| اے-این-ایس-ایف نے اپنے ممبران کو دھماکہ خیز آلات کو شکست دینے کی تعلیم دی |
منجانب Sgt. Amanda Hils, ISAF Regional Command South شئیرمتعلقہ خبریں
5 اپریل کو جنوبی صوبے قندھار میں کیمپ ہیرو افغان نیشنل سکیوریٹی فورسز کے لیۓ ہیزرڈ ریڈکشن کورس کے دوران ایک تربیتی مشق میں ایک افغان نیشنل سول آرڈر پولیس اہلکار احتیاط سے ایک ایسے علاقے سے مٹی ہٹاتے ہوئے جہاں خود ساختہ دھماکہ خیز آلہ موجود ہونے کا خدشہ تھا۔۔ (فوٹو منجانب سارجنٹ امینڈا ہلز)
قندھار ائیر فیلڈ، افغانستان (12 اپریل، 2012) – پہلے سے دھماکے سے اڑائی گي اشیاء کے ملبے سے گھرے، کیمپ ہیرو افغان نیشنل سیکیوریٹی ایکسپلوسو ریڈکشن کورس کے طالب علم مائن ڈٹیکٹر کے ساتھ اپنے ٹرک سے باہر آۓ۔ اپنی گاڑی کے دونوں طرف پیدل چل کر، افغان نیشنل آرمی کے فوجی اور افغان وردی دار پولیس نے فوری طور پر علاقے میں اپنی ٹیم کے ارکان کے لیۓ حفاظت سے نیچے اترنے کو یقینی بنانے کے لئے آس پاس کے علاقے کا جائزہ لیا۔ علاقائی کمان (جنوبی)، ٹاسک پیلاڈن فورس (جنوبی) اور کیمپ ہیرو میں اپنے افغان ہم منصبوں سے سے افغان سروس ممبران کی بھرتی نے قائم چار ہفتے طویل ای ایچ آر سی کا قیام عمل میں لایا ہے تاکہ اے این ایس ایف کی جنگی علاقے میں دھماکہ خیز مواد کے خطرے کی شناخت اور اسے ہٹانے کی صلاحیتوں کی تربیت اور ان میں بہتری لائی جاۓ۔ ہیں،"، ای-او-ڈی شراکت کے افسر انچارج آرمی کیپٹن بنجمن جے۔ بیک ،جو ٹاسک فورس پیلاڈن (جنوبی) سے ہیں نے کہا کہ یہ لوگ [دھماکہ خیز آرڈننس ڈسپوزل کی] یونٹوں میں خالی جگہوں کو بھرنے جا رہے ہیں ۔ تیس طالب علم، دو افغان اور دو آسٹریلوی اساتذا کے ساتھ تین گروپوں میں تقسیم ہیں۔ تربیت کی سائٹ کے ارد گرد چار طالب علم خطرے سے دوچار علاقے کے ارد گرد سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے 360 ڈگری کا گشت کر رہے ہیں۔ دوسرا طالب علم، ایک افغان وردی دار پولیس اہلکار، ایک لمبی چھڑی، جس کو گیف کہتے ہیں، گھسیٹتا ہوا، اپنے اور اپنی ٹیم کے سامنے میدان کو شدت گھور رہا ہے۔ بیک نے کہا کہ اس وقت وہ کمانڈ تار کے لئے گھسیٹ رہے ہیں، اس بات کا یقین کرنے کے لیۓ کہ یہ علاقہ محفوظ ہے ۔ آگے سڑک کے موڑ پر کچھ مشکوک دیکھنے کے بعد، طالب علموں کو لازماً یہ یقینی بنانا ہے کہ علاقے میں جا کر شناخت کرنے والی ٹیم کے لیۓ ہر احتیاطی تدبیر اختیار کی جاۓ۔ اے-این-اے کے سارجنٹ بہادر، جو ای-ایچ- آر- سی کے معلم، انجنئیر پلاٹون نان کمیشنڈ افسر، کمانڈو لائن کندک، 205 ویں کور سے ہی، نے کہا کہ یہ ایک مشکل کام ہے کیونکہ اگر کوئی غلطی ہو جاۓ تو زخمی ہو سکتے ہیں یا اس سے بھی بُرا ہو سکتا ہے۔ وہ بہت محتاط ہیں کیونکہ یہ ایک بہت خطرناک کام ہے۔ بیک نے کہا کہ جب ہم افغانستان پہنچے، ہم نے اس پروگرام کو دیکھا جو یہاں مروج تھا اور یہ فیصلہ کیا کہ نومبر کے وسط میں اسے دوبارہ شروع کیا جاۓ۔ پہلی کلاس دسمبر کے اوائل میں تھی۔ ہم نے ان گریجویٹس کی شناخت کی جن میں انسٹرکٹر کی صلاحیت تھی اور ان کو زیر تربیت انسٹرکٹر کے طور پر کورس پر لانے کی منظوری حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ موسم گرما کے وسط سے آخر تک، ہمیں یقین ہے کہ کورس کی تعلیم مکمل طور پر افغان قیادت میں ہو گی۔ ممکنہ آئی-ای- ڈی کی طرف ایک سو میٹر چلتے ہوۓ، طالب علم احتیاط سے مائن ڈٹیکٹر کے ساتھ آگے بڑھے۔ جب لیڈ طالب علم مشتبہ آلے تک پہنچ گیا تو اس نے احتیاط سے دیٹیکٹر اپنے پیچھے رکھا اور پیٹ کے بل لیٹ گیا۔ مخصوص اور معمولی نقل و حرکت کو استعمال کرتے ہوئے، انہوں نے ایک آلے جو مائن کی تحقیقات کرتا ہے نکالا اور مشتبہ آلے پر سے مٹی اور ریت کو برش کے ذریعے ہٹانا شروع کیا۔ یہ عمل لمبا ہے اور اس کے لیۓ توجہ اور نازک ہاتھ چاہیے۔ بالآخر، برش کرنے پر مٹی کے نیچے سے نارنجی رنگ دیکھنے کو ملا۔ یہ ایک جیری کین، یا بشکا ہے، ایک بڑے لوہے کا برتن جو بیس لیٹر ایندھن کو زمین میں دفن کرنے کی حیثیت رکھتا ہے، ٹیم دھماکے کے لئے تیار اپنی گاڑی سڑک کے اس موڑ پر لے آئی۔ آئی –ای- ڈی کے قریب مارکرلگاتے ہوۓ، فوجی نے آہستہ آہستہ خود کو اوپر اٹھایا، احتیاط سے مائن آلے کو اٹھاتے ہوۓ اپنی ٹیم کو رپورٹ دینے کے لئے واپس آیا۔ بہادر نے کہا کہ اس سے پہلے، ہمیں بارودی سرنگوں اور آئی- ای- ڈی کے بہت سے مسائل تھے۔ اب ہم تربیت کی وجہ سے کامیاب ہیں۔ میں ایک پیشہ ور ہوں۔ میرے لوگ پروفیشنل ہیں. ہمارا پہلے کی طرح بہت جانی نقصان نہیں ہوتا۔ تربیت کا تصور افغان فورسز کو ان روزمرہ کی چیزوں جو بظاہرعام معلوم ہوتی ہیں میں چھپے خطرات سے آگاہ اور ان کی شناخت کرنا ہے، اور یہ جاننا کہ اگر وہ خود کو ایسی صورت حال میں پائیں تو کیا کریں۔ ہر قوم اور ہر سروس میں، ای او ڈی کی ٹیمیں اپنی ملازمتوں کے خطرناک اور مخصوص نوعیت کی وجہ سے اعلی ترین ہوتی ہیں۔ سروس کے تمام اراکین کو دھماکہ خیز مواد اور خطرات کے بارے میں سکھایا جاتا ہے، لیکن بہت کو لوگ ہیں جو کہ خطرے کو ٹھکانے لگا سکتے ہیں۔ اے- این- اے سارجنٹ. قدرت اللہ ،جو طالب علم، کمانڈو لائن کندک، 205ویں کور سے ہیں نے کہا کہ ہم طالبان کی حکمت عملی کے بارے میں سب کچھ سیکھتے ہیں، آئی ای ڈی ، کمانڈ تار، تنہائی پر کام کرتے ہیں ... یہ ہمارے لئے بہت مفید رہی ہے ۔ "اس سے پہلے، میں بارودی سرنگوں کو دریافت کرتا تھا لیکن میں ایک غیر تربیت یافتہ انجنیئر تھے اور محفوظ طریقے سے کام نہیں کر سکتا تھا۔ اب میں ایک پیشہ ور ہوں۔" ایک ای- او- ڈی فوجی، اے-این-اے کمانڈو، جیری کین آئی- ای- ڈی تک آیا، مائن ڈیٹیکٹر کے ساتھ احتیاط سے جائیزہ لیا، چمکیلے رنگ کے مارکر جو ان کی ٹیم کے رکن نے اس کے قریب لگاۓ تھے ان پر نظر رکھتے ہوئے۔ قابل، محتاط حرکات کے اسی عمل کے بعد، ای ایچ آر سی کا طالب علم نیچے لیٹتا ہے، نارنجی دھماکہ خیز مواد کے عین سامنے۔ انہوں نے اسی جگہ پر آئی ڈی کو اڑانے کے لیۓ ڈیٹونیشن کی تار اور سی4 نکالی، تاکہ ان کی ٹیم اپنے مشن کو پورا کرنے کے لیۓ روانہ ہو سکے۔ اس عمل شروع کرنے کے بعد، وہ اپنی ٹیم کی طرف واپس چلتا ہے۔ کمانڈو کے پاس دھماکے سے قبل تین منٹ ہیں۔ دھماکے کی دھول اور ڈیٹونیشن کی آواز طالب علموں اور ان کے انسٹرکٹروں کو بتاتی ہے کہ ان کی تربیتی مشق کامیاب رہی۔ تمام گروپوں کو ختم کرنے کے بعد، انسٹرکٹروں نے انہیں اپنی کلاس میں جمع کیا- ایک عمارت جو مختلف اقسام کی بارودی سرنگوں، راکٹوں، آئی ای ڈی اور تربیت تراکیب کے بارے میں پوسٹروں جن پر ان کی زندگی کا دارومدار ہے سے بھری ہے۔ یہاں انسٹرکٹر اپنے آخری ہفتے کے بارے میں بات کرتے ہیں؛ آئندہ آنے والےامتحانات، کورس کے بعد کی زندگی اور کون ایک انسٹرکٹر بننے کے لیے مزید تربیت کے لئے واپس آنا پسند کرے گا۔ بہادر نے کہا کہ میں بہت خوش ہوں۔ یہ میرے لئے بہت اطمینان بخش ہے ۔ جب طالب علم سب سے پہلے یہاں آۓ تھے، انھیں نہیں معلوم تھا کہ کون سی مائین کن سی تھی، ڈٹیکٹر کیا تھے ... میں نے صرف اس وقت دیکھا تھا۔ ان لوگوں نے سیکھ لیا ہے۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















