| آرمی کم ایندھن استعمال کرنے والے جینریٹر افغانستان پہنچاۓ گی |
منجانب Nancy Jones-Bonbrest, PEO C3T شئیرمتعلقہ خبریں
آرمی اگلے 12 مہینوں کے دوران تَقريباً " 1،600 ایڈوانس میڈیم موبائل پاور سسٹمز افغانستان پہنچاۓ گی۔ نۓ جینریٹر ان جینریٹروں کی بسبت جن کی وہ جگہ لے رہے ہیں ایندھن کی زیادہ بچت کرتے ہیں اور زیادہ قابل اعتماد ہیں۔ (یو ایس آرمی فوٹو)
ابردین پرونگ گراؤنڈ، میری لینڈ (12 جون، 2012 ) – یو ایس آرمی جلد ہی نئی قسم کی آپریشنل توانائی افغانستان پہنچاۓ گی جو کہ کم حجم والے، کم ایندھن خرچنے والے جینریٹروں کے ذریعے ہو گی جن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ جنگ میں توانائی پہنچانے کا نقشہ بدل دیں گے۔ یہ ایڈوانس میڈیم موبائل پاور سسٹم، یا اے ایم ایم پی ایس کے نام سے جانے جاتے ہیں، یہ جینریٹر 21 فیصد تک بجلی کی بچت کر سکتے ہیں اور فوجیوں کو ایدھن کے کانواۓ لانے سے بچا سکتے ہیں جو کہ اکثر سڑک کے کنارے نصب بموں کا ہدف ہوتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی، جو کہ افغانستان میں ایک یونٹ کو پہنچائی جا رہی ہے، ایک ایسے وقت میں جب محکمہ دفاع ایندھن کی کھپت کم کرنے کے لیۓ پوری کوشش کر رہا ہے، متبادل توانائی کے ذرائع کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے اور آپریشنل توانائی کی استعداد کار کو بہتر بنانے کی کوششیں کر رہا ہے، فوج کے لیئے آپریشنل توانائی کے ماڈل کے طور پر کام کرتی ہے۔ "اس نئی ٹیکنالوجی کا توازن جو اے ایم ایم پی ایس کے ساتھ آتا ہے، جس میں صحیح سائزکی بجلی کی پیداوار، بجلی کی تقسیم اور فوجیوں کی توانائی کے بارے میں اگاہی شامل ہیں، میدان جنگ میں زندگی کو بچائیں گے،" کرنل برائن کمنگز، موبائل الیکٹرک پاور پروجیکٹ مینیجر، یا پی ایم ایم ای پی نے کہا۔ گزشتہ اکتوبر میں فوج کے جی-4 دفتر نے اندازہ لگایا تھا کہ افغانستان اور عراق میں امریکی ہلاکتوں کی تعداد 18 فیصد زمین رسد مہیا کرنے سے متعلق رہی تھی۔ تھیٹر میں ایندھن کی کھپت کو کم کرکے، قافلے کی فراہمی کی یونٹوں کی طرف سے کئے گئے دوروں کی تعداد کم ہو جائے گی، جو کہ فوجیوں کے لیئے خطرہ کم کر دے گی۔ مئی میں، چوتھی انفنٹری ڈویژن کارسن، کالوراڈو سے، اے ایم ایم پی ایس سے لیس پہلی یونٹ بن گئی۔ افغانستان کو اے ایم ایم پی ایس کی پہنچ جولائی میں شروع ہو جائے گی۔ افغانستان میں 15 کے لگ بھگ چوکیوں کو نۓ جینریٹر دینے کا ہدف ہے، کمنگز نے کہا۔ اے ایم ایم پی ایس کے ذریعے لایا گیا استعداد کار فوجیوں کو جنگی طاقت واپس دے گا جن کو اب ایندھن کی ترسیل، جینریٹرز کو برقرار رکھنے یا کانواۓ کی حفاظت میں زیادہ سے زیادہ وقت خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ فوجیوں کو مواصلاتی آلات، ہتھیاروں کے نظام، ٹیکٹیکل آپریشن کے مراکز اور بہت کچھ چلانے کے لیئے توانائی کی ضرورت ہوتی ہے،" لیفٹیننٹ کرنل مائیکل فوسٹر، درمیانے درجے کی طاقت کے ذرائع کے لیئے مصنوعات کے مینیجر نے کہا۔ "لیکن افغانستان میں، جہاں بنیادی سہولیات کا ڈھانچہ بہت کم ہے، یونٹوں کو توانائی کے ذرائع اپنے ساتھ لے کر جانے پڑتے ہیں۔ اس کو ایک مؤثر انداز میں کرنے سے یہ فوجیوں کو ٹیکٹیکل پاور کے بجائے توجہ لڑائی پر مرکوز کرنے کی اجازت دینے کے قابل کرتا ہے۔" اے ایم ایم پی ایس، جس کی ترسیل ایم پی ایم ای پی کی ریپڈ فورس لیس کے ساتھ شراکت میں کی جا رہی ہے، مجموعی طور پر اپنے سے پہلے [جینریٹروں] سے 50 فیصد سے زیادہ قابل اعتماد ہیں، اور دیکھ بھال کے اخراجات اور وقت کو بہت حد تک کم کرتے ہیں۔ ایک بار مکمل طور پر عملدرآمد کے بعد، نئے جینریٹرز سے افغانستان میں سالانہ 346،000 افرادی قوت کے مرمت میں خرچے جانے والے گھنٹوں کی بچت کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ سائز میں 5 کلواٹ سے لے کر 60 کلواٹ تک، اے ایم ایم پی ایس جینریٹر جو اس وقت تھیٹر میں ہیں سے 21 فیصد ایندھن کی بچت، زیادہ قابل بھروسہ اور سائز اور وزن میں 10 فیصد کمی ہو گی۔ فوجیوں، ملاحوں، ائیرمین اور میرینز اے ایم ایم پی ایس کو ذاتی طور پر دیکھنے اور 2012 ایم ای پی کی صارف کانفرنس جو 10-8 مئی کو منعقد ہوئی کے دوران ان کی صلاحیتوں کے بارے میں ماہرین سے سوالات پوچھنے کا موقع ملا۔ چیف وارنٹ آفیسر 2 جاشوا بروس، 173ویں ائیربورن بریگیڈ کامبیٹ ٹیم سے ایک فوجی، جس نے کانفرنس میں شرکت کی، نے کہا کہ انہیں اپنی جرمنی میں تعیناتی کے دوران ایم ایم پی ایس پر تربیت اور اسے استعمال کرنے کا موقع ملا تھا۔ "میں نے انھیں استعمال کرنے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا،" بروس نے کہا۔ "ہم نے اسے لگایا، استعمال کیا اور اسے بہت پسند کیا۔ اس نے ہر وہ کام کیا جو انھوں نے کہا تھا کہ یہ کرے گآ۔" پہلی ترسیل کے دوران فوج 81 اے ایم ایم پی ایس افغانستان میں پہنچاۓ گی۔ اگلے 12 ماہ کے دوران، فوج میں تَقريباً 1،600 اے ایم ایم پی ایس تھیٹر تک پہنچانے کی صلاحیت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، پی ایم ایم ای پی منتقلی میں مدد کے لیۓ تربیت اور توانائی کے ماہرین بھی فراہم کرے گی۔ یہ خاص طور پر ضروری ہے اب جب کہ فوج اپنی حکمت عملی پر مبنی مواصلات کے سامان کے پہلے مربوط پیکیج، جسے صلاحیت 13 سیٹ کے نام سے جانا جاتا ہے، کی ترسیل شروع کرنے والی ہے۔ اے ایم ایم پی ایس، یہ اعلی درجے کے نیٹ ورک کی توانائی کی ضرورتوں کو بہتر طور پر پورا کر سکے گا بہ نسبت موجودہ توانائی کے حل کے جس کو ٹیکٹیکل کوائیٹ جینریٹرز کے نام سے جانا جانتا ہے۔
ان توانائی کی بچت والے اے ایم ایم پی ایس کا استعمال آرمی اور ڈی او ڈی کی توانائی کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے کئی رخی طریقے کا صرف ایک حصہ ہے۔
پچھلے سال پی ایم ایم ای پی نے بگرام ایئر، افغانستان میں ڈی او ڈی کا پہلا آپریشنل مائکرو گرڈ بھیجا تھا۔ مائکرو گرڈ "ذھین" جینریٹرز پر مشتمل ہوتا ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ ذھانت سے منسلک ہوتے ہیں تاکہ بجلی کی فراہمی کا انتظام اور زیادہ سے ذیادہ کارکردگی دکھائی جا سکے۔ بگرام میں ٹیکٹیکل کوائیٹ جینریٹرز سے مائکرو گرڈ نظام کی تبدیلی ایندھن کے استعمال میں 17 فیصد کمی، دیکھ بھال کے افرادی قوت کے گھنٹوں میں 85 فیصد کمی اور 100 فیصد بجلی کی دستیابی فراہم کرے گی۔
پی ایم ایم ای پی توانائی کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیئے اور بالآخر میدان جنگ میں فوجیوں کی حفاظت میں مدد کے لیۓ توانائی کے جدید حل کی فراہمی جاری رکھے گی۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















