| اے-این-ایس-ایف نے اطلاعات کی جنگ میں قیادت سنبھالی |
منجانب Sgt. William Begley, 11th Public Affairs Detachment
صوبہ لوگر، افغانستان – محمد معصوم، ریڈیو یونٹی 94.9 ایف-ایم جو کہ صوبہ لوگر سے نشر ہوتا ہے کا ڈسک جاکی، 16 مئی کی نشریات کر تے ہوۓ۔ معصوم اپنے ریڈیو شو میں ایسی معلومات، جو لوگوں کے لیۓ فائدہ مند ہوتی ہیں، کو پہنچانے میں کے لیۓ لوگوں کی فون کالز لیتا ہے۔ (فوٹو منجانب یو-ایس آرمی سارجنٹ ولیم بیگلی، 11ویں پبلک افئیرز ڈیٹیچمنٹ)
صوبہ لوگر، )افغانستان 22 مئی، 2012) – جیسے جیسے افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی کا وقت قریب آ رہا ہے، افغان نیشنل سکیورٹی فورسز معلومات کی جنگ میں آگے آ کر قیادت سنبھالنے کے لیۓ سخت محنت کر رہی ہے۔ منی اپولس کے مقامی اور امریکی فوج کے سارجنٹ کیون کملن، جو ٹیکٹائل ملٹری انفارمیشن سپورٹ آپریشنز ڈی-ای-ٹی۔1355 کے ٹیم لیڈر ہیں، نے کہا کہ اے-این-اے کے جوان یہاں بالکل صحیح کام کر رہے ہیں، انہیں اس علاقے کے بارے میں سب معلوم ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ معلومات کی فراہمی کا کون سا طریقہ سب سے بہتر کام کرے گا۔ اے-این-ایس-ایف اپنے اتحادی شراکت داروں کے ساتھ مل کر مقامی آبادی کا اعتماد حاصل کرنے اور ساکھ قائم کرنے کی غرض سے مواصلات کے مختلف طریقے سیکھنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ یو-ایس آرمی کیپٹن برائن گور، مینکاٹو، مینیسوٹا کے مقامی، اور ٹیکٹائل ایم-آئی-ایس او ڈی-ای-ٹی۔ 1355 کے کمانڈر، نے کہا کہ اس طریقوں میں سے کچھ کاغذی اشیاء کی تقسیم، اہم لیڈروں سے آمنے سامنے گفتگو، تعلقات قائم کرنا، اور ریڈیو کی نشریات کا استعمال شامل ہیں۔ نشریات سب سے زیادہ مؤثر طریقوں میں سے ایک ہے کیونکہ سالوں سے، مختلف اقسام کے ریڈیو مقامی افغان معاشرے میں تقسیم کیے گۓ ہیں۔ افغان نیشنل آرمی کے کمانڈر امریکی فوج کے ساتھ شراکت میں آر-آئی-اے-بی کو پیغامات بھیجنے کے لیۓ استعمال کرتے ہیں، مثلاً غیر فعال بم اور خودساختہ دھماکہ خیز آلات کے معلومات کے بارے میں پیغام عوام تک بھیجنے کے لیۓ۔ لوگر صوبے میں ریڈیو بنیادی طریقہ کار جو افغانی خبریں اور دیگر معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، کیونکہ وہاں بہت کم یا کوئی بھی ٹی- وی اسٹیشنز نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اے-این-ایس-ایف کے ساتھ مل کر آر-آئی-اے-بی میں شامل ہو کر شوز میں کئیں فون کالز حاصل کی ہیں۔ تو جب مقامی لوگ اسٹیشن کے نمبر پر کال کرتے ہیں تو وہ مقامی حکام سے اپنے زیادہ تر سوالات کے جواب حاصل کر سکتے ہیں۔ محمد معصوم، ریڈیو یونٹ 94.9 ایف۰ایم، جو لوگر صوبے میں ہے، میں ایک ڈسک جاکی ہیں، اور سات ماہ سے اپنا کام کر رہے ہیں۔ معصوم نے کہا کہ میں ریڈیو شو کے ذریعے لوگوں کی مدد کر سکتا ہوں ۔ اگر لوگوں کے پاس سوالات ہیں تو وہ ہمیں فون کر سکتے ہیں، اور میں انہیں جواب دیتا ہوں۔ معصوم نے کہا کہ وہ افغانستان کے لئے امن اور ایک روشن مستقبل کی امید کرتے ہیں۔ معصوم نے کہا کہ میں اپنے کام سے لطف اندوز ہوتا ہوں کیونکہ یہ مجھے اپنے لوگوں کی خدمت کرنے کا موقع دیتا ہے ۔ میں اپنا کام کر کے افغانستان اور اپنے لوگوں کے لیۓ خوشحالی لانے میں بھی مدد کر سکتا ہوں۔ میں اپنے خاندان کی مدد کر سکتا ہوں کیونکہ میں یہاں پیسہ کماتا ہوں۔ آر-آئی-اے-بی کے ذریعے، اے-این-اے کے کرنل رحیم جان، جو لوگر صوبے میں بھرتی کے انچارج ہیں، نے مئی میں بھرتی میں اضافہ محسوس کیا ہے۔ جان نے کہا کہ پچھلے سال ہم نے مئی میں 47 کو بھرتی کیا تھا۔ لیکن اس سال ہمارے اتحادی دوستوں اور تعلقات بنانے کی اشیاء کی تقسیم کی وجہ سے ہم نے 106 نئے لوگوں کو بھرتی کیا ہے، اور مہینہ تو ابھی ختم نہیں ہوا۔ ہم کم از کم مزید آٹھ کو بھرتی کرنے کی امید کر رہے ہیں جس سے ان کی تعداد کل ملا کر114 بنتی ہے۔ نشریات، جس نے افغان شہریوں کے لیے تفصیلی طور پر اے-این-ایس-ایف میں شامل ہونے کے معیار کے بارے میں ایک سادہ پیغام دیا ہے، کے نتیجے میں بھرتی میں بہت اضافہ ہوا۔ گور نے کہا کہ تعلقات قائم کرنے کے اشیاء، یا آر-بی-آئی، افغانستان کے لیئے فائدہ مند رہا ہے، ۔ تعلقات استوار کرنے اور اعتماد حاصل کرنے میں وقت لگتا ہے۔ اے-این-ایس-ایف عوام میں اشیاء، مثلاً سردیوں میں ان کو گرم رکھنے کے لیۓ کمبل اور ہاتھ سے چکر دے کرچلنے والے ریڈیو کی بیٹری جس سے انھیں ریڈیو کی نشریات حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے، تقسیم کرنے کے زمہ دار ہیں۔ مقامی لوگوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے اور بھرتی میں اضافے کے لیۓ معلومات کے آپریشن کے استعمال کے علاوہ، اے-این-ایس-ایف پیغام رسانی کا استعمال کرتے ہوئے دشمن کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لئے بھی مؤثر رہا ہے۔ باغیوں کا لوگر کے عوام کے دلوں میں خوف پیدا کرنے کا ایک طریقہ رات کے وقت عام لوگوں کو خط پہنچانا ہے۔ رات کے وقت، جب دیہاتی سو جاتے ہیں، تو خطوف کے ذریعے دیہات میں حکومت اور اے-این-ایس-ایف کے بارے میں منفی پیغامات بھیجے جاتے ہیں۔ یو-ایس آرمی کے فرسٹ سارجنٹ مارک میلوٹ، جو 340ویں ٹیکٹیکل ایم-آئی-ایس او کمپنی کے لئے سینئر انلسٹڈ لیڈر اور ولیمز برگ، اوہائیو کے ایک مقامی ہیں، اے-این-اے کو اس مسئلے کا حل نکالنے کے لیئے سراہتے ہیں۔ میلوٹ نے کہا کہ اے-این- اے کو ایک ترکیب سوجھی جسے اعتماد کا خط کہا جاتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر ایک خط ہے جو یہ کہتا ہے کہ جب آپ سو رہے تھے ہم یہاں آپ کی حفاظت کے لئے موجود تھے ۔ تو مقامی افراد دیکھتے ہیں کہ ان کی حفاظت کی جا رہی ہے، اور اس سے ان کو تحفظ کا احساس محسوس ہوتا ہے۔ اعتماد کے خطوط، ان پمفلٹ کے ہمراہ جو آبادی کو یو-ایکس-او اور آئی-ای-ڈی کے خطرات کے بارے میں مطلع کرتے ہیں، کاغذ کی مصنوعات کے ذریعے معلومات کے کچھ طریقے ہیں جو لوگر کے عوام کو اپنی زندگی محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ اے-این-ایس-ایف اور امریکی فوجیوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں۔ گور نے کہا کہ علاقے میں ایک اور بہت بڑا مسئلہ آئی-ای-ڈی کا ہے۔ مقامی لوگوں کو معلوم ہے کہ وہ کیسے دکھتے ہیں؛ انھیں معلوم ہے کہ ان سے دور رہنا ہے ۔ تاہم چھوٹے بچے پھر بھی ان آلات کو دیکھنے میں دلچسپی ظاہر کرتے ہیں، بچے تو بچے ہوتے ہیں۔ اے-این-ایس-ایف نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ یہ پیغام سب تک پہنچ جاۓ کہ صرف افغان سکیورٹی فورسز ہی نہیں بلکہ امریکی فوجی بھی ان آلات کو دھونڈ نکالتے ہیں۔ جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے ہیں، اور 2014 کی واپسی کی تاریخ اور قریب آرہی ہے، انھیں آئی-ای-ڈی سے زیادہ اپنے ملک کے بارے میںجاننے کی ضرورت ہے، اور اے-این-ایس -ایف، جنکی اتحادی افواج نے تربیت کی ہے، وہاں ان کی مدد کو موجود ہو گی۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















