| اے-این-ایس-ایف نے آپریشن شفق کی قیادت سنبھالی |
منجانب Cpl. Anthony Ward Jr., Regional Command Southwest
افغان نیشنل پولیس کے جوان 22 اپریل کو ناد علی، افغانستان میں خشخاش کے کھیتوں کو تباہ کرنے کی تیاری میں ٹریکٹر پر سوار۔ (فوٹو منجانب اینتھونی وارڈ جونئیر)
ناد علی، افغانستان (26 اپریل، 2012) –جنگ کے موسم کی شروعات کے ساتھ، افغان نیشنل آرمی نے لڑائی دشمن تک لے جانے کا ارادہ کیا ہے۔ ایک مشاورتی کردار میں برطانوی فوجیوں کے ساتھ، تھرڈ بریگیڈ کے تمام چھ کندک، 215 اے-این-اے کور اور ان کے ساتھ مقامی پولیس، نے 23 – 18 اپریل کے درمیان ناد علی، افغانستان سے بغاوت کا صفایا اور خشخاش کی کاشت کو ختم کر دیا۔ برطانوی فوج میجر روپرٹ کنگ ایونز، تھرڈ کندک، تھرڈ بریگیڈ، 215 کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد ہمائیوں کے مشیر نے کہا کہ مشن کا مقصد افغان نیشنل سکیورٹی فورسز کی بغاوت اور خشخاش کی کاشت سے علاقے کو صاف کرنے میں مدد فراہم کرنا تھا۔ کنگ ایونز، گرینیڈئیر گارڈز انکرمین کمپنی کے کمانڈر ہیں، جنہوں نے اس پورے پانچ دن کے آپریشن میں اے-این-اے اور افغان نیشنل پولیس کے ساتھ زمین پر ان گنت کلومیٹر کی گشت کی اور جب وہ خشخاش کے کھیتوں کو تباہ کر رہے تھے تو سکیورٹی فراہم کرنے کی ذمہ داری سر انجام دی۔ اے-این-اے اور اے-این-پی فورسز نے تمام آپریشن کے دوران فائرنگ اور خود ساختہ دھماکہ خیز آلات کے ذریعے طالبان کی دھمکیوں کا باقاعدگی سے سامنا کیا لیکن اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے۔ کنگ-ایونز نے کہا ہے کہ ہم نے دشمن کو منتشر کر دیا ہے، ہمیں آئی-ای-ڈی کی ایک بڑی تعداد ملی اور ہم نے ان کو تباہ کر دیا، ہمیں ہتھیاروں کی ایک بڑی تعداد بھی ملی۔ ہم نے کم از کم دو اعلٰٰی سطح کے مطلوبہ شورش پسندوں کو گرفتار کیا۔ میرے خیال میں مجموعی طور پر یہ ایک زبردست کامیابی رہی۔ تمام آپریشن منصوبہ بندی سے لے کر حتمی عملدرآمد کرنے تک افغان قیادت کے تحت کیا گیا تھا، اس بات کا مظاہرہ کرتے ہوۓ کہ افغان سکیورٹی فورسز کس طرح ذمہ داری سنبھالنے کے لیۓ تیار ہے۔ کنگ- ایونز نے کہا کہ میرے خیال میں انہوں نے واقعی ایک اچھا کام کیا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ وہ یہ جانتے ہیں۔ یہ بالکل واضح ہے کہ اے-این-اے اور اے-این-پی کے درمیان بہت اچھی ہم آہنگی ہے جو واضح طور پر افغانستان میں حکومت کے مشن کو آگے بڑھا رہی ہے اور اپنی پہنچ کے بڑے پیمانے پر توسیع کر رہے ہیں۔ گزشتہ سالوں میں گرینڈئیر گارڈس نے اے-این-ایس-ایف کے ساتھ کام کیا ہے، جس کی وجہ سے انھوں نے اس فوج کو ایک خود مختاراور قابل تنظیم بنتے ہوئے دیکھا ہے۔ سارجنٹ مائیکل فوگ، 12ویں پلاٹون، انکرمین کمپنی کے سیکشن کمانڈر ، جو قبل ازیں 2010 ء میں یہاں تعینات رہ چکے ہیں، نے کہا کہ اے-این-اے کے ساتھ کام کرنا بہت اچھا تھا، میں ان کے ساتھ پہلے بھی کام کر چکا ہوں۔ یہ تبدیلی، اس وقت کے مقابلے جب میں پہلے یہاں آیا تھا اور جو وہ اب بن گۓ ہیں، ، دیکھ کر واقعی بہت خوشی ہوئی ۔ وہ واقعی میں بہت بہتر ہیں۔ برطانوی افواج نے اے-این-اے اور اے-این-پی کی حکمت عملی اور طریقہ کار میں ایک نمایاں فرق کا مشاہدہ کیا اور اس یقین کو اور بھی قائم بنایا کہ اے-این-ایس-ایف قیادت لینے کے لئے اور افغانستان کو ایک محفوظ مستقبل میں لے جانے کے لیۓ تیار ہے۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















