں کے لیے ، بلکہ آنے والے بہت سے سالوں کے دوران خطے میں بھی اپنی خدمات کے زریعے استحکام لائے گا۔

بائیڈن نے اس بات کا ذکر کیا کہ عراق میں صورت حال نے کس حد تک ترقی کی ہے اور انھوں نے فوج کے بہادرانہ کام کو تسلیم کیا جس نے اس مشن کو ممکن بنایا۔ اس کی وجہ آپ اور وردی میں ملبوس شدہ لوگوں کا کام ہے کہ ہم اب اس جنگ کو ختم کرنے کے قابل ہیں۔

بائیڈن نے ذکر کیا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے تمام عراقی شہروں سے اپنے امریکی فوجیوں کو ہٹانے، گزشتہ سال اگست میں مسلح مشن ختم کرنے اور عراق میں اپنی 50،000 فوجیں کم کرنے اور اب اس سال کے آخر میں تمام فوجیوں کو واپس بلانے کے  وعدوں کو پورا کیا ہے۔

بائیڈن نے مالکی کے جائزے کی تائید کی کہ کچھ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ آیا عراقی سیکورٹی فورسز اپنے ملک کی مکمل سیکورٹی کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیۓ تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لیکن عراق کی سیکورٹی فورسز نے اپنے آپ کو وقت پر تیار کیا بلکہ انھوں نے اس سے بھی اپنے آپ کو کُچھ ذیادہ ثابت کر دکھایا۔ آپ نے مشکلات کا بھرپور طرح سے مقابلہ کیا ہے۔ امریکی فورسز اور اتحادی افواج کے بحران کے دوران، آپ نے اپنے لوگوں کو محفوظ رکھا، اور آپ کی وجہ سے تشدد 2003 سے لے کر اب تک سب سے کم سطح پر رہا ہے۔

بائیڈن نے کہا کہ اب تبدیلی کا وقت آیا ہے، اب جب کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور عراق مستقبل میں اپنے تعلقات کو بڑھانے کے لئے راہیں تلاش کر رہے ہیں، یہ ایک نیا باب ہے اور دونوں عراقی اور امریکی عوام ایک نئی شروعات چاہتے بھی ہیں اور  وہ اسکے مستحق بھی ہیں۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور عراق کے درمیان سٹریٹیجک فریم ورک کا معاہدہ، بہت سے شعبوں میں وسیع تر تعاون کے ساتھ،  اس تعلق کی رہنمائی کرے گا۔ انھوں نے اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوۓ کہا کہ سیکیوریٹی کے معاہدے کے بر عکس اس کی کوئی اختتامی تاریخ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ  ایک مختلف قسم کا تعلق ہے، جس کی بنیاد باہمی طور پر خود مختارشہریوں کا تعاون ہے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان طویل المیعاد وسیع تعلقات کی نمائندگی کرتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ یہاں عراق اور پورے خطے میں پوری طرح سے مشغول رہے گا۔ انہوں نے مذید کہا کہ امریکہ ایک وفادار ساتھی رہے گا۔

بائیڈن نے امریکی فوج کے ارکان اور عراقی سیکورٹی فورسز کی عراق کی نئی نسل کے لئے تشدد میں کمی کے ساتھ ایک پرامید مستقبل کا سامنا کرنے کے لیۓ راستہ ہموار کرنے پر بہت زیادہ تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ جو یہاں میرے سامنے وردی میں ملبوس ہیں یہ آپ سب کی قربانی اور بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت تھی جس نے  اسے ممکن بنایا اور اس کو کبھی بھی نہیں بھلایا جانا چاہیے اور نا ہی  اسے عراق میں، یا میرے ملک ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں بھلایا جاۓ گا۔

انھوں نے جنہوں نے سب سے بڑی قربانی دی ہیں ان 4،486 جانوں کی اور 30،000 سے ذيادہ عراق میں ہونے والے زخمیوں کی خاص تعریف کی۔

انہوں نے اسمبلی میں قوم کو سابق فوجیوں کی دیکھ بھال کرنے کی ذمہ داری کے بارے میں ذکر کرتے ہوۓ کہا کہ ہم ان کی قربانیوں کا احترام کرتے ہیں اور آپ سب کی بھی کہ ہم آپ سب کے کیۓ میں بہت فخر اور کامیابی محسوس کرتے ہیں۔

ہم آپ کے قرض دار ہیں اور اب یہ ہماری قوم کی مقدس ذمہ داری ہے کہ ان لوگوں کی جن کو ہم نے جنگ کے لیۓ بھیجا ان کی دیکھ بھال کریں اور جب وہ گھر واپس ائیں ان کا خیال رکھیں۔

آخری امریکی فوجی کے اس مہینے کے آخر میں گھر واپسی پر ان کا مشن عراق میں ختم ہو جاۓ گا۔ بائیڈن نے اعتراف کیا کہ وہ خطرات جن کا انھوں نے سامنا کیا وہ اب غائب ہو گۓ ہیں۔ تاہم انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ عراقی ان کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عراقی سیکورٹی فورسز کی اچھی طرح تربیت کی گئی ہے اور ان کو تیار کیا گیا ہے اور آپ مکمل طور پر چیلنج کا سامنا کرنے کے قابل ہیں۔ عراق کی ابھرتی ہوئی، جامع سیاسی تہذیب استحکام کا حتمی ضامن ہو گی۔

بائیڈن نے عراقیوں کو ان کے لوگوں کو ایک عام، خوشحال مستقبل فراہم کرنے کے موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے چیلنج کیا اور کہا کہ يہ علم ميں رہے کہ امریکہ ایک پر عزم ساتھی رہے گا۔

ہماری فورسز یہاں سے اپنے سر فخر سے بلند کیے واپس جا رہی ہیں، لیکن دعا کرتے ہیں کہ دونوں اقوام کے درمیان مشکل سے جیتے گۓ تعلقات، ، لمبے عرصے تک قائم رہیں۔
 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 23 times

فیس بُک پر دوست
33,167+