| اے-این-پی کی قیادت سنبھالنے کی تربیت |
منجانب Spc. Darryl L. Montgomery, 319th Mobile Public Affairs Detachment شئیرمتعلقہ خبریں
تھرڈ پلاٹون کے ایک امریکی فوجی، براوو کمپنی، تھرڈ بٹالین، 21ویں انفنٹری رجیمنٹ، 25ویں انفنٹری ڈویژن، فارورڈ آپریٹنگ بیس شوجا، صوبہ قندھار، افغانستان کے قریب 1 فروری کو افغان نیشنل پولیس کے ساتھ ایک تربیتی گشت کے دوران وقفہ لیتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب سارجنٹ ڈیرل مونٹگمری)
فارورڈ آپریٹنگ بیس شوجا، افغانستان (7 فروری، 2012) یہاں تعینات فوجی افغان نیشنل پولیس کی مختلف حربوں اور تراکیب کی تربیت دے رہے ہیں جو ایک بار اتحادی افواج کے افغانستان چھوڑنے پر کام آئیں گی۔ اے-این-پی اور امریکی فوجیوں نے 1 فروری کو ایک قریبی گاؤں میں ٹریننگ کے طور پر ایک گشت کے علاقے میں اپنی موجودگی کو ظاہر کرنے کے لئے مل کرکام کیا ۔ براوو کمپنی کی تھرڈ پلاٹون، تھرڈ بٹالین، 25ویں انفینٹری ڈویژن کے 21ویں انفنٹری رجیمنٹ اور ٹاسک فورس باب کیٹ سے منسلک ہے۔ سارجنٹفرسٹ کلاس گیبریل برور، تھرڈ پلاٹون کے پلاٹون سارجنٹ نے کہا کہ ان کے فوجی پانچ ماہ سے اے-این-پی کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ جب پلاٹون آنے والے مہینوں میں اپنے گھر واپس جائیں تو یہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے پانچ ماہ پہلے ان کے ساتھ کام کرنا شروع کیا تھا تو وہ واقعی زیادہ نہیں جانتے تھے۔ جب سے ہم نے مل کر کام کرنا شروع کیا تب سے ہم نے ان کو مختلف مہارتوں اور تکنیکوں کی تربیت دی ہے جو انہیں وقت آنے پر اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے میں مدد دیں گیں۔ ورنون، فلوریڈا کے مقیم بروور نے کہا کہ افغان نیشنل پولیس کو طبی امداد، زمینی نیویگیشن، گشت، اور خود ساختہ دھماکہ خیز آلات کی تلاش اور ان سے نمٹنےکی تربیت دی گئی ہے۔ بروور نے جاری رکھتے ہوۓ کہا کہ آج کی گشت آخری تھی ۔ پولیس گشت کی قیادت کر رہی تھی اور ان کا کمانڈر فارمیشن کا انچارج تھا۔ ہم صرف رہنماؤں کے طور پر وہاں تھے۔ تھرڈ پلاٹون کے ریڈیو/ ٹیلی فون آپریٹر سپیشلست ولیم رنگو نے کہا کہ انہوں نے ہماری نقالی شروع کر دی ہے۔ یہ ظاہری طور پرابھی بہت اچھا نہیں ہے لیکن جب آپ مڑ کر یہ دیکھیں کہ وہ کہاں تھے جب ہم نے ان کے ساتھ کام کرنا شروع کیا تھا اور اب کہاں ہیں، توفرق بہت بڑا ہے! بروور نے کہا کہ جب امریکی اے-این-پی کی چوکی پر پہنچے تو وہاں کے پولیس اہلکار اپنی اپنی جگہوں پر موجود تھے جیسے کہ انہیں ہونا چاہیے۔ وہ اپنا فرض بخوبی انجام دینا چاہتے ہیں اور اپنے ملک کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں۔ اے-این- پی کا ایک پولیس اہلکار، جس نے فورس میں افغانستان کے لیۓ اپنی خدمات پیش کرنے کے لیۓ شمولیت اختیار کی تھی، اس نے کہا کہ وہ آنے والے سالوں میں افغانستان کو لوگوں کے لیۓ ایک محفوظ جگہ بنتا دیکھنا چاہیں گے۔ حالانکہ براوور اور ان کی پلاٹون یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہاں اے-این-پی ایک کامیاب کہانی ہے لیکن وہ پھر بھی ان کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے تاکہ ان کو اپنے طور پر کام کرنے کے لیۓ تیار کر سکیں۔ نارمن، اوکلاہوما کے مقیم رنگو نے کہا کہ وہ اپنے طور سے وہاں کام کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ہم پر انحصار نہیں کرنا چاہتے۔ انھوں نے ماضی میں ہم سے زمین میں گڑھے ہوئے بموں کو دھونڈ نکالنے کے آلات کی مانگ کی تھی تاکہ وہ باہر خود اکیلے جا سکیں اورانہیں بارودی سرنگوں کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ بروور نے کہا کہ جب ہم اس علاقے کو چھوڑ کر جائیں گے تو وہ کاروائیاں خود اکیلے کرنے کے لئے تیار ہوں گے۔ جب افغان عوام کسی ایک دوسرے کو افغان کو قیادت کرتے دیکھتے ہیں تو ان میں یہ اعتماد پیدا ہوجاتا ہے کہ ان کے اپنے لوگوں کے درمیان ہم ایک قابل فورس موجود ہے۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















