صفحہ اول | خبریں | خبریں | اے-یو-پی نے گردیز میں امریکی فوجیوں سے قیادت لے لی
اے-یو-پی نے گردیز میں امریکی فوجیوں سے قیادت لے لی
منجانب Ken Scar, 7th Mobile Public Affairs Detachment
120222_exchange
امریکی فوج فرسٹ لیفٹیننٹ کلیٹن اسمتھ جو کہ آکسفورڈ، مین سے ہیں، اور سکاؤٹ ہیڈکوارٹر اور ہیڈکوارٹر کی کمپنی کے پلاٹون لیڈر، تھرڈ بٹالین، 509ویں انفنٹری رجیمنٹ، ٹاسک فورس سپارٹن، 16 فروری کو پولیس ہیڈکوارٹر کے صحن کے اندر افغان وردی پوش پولیس کے ارکان کو گردیز شہر میں موجودگی کی گشت کے بعد معلومات لیتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب سپیشل کین سکار)

پکتیا صوبہ، افغانستان (22 فروری، 2012) - گردیز شہر دو اہم سڑکوں جو ایک بہت بڑی الپائن وادی سے گزرتی ہیں کے درمیان جنکشن پر واقع ہے۔ ہندوکش، جو وادی کو شمال سے لے کر مشرق اور مغرب تک کی طرف سے پہاڑوں سے گھیرے ہوا ہے، مشرقی افغانستان کا ایک بڑےعلاقے کے لئے تجارت کا محور ہے، اور اس ملک کی طویل تنازعات سے بھری تاریخ میں تمام فوجوں کے لیۓ ایک سٹرٹیجک محل وقوع رہا ہے۔ سکندر اعظم کی تعمیرکردہ نگرانی کی چوکیاں ابھی تک صرف شہر کی حدود سے باہر ٹیلوں پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔

گزشتہ 10 سالوں کے سے، مغربی فوجوں نے اس وادی کا کنٹرول سنبھالا ہوا ہے، ہیڈکوارٹرز اور ہیڈکوارٹر کمپنی، تھرڈ بٹالین، 509ویں انفنٹری رجمنٹ، ٹاسک فورس سپارٹن کے پیرا ٹروپرز کے ساتھ۔ ان کا مشن: افغان سیکورٹی فورسز کو اپنے طور پر کام کرنے کے لئے تیار کرنا ہے۔

 16 فروری کو، سکاؤٹ پلاٹون، ایچ ایچ سی، تھرڈ بٹالین، 509ویں انفنٹری رجمنٹ کے فوجی مقامی افغان یورنیفارمڈ پولیس عنصر کے ساتھ شہر کے چاروں طرف ایک موجودگی کے مشن پر گۓ۔  کچھ جو کہ یہاں جدید جنگ کے ایک دہائی کے بعد معمول کی بات لگتا ہے، اصل میں افغانستان میں ابھرتی ہوئی سیکورٹی فورسز کے لئے ایک بڑی چھلانگ تھی کیونکہ اس کیا منصوبہ بندی اور اطلاق اتحادی افواج کی مدد کے بغیر مکمل طور پر اے یو پی کی طرف سے کیا گیا تھا۔

اس دفعہ سکاؤث ویسے ہی ان کے ساتھ گۓ تھے، گھومنے کی غرض سے۔

امریکی فوج کے فرسٹ لیفٹیننٹ کلیٹن اسمتھ، ایک سکاؤٹ پلاٹون رہنما اور آکسفورڈ، مین کے مقامی نے کہا  کہ آج ایک اہم دن تھا ۔ یہ پہلی بار ہے کہ [اے-یو-پی گردیز] کیپٹن کاردرنے کبھی اپنی گشت کا منصوبہ خود بنایا ہو۔ ّہلے ایسا ہوتا تھا کہ ہم انہیں فون کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہمیں 10 بندوں اور دو ٹرکوں کی ضرورت ہے یہ آسان ہوتا تھا کہ اس کی منصوبہ بندی ایک امریکی مشن کے طور پر کی جاۓ اور صرف ان سے کہا جاۓ کہ ہم سے آگے اس سڑک پر چلنا ہے ۔

اسمتھ نے کہا  کہ اہم، آج کے دن، یہ پہلی بار تھا کہ اے-یو-پی نے آپیریشنل مدد کی درخواست کی تھی، اور یہ وادی میں متعین امریکی عملے کے لیۓ ترقی کا ایک بہت ہمت افزا نشان تھا ۔

تھرڈ بٹالیین 509 ویں انفنٹری رجیمنٹ سے امریکی فوج کے میجر بریڈ کیٹل مین نے کہا  کہ ہم ملک واپس افغانوں کو سونپنے کے لیۓ تیار ہو رہے ہیں۔  وہ مشن پر مقامی افغانوں کے ساتھ اعتماد پیدا کرنے کے لیۓ آئے تھے تو آج جو ہوا وہ بہت اہم ہے۔

اہم، اس لیۓ بھی ہے کیونکہ اس قسم کے مشنوں پر افغانوں کے مقابلے امریکی فوجیوں کی تعداد برابر ہوتی جا رہی ہے۔

اسمتھ نے کہا  کہ آج جب ہم باہر نکلے تو ان لوگوں کی لائن بھی اتنی ہی لمبی تھی جتنی ہمارے لڑکوں کی ۔ لوگ ہمیں گشت پر غالب نہیں دیکھتے اور یہ نہیں سوچتے کہ اگر  ہم چلے گۓ تو ان کے پاس کچھ بھی نہیں رہے گا۔

