| اے-یو-پی، اے-این-اے نے کلیئیرنگ آپریشنز کے دوران بم بنانے کی لیبارٹری ڈھونڈ نکالی |
منجانب Sgt. Ryan Hohman, 2nd Stryker Brigade Combat Team, 2nd Infantry Division
افغان پولیس اور افغان نیشنل آرمی نے سیکنڈ بٹالین سی بیٹری، 17 ویں فیلڈ آرٹلری رجیمنٹ، سیکینڈ سٹرائیکر بریگیڈ کامبیٹ ٹیم، سیکینڈ انفنٹری ڈویژن کے ساتھ شراکت میں ضلع شاہ ولی کوٹ، افغانستان میں 8 جولائی کو کلیئرنس آپریشن کے دوران ٹیکٹائیل نگرانی کرتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب سارجنٹ رائن ہوہمین)
قندھار، افغانستان (16 جولائی، 2012) - افغان وردیداری پولیس اور افغان نیشنل آرمی نے سیکنڈ بٹالین سی بیٹری، 17 ویں فیلڈ آرٹلری رجیمنٹ، سیکینڈ سٹرائیکر بریگیڈ کامبیٹ ٹیم، سیکینڈ انفنٹری ڈویژن کے ساتھ شراکت میں ضلع شاہ ولی کوٹ، افغانستان میں 10 -7 جولائی کے دوران کلیئرنس آپریشن کیا۔ شریک یونٹیں ضلع بھر میں طالبان کی کاروائیوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کے لیۓ اکٹھے ہوگئے تھے۔ وارڈ نے کہا کہ "ہم نے ایک علاقے کو منتخب کیا جہاں ہمارے خیال سے بہت سی آئی-ای-ڈی ہوں گی، کیونکہ اے-یو-پی اور اے-این-اے کے لئے ایسی جگہوں میں گھسنا آسان نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا علاقہ ہے جس کی انھوں نے نشاندہی کی تھی کہ وہ وہاں جانا چاہتے تھے۔" خود ساختہ دھماکہ خیز آلات سے سویلین کا زخمی ہونا ایک مستقل مسئلہ بن گیا ہے جس کی وجہ سے جنوبی افغانستان میں کلیئرنس کاروائیاں تیزی سے اہم ہوتے جا رہے ہیں ۔ وارڈ نے کہا کہ آپریشن کے دوران ہمیں ایک خود ساختہ دھماکہ خیز مواد کی لیبراٹوری ملی، جہاں وہ اہلکار مخالف آئی-ای-ڈی بنا رہے تھے ۔ بہت سی آئی-ای-ڈی میں بوبی ٹریپ لگا ہوتا ہے تاکہ جب ان پر پاؤں رکھا جاۓ یا متاثرہ شخص اسے کسی طرح فعال کر دے تو وہ پھٹ جاۓ، جس سے اکثر اوقات شہری زخمی ہو جاتے ہیں۔ ایک الگ واقعے میں، اے-این-اے نے 17 -2 ایف-اے کے ساتھ شراکت میں 13 جولائی کو پانچ باغیوں کا سامنا کیا، جو شاہ ولی کوٹ ضلع میں آئی-ای-ڈی لگا رہے تھے اورچھوٹے ہتھیاروں کی فائرنگ سے شہریوں کو پریشان کر رہے تھے ۔ جب اے-این-اے پہنچی تو انھوں نے ایک بچے کو زحمی پایا جس کو باغیوں کی گولیوں نے زخمی کر دیا تھا۔ اے-این-اے نے فوری طبی امداد فراہم کی اور بچے کو ایک قریبی امریکی بیس تک لے جانے کے لیۓ طبی انخلاء فراہم کیا۔ میجر کرک جنکر،جو 17 – 2 ایف اف کے آپریشنز آفیسر ہیں، نے کہا کہ اے-این-اے نے 12 سالہ بچے کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور پھر اُسے ہمارے پاس مزید علاج اور طبی انخلا کے لیۓ لاۓ ۔ یہ واقعہ ایک اہم وقت پر ہوا جب بین الاقوامی افواج 2014 کے آخر میں نیٹو کی واپسی کے لئے تیاری میں اے-این-ایس-ایف کو سکیورٹی کی ذمہ داریاں منتقل کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















