| آسٹریلین فوجی افغان بھاری ہتھیاروں کی پلاٹون کو مارٹر مشق میں تربیت دیتے ہیں |
منجانب Spc. Nevada Jack Smith, 117th Mobile Public Affairs Detachment (Hawaii) شئیرمتعلقہ خبریں
افغان نیشنل آرمی کے فوجی 28 جولائی، 2012 کو گشتی بیس سورخ بد، افغانستان میں ایک مارٹر کورس کی توثیق کے حصے کے دوران 82 ایم- ایم کے مارٹر راؤنڈ مارٹر ٹیوب میں ڈالتے ہوۓ۔ ( فوٹو سپیشل نیواڈا جیک سمتھ)
تارن کوٹ، افغانستان (2اگست، 2012) - مارٹر کے گرجدار دھماکے فضا میں گونجے جب افغان نیشنل آرمی کے فوجیوں نے 28 جولائی کو گشتی بیس سورخ بد، افغانستان میں مارٹر کورس کی توثیق کے حصے کے دوران ایک خاص دوری پر راؤنڈ چلاۓ۔ 6 ویں کندک، بھاری ہتھیاروں کی پلاٹون سے اے-این-اے کے فوجیوں نے مشق میں حصہ لیا جو 21 جولائی کو شروع ہوا اور اب تیسری بٹالین، رائل آسٹریلوی رجیمنٹ (3 آر اے آر) کے ٹاسک گروپ کی مینٹور ٹیم براوہ نے سکھایا۔ تربیت کے دوران اے-این-اے کے فوجیوں کو یہ سکھایا جاتا تھا کہ 82 ایم-ایم مارٹر کو کس طرح استعمال کرنا چاہیے۔ آسٹریلوی کارپورل ڈین فرکوہر، جو مشق کی تربیت کے شیڈول کے انچارج اور مینٹور کی ٹیم براوو کے ساتھ ایک فوجی ہیں، نے کہا کہ جب وہ کلاس میں آۓ تو میرے خیال میں ان میں سے صرف دو نے اس سے پہلے ایک مارٹر کو ہاتھ لگایا تھا ۔اس کے بعد انھوں نے بہت تیزی سے یہ مہارتیں سیکھ لیں" ۔ 6 ویں کندک کے پاس ماضی میں کبھی بھی مارٹر نہیں رہے ہیں جو اضافی سامان اور تربیت کو ارزگان صوبے میں کام کرتی اے-این- اے کے لیۓ بہت فائدہ مند بناتا ہے۔ لانس کارپورل میتھیو کیسی، جو مینٹور ٹیم براوو کے رکن ہیں، نے کہا کہ "یہ طاقت کو بڑھانے والی چیز ہے، تو یہ انھیں کاروائیوں کے دوران اپنے فوجیوں کی مدد کے لیئے اسے استعمال کے قابل بناۓ گا" ۔ اے-این-اے کے فوجیوں کے پاس تکنیک، جس کا نام "ڈائریکٹ لے" ہے، کے استعمال کے ذریعے میدان جنگ میں اثر ڈالنے کی صلاحیت ہو گی۔ کیسی نے کہا کہ " ڈائریکٹ لے" اُس وقت استعمال ہوتی ہے جب مارٹر بلواسطہ طور پر استعمال نہیں ہوتا بلکہ چلانے والے کی نظر کے بالکل سامنے ہوتا ہے ۔ فارکوہر کا کہنا ہے کہ "اگر وہ دشمن کو دیکھ سکیں تو وہ دشمن پو راؤنڈ چلا سکتے ہیں" ۔ کورس کے آغاز سے ہی اے-این-اے کی بھاری ہتھیاروں کی پلاٹون کے فوجیوں کی مہارت اور تکنیکی علم میں اضافہ ہوا ہے۔ کیسی نے کہا کہ "مجھے لگتا ہے کہ اس ہفتے کے دوران جو کچھ ہم نے ان کو سیکھایا ہے وہ اس میں انتہائی ماہر بن گئے ہیں۔ اس سیکھنا کوئی بہت مشکل بات نہیں ہے، لیکن وہ اسے بہت جلد سیکھ رہے ہیں اور بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔ یہ بہت اہم ہے کیونکہ یہ ایک اور ایسا کام ہے جو وہ ہمارے بغیر کر سکتے ہیں اپنے نامیاتی ہتھیاروں کی مدد کا استعمال کرتے ہوئے۔" علم میں یہ ترقی اس سازوسامان کے اختلافات اور لسانی رکاوٹوں کے مشکلات کے باوجود کی گئی تھی۔ فرکوہر نے کہا کہ "انھوں نے مجھے حیران کردیا جس طرح سے رینجنگ سسٹم کو سیکھ لیا کیونکہ یہ ان کی زبان میں نہیں ہے، وہ بہت اچھی شخصیت کے مالک ہیں" ۔ اے-این-اے کے فوجی جنھوں نے یہ تربیت حاصل کی وہ اپنی پیشہ ورانہ فوجی مہارتوں کو سیکھنے اور بہتر بنانے کے موقع کے لئے شکر گزار تھے۔ فرسٹ لیفٹننٹ ذبیح محمد اکبر، جو 6 ویں کندک، بھاری ہتھیاروں کی پلاٹون میں پلاٹون لیڈر ہیں، نے کہا کہ "میری پلاٹون نے اپنے آسٹریلوی بھائیوں سے بہت کچھ سیکھ لیا ہے۔ ہم اس تربیت کے حصول کے لیۓ اور اس سامان کے استعمال کے بہت شکر گزار ہیں" ۔ 6ویں کندک اس وقت اپنی منصوبہ بندی اور کاروائیاں خود کر رہی ۔ یہ تربیت انھیں ارزگان کے اندر ایک اور طریقے سے اپنی گشت کی حمایت کے قابل بناۓ گی اور اب جب اتحادی فوجی اپنا انخلا جاری رکھے ہوۓ ہیں، یہ انھیں مستقبل میں بہت عرصے تک فائدہ پہنچاۓ گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ ان فوجیوں کے بارے میں کیا سوچتے ہیں جن کی انھوں نے تربیت میں مدد کی تو فرکوہر کا کہنا تھا کہ "میرا نہیں خیال کہ ہمارے جانے کے بعد انھیں اس معیار کو برقرار رکھنے میں کسی قسم کی مشکل پیش آۓ گی۔" |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