تھرڈ بٹالین، 509 ویں انفنٹری رجمنٹ کے فوجی اپنے افغان ہم منصبوں کے ساتھ مشن جاری رکھنے کے لئے جائیں گے مگر آنے  والے مہینوں میں احتیاط سے کارروائیوں میں ایک فعال حصہ لینا کم کریں گے اور صرف نگرانی کے کردار کو اپنائیں گے۔

سمتھ نے وضاحت کی  کہ آج پہلا دن تھا، ایک نقطہ اغاز کی تشکیل کا ۔ اب ہم جو انھیں اکیڈمی میں سکھایا جاتا تھا اس کو سامنے رکھتے ہوۓ ان کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔

 اسمتھ نے مزید کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ کس طرح گشت پر نکلا جاتا ہے، کیونکہ یہ ہم نے انہیں سکھایا ہے اور کیونکہ اس سے ہماری سلامتی پر اثر پڑتا ہے ۔ لیکن جس چیز پر اب ہم کام کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ انھیں صرف امریکیوں کے ساتھ چھاپے مارنے تک محدود نہ رکھیں بلکہ سڑکوں پر گشت کریں اور جو لوگ قانون کی خلاف ورزی کرتے پہں انھیں گرفتار کریں۔

اسمتھ نے وضاحت کی کہ یہ بات اہم ہے کہ عوام یہ دیکھیں کہ ان کی مقامی پولیس اصل میں پولیس کا کام کر رہی ہے، جیسا کہ فساد کرنے والوں اور منشیات کے صارفین کو گرفتار کرنا کیونکہ یہ ان علاقوں میں ان کو ساکھ فراہم کرتا ہے جہاں اس کی کمی ہے۔

سمتھ نے کہا  کہ پولیس کو ارد گرد جانا اور مصافحہ کرنا اور سب کی نظر میں اچھا بننے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن انھیں آبادی کا احترام حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور ایسے مثبت طریقے سے وہ سب کچھ کریں جس سے ہر وہ شہری  متاثر ہو جو آپ کے ساتھ رابطے میں آتے ہے۔  اگر گردیز کے لوگ اے-یو-پی کو ایک 17 سالہ فسادی کو گرفتار کرتے، اسے ایک رات کے لئے حوالات میں بند کرتے اور اس کے والدین کو اگلے دن آ کر اس کو نکلواتے دیکھتے – تو اس کا پورے شہر میں چرچا ہو گا۔

اے-یو-پی کی گردیز کی لگام لینے کے ساتھ ساتھ، سکاؤٹس ایک تیز رفتار اور محنت طلب آپریشن سے کچھ وقفہ حاصل کر سکتے ہیں یہاں تک کہ سکاؤٹ بھی۔

اسمتھ نے کہا  کہ ہم نے پکتیا کی کاروائی کے سب سے بڑے علاقے کا احاطہ کیا ہے اور سب سے بڑے آبادی کے مرکز کا ہم مسلسل گشت کرتے ہیں۔

یہاں تک کہ ان کو صرف اس وقت وقفہ ملا جب فضائی مدد کی کمی کی وجہ سے شہر میں پیدل گشت کم ہو گئی اور پھر بھی اس طرح کے ایک تیز رفتار آپریشن کے ساتھ، سکاؤٹس کے حوصلے بلند رہتے ہیں۔

امریکی فوج کے میجر ائیچاہلو ایلائیزوسکی، جو کہ کیننڈیگوا، نیو یارک کے ایچ ایچ سی کمانڈر ہیں، نے کہا کہ  سکاؤٹس بٹالین میں سے افضل ترین ہیں وہ کسی چیز کے لئے تیار ہیں۔

سمتھ نے کہا کہ یہ لوگ اس بات کی توقع رکھتے ہیں کیونکہ ہم نے انہیں یہاں آنے کے لیۓ بہت مشکل تربیت دی تھی لیکن یہ طویل دس ماہ ہوں گے ۔

وینکوور، واشنگٹن سے پرائیویٹ فرسٹ کلاس مائیک ہالبرگ نے آنے والے مہینوں میں ایک مشکل کام کے بارے میں ایک مثبت رویۓ کا اظہار کیا جو کہ پلاٹون کے فوجیوں کا ایک مخصوص کردار ہے۔

انہوں نے کہا  کہ یہ ایک طویل سال ہو گا لیکن اس میں اچھا وقت گزرے گا ۔ [ اے-یو-پی کے ساتھ مل کر] ہم گردیز کو محفوظ رکھ رہے ہیں اور آتے جاتے بُرے لوگوں کو پکڑ رہے ہیں۔ یہ ایک دلچسپ کام ہے۔

اسمتھ نے کہا  کہ جب ہم گھر جائیں گے، ہر کوئی اپنی جنگ کی کہانیاں سناۓ گا، لیکن یہ [اسکاؤٹس] افغانستان کے اس چھوٹے سے حصے کو اس سے بہتر جگہ بنا کر چھوڑیں گے جیسی انہیں ملی تھی ۔ آپ اسے ابھی سے دیکھ سکتے ہیں۔

یہ وہ فوجی ہیں جو کہ اصل میں افغانستان میں ایک مثبت تبدیلی کے لیۓ کام کر رہے ہیں۔ یہ صرف ایک جنرل کی جانب سے کوئی بریفنگ نہیں ہے۔  گردیز کی سڑکوں پر چلنے والے شہری ان کی محنت کی وجہ سے اس  سے مثبت طور پر متاثر ہوۓ ہیں۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 25 times

فیس بُک پر دوست
33,184+